پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ نہ ہوا تو 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہوگا، وزیراعظم کا 100 روپے ریلیف مسترد، عوام کو حقیقی فائدہ صرف پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سے ہوگا

نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی پیٹرول پر وزیراعظم کے اعلان کردہ 100 روپے ریلیف کو یکسر مسترد کرتی ہے، یہ ریلیف کسی صورت پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ جب تک ’’بھتہ نما‘‘ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ نہیں ہوتا، حکومت کی جان نہیں چھوٹے گی، اور ملک بھر سے عوام 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب رخ کریں گے۔

جماعتِ اسلامی کی مذاکراتی ٹیم اور حکومتی ٹیم کے درمیان بات چیت کا تیسرا دور اسلام آباد میں ہوا۔ جماعتِ اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کی، جبکہ مذاکراتی ٹیم کے دیگر اراکین میں سید فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، عنایت اللہ خان اور ضیاءالدین انصاری شامل تھے۔ حکومت کی جانب سے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ توانائی اویس خان لغاری، وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے حکام کے ہمراہ بریفنگ دی۔

مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج مذاکرات کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور آئی پی پیز کے حوالے سے وزیراعظم کی قائم کردہ ٹاسک فورسز نے تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے آئی پی پیز کے معاملے پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔

لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی وزیراعظم کے اعلان کردہ 100 روپے ریلیف کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریلیف کسی صورت پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ حکومتی حکام کی تمام بریفنگز سنی جا رہی ہیں، لیکن جماعتِ اسلامی کے احتجاج اور 20 ستمبر کی کال کا واحد مقصد پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔ حکومت عوامی دباؤ کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ عوام کو حقیقی فائدہ صرف پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سے ہی پہنچ سکتا ہے۔

نائب امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ لیوی اور ٹیکسز کی مد میں عوام پر 130 روپے کا بوجھ ڈالا گیا ہے، اور اگر یہ بوجھ کم کیا جائے تو عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکتا ہے۔ انہوں نے حکمران طبقے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طبقہ اپنی عیاشیاں ترک کرنے کے لیے تیار نہیں، اور شوگر مافیا میں بھی انہی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں جنہیں مسلسل نوازا جا رہا ہے۔

لیاقت بلوچ نے وزیراعظم کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ریلیف کے یہ نمائشی اقدامات عوام کے لیے کسی کام کے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں اکٹھی کی گئی رقم بھی اصل مقصد پر خرچ کرنے کے بجائے ہڑپ کر لی گئی۔

آئی پی پیز کے معاملے پر بریفنگ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر اویس لغاری اور جنرل ظفر نے آگاہ کیا کہ 54 آئی پی پیز کے معاملات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، جبکہ 36 آئی پی پیز کو بھی حتمی مرحلے میں لانے کی بات کی گئی۔ حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے 4,600 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔ لیاقت بلوچ نے سوال اٹھایا کہ اگر اتنی بڑی بچت ہوئی ہے تو اس کا فائدہ عوام کو کیوں منتقل نہیں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ آج کی بریفنگ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جماعتِ اسلامی کے پیش کردہ اعداد و شمار حکومتی دستاویزات سے ہی درست ثابت ہو رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ’’بھتہ نما‘‘ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ نہیں ہوتا، حکومت کی جان نہیں چھوٹے گی، اور ملک بھر سے عوام اسلام آباد کی جانب رخ کریں گے۔ جماعتِ اسلامی نے بدترین لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کا مطالبہ بھی دہرایا۔