حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم کے پٹرول پر نام نہاد ریلیف کو ناکافی قرار دے دیا ، لیوی کے مکمل خاتمہ تک دھرنے رکیں گے نہ اسلام آباد مارچ

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری ملک گیر دھرنوں کے انتیسویں روز بٹ خیلہ اور تیمر گرہ میں بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے پٹرول پر وزیراعظم شہباز شریف کے نام نہاد ریلیف پیکج (Relief Package) کو ناکافی قرار دیا اور حکومت پر واضح کردیا کہ لیوی کے مکمل خاتمہ تک احتجاج جاری رہے گا۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ بیس ستمبر کا اسلام آباد مارچ روکنا ہے تو حکومت فی الفور پٹرول پر بھتہ ختم کرے اور جمہوری اور پرامن جدوجہد کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے عوامی مطالبات تسلیم کرے۔ جلسوں سے صوبائی امیر عنایت اللہ خان اور امیر مالاکنڈ شہاب حسین نے بھی خطاب کیا۔
لاہور، کراچی ، پشاور اور ملک کے دیگر چالیس کے قریب مقامات پر جاری دھرنوں میں موجود ہزاروں کی تعداد میں شریک مظاہرین نے بڑی سکرینوں پر امیر جماعت اسلامی کے خطاب کو لائیو سنا۔ حافظ نعیم الرحمن نے قبل ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا، وہ پیر کی صبح لاہور میں جاری دھرنے کے مقام پر اہم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران تحریک کے آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق عوام کو آگاہ کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمن دھرنوں کے شرکاء کی استقامت کو سراہا اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کی جانب سے حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارکنان بھی دھرنوں میں شریک ہورہے ہیں جس پر جماعت اسلامی ان کی شکرگزار ہے ، یہ جدوجہد کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں عوام کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پٹرولیم لیوی کے عوام مسئلہ کو اجاگر کرکے اسے میڈیا میں مرکزی بحث بنادیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے ملک میں جاری بدامنی اور بالخصوص خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع ، مالاکنڈ ڈویژن ، بلوچستان اور آزاد کشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اگر حکمران جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے اور اسمبلیوں میں اپنی تنخواہیں بڑھانے کے لیے مل جاتے ہیں تو ملک میں قیام امن کے لیے مل کر صورت حال کا حل کیوں نہیں نکالتے۔ آزاد کشمیر کے حالات بھی ٹھیک نہیں ، کراچی میں بھتہ خوری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے، مسلط حکمران طبقہ نے ہر شعبہ تباہ کردیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو دوٹوک انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نہ دھرنے ختم کر رہے ہیں نہ اسلام آباد مارچ سے دستبردار ہوں گے، حکومت کو عوام کو مکمل ریلیف دینا ہوگا، پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم، حکمرانوں کی شاہ خرچیاں کم اور سودی نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا، مذاکرات کی میز پر حکمران عوام کی آواز نہیں سنیں گے تو سڑکوں پر احتجاج اور ان کے گھیراؤ کے ذریعے فیصلے ہوں گے۔ 20 ستمبر کو ہر قافلہ اور ہر کارواں اسلام آباد کی طرف جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دھرنوں میں عوام کی شرکت بڑھ رہی ہے، یہ عوامی دباؤ اور کارکنوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ حکومت پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی، تاہم موجودہ پیکیج ناکافی ہے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ گلی گلی، محلے محلے اور چوکوں چوراہوں میں عوام سے رابطہ کریں اور انہیں بتائیں کہ جماعت اسلامی کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ غریب، متوسط اور مہنگائی کے عذاب میں مبتلا عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد نے ملک کے بچے بچے کو یہ سمجھا دیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی اصل قیمت سے تعلق نہیں، حکومت اپنی نااہلی اور ٹیکس اہداف پورے نہ کرنے کی ناکامی چھپانے کے لیے عوام کی جیبوں پر مختلف ٹیکسوں کے ذریعے ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ ایف بی آر اپنے اہداف پورے نہیں کرتا، کرپشن اور لوٹ مار ہوتی ہے اور پھر اس کا بوجھ پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں کے ذریعے عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے کلائمیٹ سپورٹ لیوی (Climate Support Levy) کے نام پر اربوں روپے جمع کیے، مگر عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس رقم سے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔ گزشتہ برس چند گھنٹوں کے اندر سیلاب نے تباہی مچائی، اگر جدید آلات اور مؤثر نظام موجود ہوتا تو لوگوں کو بروقت خبردار کیا جاسکتا تھا۔
حافظ نعیم الرحمن نے سودی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کے مطابق سود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے مترادف ہے، اس لیے قوم کو اس لعنت سے نجات دلانا ضروری ہے۔ اگر حکومت سودی شرح میں پہلے مرحلے میں تین فیصد کمی کرے تو قومی خزانے کو بڑی رقم حاصل ہوسکتی ہے اور پٹرول کی قیمت میں فوری نمایاں کمی ممکن ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک طرف غریب عوام پٹرول، بجلی اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور دوسری طرف حکمران طبقہ بڑی گاڑیوں، مفت پٹرول، مفت بجلی اور مہنگے سرکاری وسائل سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ مریم نواز کی جانب سے گیارہ ارب روپے کا جہاز خریدنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ عام آدمی اور سیاسی کارکن کے لیے قابل قبول نہیں کہ عوام سے بھتہ لے کر حکمران اپنی عیاشیوں پر خرچ کریں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں اشرافیائی نظام نے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کر رکھا ہے۔ آٹا، چینی، بینک، آئی پی پیز، ریفائنری اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مافیاز حکومت کے لوگوں سے مل کر عوام کی خون پسینے کی کمائی چوس رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ان تمام مافیاز کے خلاف جدوجہد کو تیز کرنا اپنا فرض اور عبادت سمجھتی ہے تاکہ عوام کو معاشی آزادی اور حقیقی ریلیف مل سکے۔ حکومت اگر اسلام آباد مارچ روکنے کے لیے کنٹینر کھڑے کرے گی تو جماعت اسلامی کے کارکن راستے تلاش کرکے آگے بڑھیں گے۔ ہمیں مشینیں اور بلڈوزر لے جانے کی ضرورت نہیں ، عوامی سیلاب کے آگے کچھ نہیں ٹھہرے گا۔ طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور عام عوام کا اتحاد انقلاب کی طرف پیش رفت ہے۔ ہم اللہ کی مخلوق کے لیے نکلے ہیں، ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے سائے میں رکھے گا۔ انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تیار ہوجائیں، ان شاء اللہ اسلام آباد پہنچیں گے، تمام رکاوٹیں عبور کریں گے اور انقلاب کا پرچم آگے بڑھائیں گے۔