ٹال مٹول جاری رہی تو آج حکومت سے مذاکرات کا آخری دور ہوگا، لیوی ختم کی جائے، پٹرول پر نام نہاد ریلیف اور لاک ڈاؤن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، مریم طیارہ استعمال کیس کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے ٹال مٹول جاری رکھی اور سیدھے طریقے سے پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو آج مذاکرات کا آخری دور ہوگا ، لاک ڈاؤن ، پٹرول پر نام نہاد ہفتہ وار ریلیف اور روزانہ کی بنیادوں پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ مریم طیارہ کیس کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر کراچی منعم ظفر اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرول پر نام نہاد ریلیف حکومت کا پرانا طریقہ واردات ہے ، یہ قوم کو لائنوں میں کھڑا اور مصروف کرکے کوئی اور کاروائی ڈالیں گے، سالانہ پندرہ سو سڑسٹھ ارب کی لیوی اکٹھی کرکے پچیس ارب کا ریلیف مونگ پھلی کے دانہ کے مترادف ہے ۔ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے بھی واضح کردیا ہے کہ پٹرول تقسیم کے مجوزہ طریقہ کار پر عمل درآمد مشکل ہے ، ایک طرف پٹرول پر ہفتہ وار پانچ سو روپے کے پیکج کا اعلان کیا گیا ہے دوسری جانب ڈیزل کی قیمتیں آسمان پر چڑھا دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے نام پر چاروں صوبوں میں پولیس کو ایکٹو (Active) کردیا گیا ، یہ پولیس کو امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے کی بجائے پروٹوکول یا اسی طرح کے بے کار کاموں پر لگا دیتے ہیں ،لاک ڈاؤن کے نام پر تاجروں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے ریفائینریز سمیت ہر کوئی تنگ ہے، اس طریقہ کو بدلا جائے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک میں بدترین لوٹ مار جاری ہے ، نوجوانوں کو روزگار دستیاب نہیں ، صنعتیں تباہ ہوگئیں ، پنجاب میں شریف خاندان نے زراعت کو برباد کردیا، حکمران قوم پر عذاب بن گئے ہیں ، ان کو کہا جائے کہ سود کم کردیں تو یہ آئی ایم ایف کے حوالے دینا شروع کردیتے ہیں، یہ جب خود عیاشیاں کرتے ہیں تو آئی ایم ایف یاد نہیں ہوتا، اپنے لیے اربوں کے جہاز خرید رہے ہیں ، شادیوں پر سرکاری وسائل استعمال ہورہے ہیں، ہمیں ان کی شادیوں پر کوئی اعتراض نہیں ، ان ذاتی کاموں پر استعمال ہونے والے حکومتی وسائل کا حساب دیا جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اٹھارویں ترمیم میں جن شعبوں کو صوبوں کے حوالے کردیا گیا ، وفاق کی جانب سے ان کے لیے بجٹ مختص کرنے کا کیا جواز ہے؟
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آئی پی پیز اور ری گیسفیکیشن پلانٹس (Re-Gasification Plants) کو دی جانے والی اربوں کی سبسڈی بند کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شوگر مل مالکان کی جانب سے پریس کانفرنسز کے ذریعے چینی کی برآمد کے مطالبے ہورہے ہیں ، یہ مطالبات دراصل حکمران ،حکمرانوں سے کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ آج رات کراچی میں ، کل لاہور اور اس سے اگلے روز مردان اور پشاور میں بڑے عوامی جلسے ہوں گے ، اکتالیس شہروں میں دھرنے جاری ہے ، اسلام آباد مارچ نہیں رکے گا حکومت نے جتنی رکاوٹیں کھڑی کرنی ہیں کرلے ، بہتر یہی ہے کہ حکمران پرامن اور جمہوری جدوجہد کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں۔