لیاقت بلوچ سے احسن اقبال کا رابطہ، حکومت، جماعت اسلامی مذاکرت جمعہ کو ہوں گے
مذاکرات میں وزیراعظم، امیرجماعت اسلامی پاکستان ملاقات کا شیڈول طے کیا جائے گا

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ احسن اقبال نے رابطہ کیا اور طے پایا کہ پٹرولیم لیوی پر جماعت اسلامی پاکستان اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات جمعہ تئیس اکتوبر کو ہوں گے۔ لیاقت بلوچ نے اس ضمن میں جماعت اسلامی کی کمیٹی کا اجلاس بھی اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے۔
ٹیلی فون رابطہ میں احسن اقبال نے کہا کہ دونوں اطراف کی کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس منگل اور بدھ کو طے پایا تھا لیکن حکومت کی ہنگامی مصروفیات کی وجہ سے اب یہ اجلاس 23 اکتوبرکو پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہوگا، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی ملاقات کا شیڈول طے کیا جائے گا۔
مزید برآں لیاقت بلوچ نے کہا کہ 23 اکتوبر کو پورے ملک کے ضلعی ہیڈکوارٹرز پر پٹرولیم لیوی بھتہ کے خاتمہ کےلئے بھرپور پُرامن احتجاج ہوگا۔ جماعت، اسلامی کا فیصلہ ہے کہ پُرامن احتجاج بھی جارہے گا اور حکومت سے مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔ پٹرولیم لیوی کے ناجائز بوجھ کا خاتمہ جماعتِ اسلامی کا ذاتی ایجنڈا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دِلانے، معیشت کا پہیہ چلانے، ناقابلِ برداشت پیداواری لاگت میں کمی لانے کی عوامی جدوجہد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ حکمران کبھی بھی آسانی سے ناجائز محصولات چھوڑںے کےلئے تیار نہیں ہوتے اور ریلیف کے کسی بھی اقدام کا کریڈٹ احتجاج کرنے والوں کو نہیں دیتے، یہی وجہ ہے کہ عوامی دھرنوں کے دباؤ پر حکومت نے عوام کو ریلیف دیا لیکن بھونڈے اور غلط طریقہ کار سے ریلیف کا ایسا اقدام کیا جس سے قومی معیشت پر کوئی مثبت اثر نہ ہوا۔ آئی پی پیز اور پٹرولیم لیوی کے قومی معیشت اور عام صارفین کے علاوہ زراعت، صنعت، تجارت، گھریلو صنعت پر ناقابلِ برداشت بوجھ میں کمی سے ہی معیشت کا پہیہ چلے گا، جس سے بےروزگاروں کی فوج میں کمی آئے گی۔ سیاسی اور معاشی بحرانوں کی موجودگی میں حکمران کچھ بھی کرلیں استحکام نہیں آئے گا۔ حکومتوں اور مقتدر بالادست قوتوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوجانا چاہئے اور بدنیتی پر مبنی آئینی اقدامات سے سیاسی بحران کے اِلاؤ پر پٹرول نہ چھڑکے؛ قومی ڈائیلاگ، قومی ترجیحات اور ملک و مِلّت کو بحرانوں سے نکالنے کےلئے اپنا قومی کردار ادا کریں۔
لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ جماعتِ اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی نے آئی ایم ایف اور قومی بجٹ کی موجودگی میں تمام راستوں اور گنجائش کی نشاندہی کردی ہے، اب یہ وزیراعظم اور اُن کی ٹیم پر منحصر ہے کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کریں، عوام کو ریلیف دیں، دوسری صورت میں جماعتِ اسلامی کے لانگ مارچ کا ملتان میں پڑاؤ اسلام کی طرف روانہ تو ہوگا۔