جماعت اسلامی نے حکومتی ٹیم کو پٹرولیم لیوی کے خاتمہ پر چھ تجاویز دے دیں،اسلام آباد میں لیاقت بلوچ کی سربراہی میں وفد کے احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی سے مذاکرات

جماعت اسلامی اور حکومت کے وفود کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف کے معاملے پر مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے، جس میں جماعت اسلامی نے حکومتی کمیٹی کو لیوی ختم کرنے کے لیے چھ اہم تجاویز پیش کر دی ہیں، اگلا مذاکراتی دور جمعرات کو ہوگا۔

مذاکرات کے دوران جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ نے کی اور ان کے ہمراہ ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ، امیر اسلام آباد  نصراللہ رندھاوا ، نوید علی بیگ اور شاہد نعیم موجود تھے ۔ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی، جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی رانا ثنا اللہ خان وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی شامل تھے۔

مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے بنائی گئی ٹیم کے سامنے ہم نے اپنی چھ تجاویز رکھ دی ہیں اور حکومت کو بتا دیا ہے کہ پٹرولیم لیوی سے معیشت شدید متاثر ہو رہی ہے، جو اس وقت پٹرول اور ڈیزل پر براہ راست 80 روپے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک بھر میں ہمارا پرامن دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔ لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ بنیادی مقصد عوام کو ریلیف دینا ہے اس لیے حکمران اپنے اخراجات میں کمی کریں کیونکہ بجٹ میں ایسی گنجائش موجود ہے جس سے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ سابقہ آئی پی پیز احتجاج اور بلوچستان لانگ مارچ کے ساتھ مذاکرات میں طے شدہ وعدوں پر عمل نہیں ہوا، اور اس بات پر زور دیا کہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم کی قیمتیں طے نہیں کی جانی چاہئیں کیونکہ سبسڈیز ( Subsidies ) دینے کا نظام ناکام ہو چکا ہے۔

 وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور ان سے تجاویز مانگی تھیں جو اب موصول ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ اداروں سے رائے حاصل کی جائے گی اور اگر کوئی تجویز ناقابل عمل ہوئی تو وہ بھی جماعت اسلامی کے سامنے رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کبھی نہیں چاہتی کہ عوام پر بوجھ پڑے لیکن دنیا بھر کی معیشتیں ایران جنگ سے متاثر ہوئی ہیں اور بعض جگہ حکومت مجبور ہوتی ہے، تاہم خطے میں کشیدگی کم ہوگی تو تیل کی قیمتیں خودبخود کم ہوں گی۔