جماعت اسلامی کا جامعہ کراچی کو 8بسوں کا تحفہ،حافظ نعیم الرحمن کا طلبہ کے لیے 2ہزار تعلیم کارڈ جاری کرنے کا اعلان

ہمارے بلدیاتی نمائندے محدود وسائل واختیارات کے باوجود کراچی کی تعمیر وترقی میں مصروف ہیں،حافظ نعیم کا تقریب سے خطاب

4 منٹ

جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات کے ٹرانسپورٹ مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی کے ٹاؤن کی جانب سے 8بسوں کا تحفہ دیا گیا ہے اور امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے طلبہ و طالبات کے لیے 2ہزار تعلیم کارڈ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے طلبہ و طالبات کے بہت سے مسائل حل ہوسکیں گے، حافظ نعیم الرحمن نے جمعرات کے روز جامعہ کراچی میں 8بسیں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے حوالے کرنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندے محدود وسائل واختیارات کے باوجود کراچی کی تعمیر وترقی میں مصروف ہیں، جماعت اسلامی آئندہ بھی کراچی یونیورسٹی کو یہ تحفہ دے گی،

جامعہ کراچی کے طلبا پاکستان کا مستقبل ہیں،انہیں ہی ملک کی باگ ڈورسنبھالنی ہے،پچھلے ادوار میں جامعہ کراچی میں 8ہزار طلبا کے لیے 125پوائنٹس چلاکرتے تھے لیکن آج45ہزارسے زائد طلبا و طالبات کے لیے کوئی مناسب ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں ہے،ملک میں تعلیم کا نظام چند ہاتھوں تک محدود ہوگیاہے، غریبوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے، اس وقت تمام جامعات کا برا حال ہے، لیکن کراچی یونیورسٹی کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جھاڑجھنکار کا دوسرا نام کراچی یونیورسٹی رکھ دیا گیاہے،سندھ حکومت گرانٹ نہیں دیتی، طلبا کو اپنے حقوق کے لیے موثر آواز اٹھانا ہوگی، جماعت اسلامی نے ہمیشہ طلبہ و اساتذہ کے مسائل کے حل کے لیے ان کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی دے گی،تقریب سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی،کراچی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری معروف بن رؤف، اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم سمیر الحق و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پراپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،9ٹاؤن چیئرمین بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ طلبہ یونین کانام سنتے ہی حکمرانوں پر پریشانی طاری ہوجاتی ہے کہ طلبہ متحد و منظم ہوں گے تو اپنا حق لے کر رہیں گے، اگر طلبا کوہر سال اپنے  نمائندے منتخب کرنے کا اختیار ملے تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے، طلبہ کوتقاریر،مباحثے اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ملے گا، طالبات بھی آگے آئیں گی، اچھے اور سلجھے ہوئے لوگ ہمارے معاشرے کو ملیں گے، 42سال سے ملک میں طلبہ یونین پر پابندی ہے اس وجہ سے جمہوریت کی نرسری کو پنپنے کا موقع نہیں مل رہا اور اسی وجہ سے ملک میں پڑھا لکھا طبقہ سیاسی میدان میں آگے نہیں آپارہا، طلبہ کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے اور  طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں،سیاست عوامی خدمت اور عبادت کانام ہے لیکن آج بدقسمتی سے سیاست کے میدان میں وڈیروں اور جاگیرداروں نے قبضہ کررکھا ہے،انہوں نے کہا کہ ہر طالب علم ایک لیٹر پیٹرول پر130روپے ٹیکس دیتا ہے جس میں 80روپے لیوی بھتہ ٹیکس شامل ہے، جس کا پیٹرولیم کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اگر یہ بھتہ لیوی ختم ہوجائے تو پیٹرول کی قیمت میں خاطر خواہ کمی آجائے گی جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت آگے بڑھے گی،

 حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ الخدمت بنو قابل پروگرام میں اس وقت پورے ملک سے تقریباََ 17لاکھ لوگ رجسٹرہوچکے ہیں، ہم بنو قابل پروگرام کو اے آئی کی جدید   ٹیکنالوجی سے بھی ہم آہنگ کریں گے، بد قسمتی سے حکمرانوں کی غفلت و لاپرواہی سے ملک میں تعلیمی ادارے منشیات کے اڈے بنتے جارہے ہیں، کوئی مثبت سرگرمی نہیں ہے،جماعت اسلامی انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف لائے گی۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبا جامعہ کراچی نے اپنے سلوگن”اپنی جوبھی کوشش ہو،جامعہ کے خاطر ہو“ کو ایک مرتبہ پھر حقیقت کا روپ دیاہے، جماعت اسلامی کا کراچی یونیورسٹی کو 8بسوں کا تحفہ دینااختیار ات و وسائل سے بڑھ کر کام کرنے کی شاندار مثال ہے،معاشرے کے باشعور طبقے کو آگے لانے کے لیے طلبا یونین کے الیکشن بہت ضروری ہیں،  طلبہ یونین اور ان کے منتخب نمائندے طلبا مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اگر طلبا کے مسائل کا کوئی حل ہے تو وہ طلبہ یونین کے الیکشن ہیں، طلبا ملک و قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، آگے جاکر انہیں ہی اس کو سنبھالنا ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ اسٹوڈنٹس یونین الیکشن کے حوالے سے ایک منظم جدوجہد کی جائے، شہر کراچی اور جامعہ کراچی کے حقوق کے لیے جماعت اسلامی ہمیشہ آواز بلند کرتی رہے گی۔

وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے کہا کہ جامعہ کراچی میں 47ہزار طلبا روز آتے اور جاتے ہیں، جماعت اسلامی کے ٹاؤن کی طرف سے دی گئی ان 8بسوں کو ملاکر جامعہ کے پاس  کل 33بسیں ہوں گی جبکہ جامعہ کراچی کی صرف طالبات کے لیے کم ازکم 100بسیں درکار ہیں،ہم امیر جماعت اسلامی پاکستان کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے طلبا کی اس مشکل کا حل نکالنے کے قدم اٹھایا، جامعہ صرف عمارتوں یا ٹرانسپورٹ کا نام نہیں ہوتی بلکہ جامعہ نام ہوتی ہے اس عزم کا جو تحقیق کی سہولتیں فراہم کرتی ہے،ہم جامعہ کی ترقی کے لیے مسلسل مختلف اقدامات کررہے ہیں،جامعات ملک وقوم کو مستقبل کے معمار تیار کرکے دیتی ہیں، آجکل تعلیم کے شعبے کو تجارت بنالیا گیاہے،ہمیں جامعہ کی بہتری کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا۔