حکمران فیصلہ کرلیں عوام کو حق دینا ہے یا پورا بندوبست ملیا میٹ کرانا ہے،گولی ، گالی پر یقین نہیں رکھتے، پرامن طریقہ سے بیس ستمبر کو اسلام آباد پہنچیں گے

امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کہا ہے حکمران فیصلہ کرلیں سیدھے طریقے سے پٹرولیم لیوی ختم کرنی ہے یا پورے حکومتی بندوبست کو ملیا میٹ کرانا ہے، گولی و گالی پر یقین نہیں رکھتے ، پرامن اور جمہوری طریقے سے بیس ستمبر کو اسلام آباد آئیں گے اور عوام کو حق دلائیں گے۔

پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنوں کے اٹھائیسویں روز مری روڑ پر عوامی دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران پٹرولیم لیوی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے پچیس کروڑ عوام کی توہین کی ہے ، حکمرانوں کو ایک لیٹر پر ایک سو تیس روپے غنڈہ ٹیکس ختم کرنا پڑے گا ، قوم کی توہین برداشت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت لاہور ، پشاور اور کراچی سمیت ملک کے چالیس مقامات پر دھرنے جاری ہیں، ہرروز تین دھرنوں کا اضافہ ہورہا ہے۔ 

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، میاں محمد اسلم، امیر صوبہ پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم ،سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی صوبہ پنجاب شمالی اقبال خان، امیر جماعت اسلامی راولپنڈی سید عارف شاہ شیرازی اور دیگر راہنماؤں نے خطاب و شرکت کی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کنٹینر اور ٹرک جماعت اسلامی کا راستہ نہیں روک سکتے ، حکومت نے جو کرنا ہے کرلے ، حکمران مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں تو جاری رکھیں ، مذاکرات کے نام پر ڈرامہ قبول نہیں ، سیدھی طرح سے فی الفور لیوی میں کمی کریں ، عوام سے سالانہ پندرہ سو سڑسٹھ وصول کرنا بند کیا جائے ، ایف بی آر اپنے اہداف پورے کرے ، سود کی لعنت ختم کی جائے ، وفاق کا صوبائی محکموں کے لیے بجٹ مختص کرنے کا کوئی جواز نہیں ، حکمران اپنی مراعات ختم کریں، ان اقدامات سے قومی خزانہ کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا ، ہمیں یہ نہ بتایا جائے کہ آئی ایم ایف کی مجبوری ہے ، انہیں یہ مجبوریاں اپنی شاہ خرچیاں جاری رکھتے ہوئے نظر نہیں آتیں، مریم نواز حکومتی جیٹ طیارے سے بیرون ملک پرائیویٹ دورہ پر گئیں ، قوم کو بتایا جائے ان کے دورہ لندن سے قومی خزانہ پر کتنا بوجھ پڑا ؟ مریم نے اگر پیسے اپنی جیب سے خرچ کیے ہیں تب بھی ان اخراجات کا حساب دیں ، قوم کا حق ہے کہ حکمرانوں سے حساب طلب کرے۔ 

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سندھ میں تو تعلیم کا پہلے ہی برا حال ہے ، صوبہ کے انچاس ہزار سکولوں میں سے دس ہزار بھی اس قابل نہیں کہ انہیں سکول کہا جائے ، شریف خاندان نے پنجاب میں بھی تعلیم کا بیڑہ غرق کردیا ، نویں کلاس کے نتیجہ میں پچاس فیصد سے زائد بچے فیل ہوگئے ، سب سے برا حال راولپنڈی کے سرکاری سکولوں کا ہے جہاں ساٹھ فیصد بچے فیل ہوئے ، مریم نواز نے قوم کے پیسوں سے تعمیر کیے گئے گیارہ ہزار سکول فروخت کردیے ، سرکاری سکولوں اور بنیادی مراکز صحت کو بیچنا کسی بھی حکومت کے لیے شرم کا مقام ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب سرکاری سکولوں کو بیچ کر اپنے والد کے نام پر چند سکول بنارہی ہیں ، پہلے ان کے چچا نے دانش سکول بنائے جنہیں وفاق کی طرف سے پیسہ مل رہا ہے ، مریم بنیادی مراکز صحت کو فروخت کرکے ان پر اپنے نام کی تختیاں لگا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورا نظام ہی فرسودہ ہے ، بیس ستمبر کو پورے ملک سے قافلے اسلام آباد کی جانب رواں ہوں گے ، عوامی طوفان رکنے والا نہیں، حکومت اس سے قبل ہی ہوش کے ناخن لے اور عوام کو سہولت دے۔