شہباز شریف نے وطن واپسی پر عوام کو ریلیف نہ دیا تو لانگ مارچ شروع کردیں گے، وزیراعظم کی اقوام متحدہ تقریر میں مقبوضہ کشمیر، فلسطین کا تفصیلی ذکر نہیں تھا،

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر جلسوں اور دستخطی مہم کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا کہ کارکنان میدان میں موجود ہیں ، عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو لانگ مارچ کا آغاز ہوجائے گا۔ 

منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں اقوام متحدہ میں وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر میں مسئلہ کشمیر و فلسطین کا تفصیلی ذکر نہ ہونے پر  افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ٹرمپ کو خوش کرنے کی بجائے حکمرانوں کو بھارت کی مقبوضہ وادی اور اسرائیل کی فلسطین میں جاری سفاکیت کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف لینا چاہیے۔ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کی قیادت بڑی تعداد میں قید ،ان کے دفاتر اور ادارے سِیل کردئیے گے۔ وزیراعظم کی جانب سے یسین ملک اور بھارت کی جیلوں میں بند دیگر کشمیری رہنماؤں کا بھی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری ، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور صدر جے آئی یوتھ لاہور جبران بٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ روز لاہور میں جماعت اسلامی کا جلسہ روکنے کے لیے روایتی ہتھکنڈے استعمال کیے، تاہم حکومتی رکاوٹوں اور غیر جمہوری رویے کے باوجود کارکن جلسہ گاہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ جلسے نے ثابت کردیا کہ جماعت اسلامی کے کارکن میدان میں موجود ہیں۔ عوامی مسائل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بدقسمتی سے سیاسی اور اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل پر بات نہیں کرتیں۔ انہوں نے سیاسی پارٹیوں کو دعوت دی کی عوام کے مسائل پر جماعت اسلامی کے دھرنوں اور جلسوں میں شرکت کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی چارسدہ، صوابی، کرک ، ساہیوال، سرگودھا، لاڑکانہ، حیدرآباد، سکھر ، کراچی اور دیگر شہروں میں جلسے کرے گی، جس کا تفصیلی شیڈول جاری کردیا جائے گا۔ آج سے پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر دستخطی مہم بھی شروع کی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی 25 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے احتجاج کررہی ہے۔

پٹرولیم لیوی کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ حکومت پٹرولیم لیوی وصول کرے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم شہباز شریف وطن واپس آنے کے بعد جماعت اسلامی سے بات چیت کریں گے اور لیوی ختم کردیں گے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو جماعت اسلامی لانگ مارچ شروع کردے گی۔  دیگر پارٹیوں کی طرح جماعت اسلامی اپنے کارکنوں اور عوام کو آگ میں نہیں جھونک سکتی، بعض سیاسی جماعتیں اس طرح کے اقدامات کرتی ہیں اور بعد میں اموات اور نقصانات پر سیاست شروع کردیتی ہیں، تاہم جماعت اسلامی ذمہ داری کے ساتھ عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ وزیراعظم کی درخواست پر جماعت اسلامی نے اپنا احتجاج چند روز کے لیے موخر کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں کے اخراجات کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمران 1300 سی سی گاڑیاں استعمال کریں اور اپنے اخراجات کم کریں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے سود کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی محکموں کے لیے وفاقی سطح پر فنڈز مختص کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی باتوں پر ردعمل دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ایسے کسی بھی اقدام کی بھرپور مذمت کرے گی۔ پرامن احتجاج تحریک انصاف کا آئینی حق ہے اور جماعت اسلامی اس حق کی حمایت کرتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کا معاملہ آئینی عدالت میں لے کر گئی ہے۔ تاہم ہم جب عوام کے مسائل عدالتوں میں لے جائے جاتے ہیں تو ججز چھٹی پر چلے جاتے ہیں، ججز ریاست کے وسائل سے تمام مراعات حاصل کررہے ہیں لیکن عوام کو انصاف نہیں ملتا۔