حافظ نعیم الرحمن کا پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر دھرنے جاری رکھنے کا اعلان، وزیراعظم کی درخواست کے بعد حکومت کو لیوی ختم کرنے کا آخری موقع دے رہے ہیں، شہباز شریف سے ملک واپسی پر ملاقات ہوگی ، لیوی ختم نہ ہوئی تو اسلام آباد جائیں گے

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر دھرنے اور احتجاجی کیمپ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کا آخری موقع فراہم کرتے ہیں۔
ملتان میں پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست اور لیوی کے معاملہ کا کوئی نہ کوئی حل نکالنے کے وعدہ پر جماعت اسلامی نے چند روز کے لیے اسلام آباد کی جانب روانگی میں چند دن وقفے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے نیویارک سے انہیں فون کرکے اسلام آباد لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی اور وعدہ کیا کہ وطن واپسی پر وہ پہلی فُرصت میں جماعت اسلامی کی قیادت سے مل کر لیوی کے مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل نکالیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی کال کے بعد حافظ نعیم الرحمن نے جماعت کی اعلیٰ سطحی قیادت سے ایک اجلاس میں مشاورت کی۔
امیر جماعت اسلامی کی صدارات میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، نائب امراء لیاقت بلوچ، ڈاکٹر اسامہ رضی ، پروفیسر ابراہیم ، میاں محمد اسلم ، ڈپٹی سیکرٹریز اظہر اقبال حسن ، وقاص انجم جعفری، رُسل خان بابر، ممتاز سہتو، ، سید فراست شاہ ،امیر لاہور ضیاالدین انصاری ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امراء خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع ، شمالی عنایت اللہ خاں، ہزارہ عبدالرزاق عباسی، ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا ،سوشل میڈیا ہیڈ سلمان شیخ ، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔
حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں پٹرولیم لیوی ختم نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد مارچ کا فوری آغاز ملتان ہی سے ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو آخری موقع فراہم کیا جارہا ہے کہ عوام کو ریلیف دے اور اپنے اخراجات کم کرے۔ انہوں نے وزیراعظم کے پٹرول پر دیے جانے والے پچیس ارب کے نام نہاد ریلیف کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوام سے وصول کی جانے والی پندرہ سو سڑسٹھ ارب روپے کی لیوی سے چھ گنا کم ہے اور صرف نمائشی اقدام ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے رابطے کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی کی قیادت سے طویل مشاورت کے بعد حکومت کو آخری موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس دوران جماعت اسلامی کے کارکنان میدان میں موجود اور پوری طرح تیار رہیں گے، دھرنوں اور احتجاجی کیمپوں کے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن ہے ، ہم نے لیوی کے خلاف پانچ سو دس مقامات پر سڑکیں بند کی اور 16 اگست کو دھرنوں کا آغاز کیا جو ملک کے بیالیس مقامات پر جاری ہیں، دھرنوں کے دوران جماعت اسلامی کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی گئی، حکومت پر دباؤ بڑھا تو انہوں نے مذاکرات کی دعوت دی ، مذاکرات کے کئی ادوار میں حکومت کو جماعت اسلامی کی کمیٹی نے لیوی کے خاتمہ کے لیے تجاویز دیں ، تاہم حکومت کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول ہوتی رہی تو جماعت اسلامی نے ٹرین مارچ کا آغاز کیا ، ٹرین مارچ دو مرحلوں پر مشتمل تھا ، دوسرے مرحلے کے ملتان میں اختتام پر وزیراعظم نے انہیں فون کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو بتادیا ہے کہ جماعت اسلامی کا واحد مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت کرتی ہے اور اس کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کرتی ہے۔ حکومت علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے دی گئی تجویز کو سنجیدگی سے لے اور پی ٹی آئی سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالے۔ امیر پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، امیر ملتان صہیب عمار صدیقی اور دیگر رہنما پریس کانفرنس میں موجود تھے۔