حافظ نعیم الرحمٰن کا مسلم علما پر انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے پر زور
استنبول کانفرنس سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی کا مسلم اقلیتوں کے تحفظ، فلسطین و کشمیر کے مسائل اور نوجوان نسل کے چیلنجز پر توجہ دینے کا مطالبہ۔

استنبول، ترکیہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے اتحاد العالمی لعلماء المسلمین کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور مسلم ممالک کے درمیان اتحاد و تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ امت کو انتہاپسندی، تکفیر اور فرقہ واریت سے بچانے کے لیے علما کو مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیے۔ انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے تنازعات پر قرآن و سنت کی روشنی میں واضح پالیسی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
امیر جماعت اسلامی نے مسلم اقلیتوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے عالمی پلیٹ فارم قائم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں آباد مسلم اقلیتوں کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر منظم کوششیں ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کے تحفظ سے ممکن ہے۔ ان کے مطابق صیہونیت امتِ مسلمہ کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا چاہتی ہے، اس لیے اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے اتحاد اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مسلم اسکالرز کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں مسلم عوام اور حکمرانوں کو درپیش مشکلات سے نکالنے کے لیے واضح رہنمائی اور قابلِ عمل لائحہ عمل دینا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان میں ملی یکجہتی کونسل کے 70 نکاتی ضابطۂ اخلاق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مکالمے کے ذریعے بڑے اختلافات بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے وسائل تعلیم، انصاف، معاشی خوشحالی اور ٹیکنالوجی کی ترقی پر خرچ کریں۔ خواتین کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملازمت پیشہ خواتین کو گھروں تک محدود نہیں کیا جا سکتا اور ان کے مسائل کا حل عصری تقاضوں کے مطابق تلاش کرنا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے کرپٹو کرنسی سمیت جدید معاشی و مالیاتی معاملات میں قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ جنریشن زی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو سمجھے بغیر فیصلے کرنے سے پوری نسل کو کھونے کا خطرہ ہے، جبکہ ان کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے نئے انداز اور حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔
انہوں نے عالمی مسائل اور موجودہ چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کانفرنس کی سطح پر ذیلی کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق کانفرنس میں ترکیہ، سوڈان، موریطانیہ، اردن، انڈونیشیا، لیبیا اور دیگر ممالک سے 200 سے زائد مسلم اسکالرز شریک ہیں۔