گورنر راج کے خلاف عوامی احتجاج نہ ہونا سوالیہ نشان ہے، لیوی پر حکومتی و جماعت اسلامی کی کمیٹیوں کا اجلاس کل ہوگا، لیاقت بلوچ

خیبر پختونخوا میں امن قائم اور معدنیات پر صوبے کا حق تسلیم کیا جائے، قائم مقام امیر جماعت اسلامی کی پشاور میں پریس کانفرنس

2 منٹ
قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں
قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں

قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف عوامی احتجاج نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوامی ردعمل نہ آنے سے غیر مقبول اقدامات کو تقویت ملی ہے۔ پی ٹی آئی کو اپنی حکومت کے خاتمے کے خلاف عوام کے ساتھ سڑکوں پر نکلنا چاہیے تھا۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہر قیمت پر عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ صوبے کے متاثرہ علاقوں میں امن کا قیام اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جانے چاہییں۔نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسر ابراہیم، امیر کے پی وسطی عبدالواسع، امیر ہزارہ عبدالرزاق عباسی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت، اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی ایک وسیع خلیج موجود ہے، جسے طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ پسند اور ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا ڈاکٹرائن ختم ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا ایک اہم اور سنگین مسئلہ معدنیات کا ہے۔ معدنی وسائل پر صوبے کی ملکیت تسلیم کی جائے اور اس حوالے سے تمام معاملات شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائے جائیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ افغان حکومت کو عالمی سازشوں کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ دونوں ملک سفارتی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں تاکہ تعلقات میں بہتری آسکے۔

قائم مقام امیر جماعت اسلامی نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے عندیے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ان انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امن و امان کی صورتحال کو جواز بنا کر صوبے کے کسی بھی حصے کو بلدیاتی نمائندگی سے محروم نہ رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی آئی پی پیز اور پٹرولیم لیوی کے خلاف عوامی احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔ جماعت اسلامی کا اسلام آباد لانگ مارچ وزیراعظم کی درخواست پر مؤخر کیا گیا تھا۔ وزیراعظم سے ملاقات میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پیداواری لاگت میں کمی، معیشت کی بہتری اور عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

لیاقت بلوچ نے بتایا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس کل ہو رہا ہے۔ اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے کا اعلان نہیں کرتی تو جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپوزیشن میں فرنٹ لائن (Front line) پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت بھی اس کی مخالفت کی اور 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ آج بھی 28ویں آئینی ترمیم کے نام پر ہائبرڈ نظام کو مزید تقویت دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کی جماعت اسلامی مخالفت کرے گی۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کو ریلیف دلانے کے لیے ہے۔