حکومت فسطائیت سے باز رہے، لیوی کے خلاف جدوجہد نہیں رکے گی، میدان میں پوری قوت اور استقامت سے موجود ہیں، حکومت کی جانب سے رکاوٹوں کی مذمت

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اوچھے ہتھکنڈوں اور فسطائیت سے باز آجائے ، پٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک جاری ہے ، کنٹینر اور پابندیاں جماعت اسلامی کا راستہ نہیں روک سکتیں ، اسلام آباد مارچ کا آغاز وہیں سے ہوگا جہاں قافلے رکے ہیں۔ ہم نے میدان نہیں چھوڑا، پوری طاقت اور استقامت سے موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وحدت روڈ لاہور پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امیر لیاقت بلوچ ، امیر لاہور ضیا الدین انصاری ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری اور قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین ثمینہ سعید نے بھی شرکاء جلسہ سے خطاب کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، ڈپٹی سیکرٹریز اظہر اقبال حسن ، شیخ عثمان فاروق ، مشیر امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید پراچہ اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
جلسہ عام کے آغاز سے قبل پنجاب پولیس اور صوبائی انتظامیہ نے سڑک کے دونوں اطراف رکاوٹیں کھڑی کرکے کارکنوں کو جلسہ گاہ میں پہنچنے سے روکا اور کرسیاں اٹھا لی گئیں ، جماعت اسلامی کے احتجاج کے باوجود رکاوٹیں ختم نہ کی گئی ، انتظامیہ کی جانب سے جیمرز کی وجہ سے امیر جماعت اسلامی کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی خطاب نشر نہ ہوسکا۔ قائدین جماعت اسلامی نے حکومت کے غیر جمہوری رویہ کی پرزور مذمت کی اور حکمرانوں پر واضح کیا کہ پرامن احتجاج جماعت اسلامی کا حق ہے ، رکاوٹیں اور بندشیں عوام کو اپنا حق لینے سے نہیں روک سکتیں۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت سے پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ کو چند دنوں کے لیے روکا گیا ہے ، اپنے دیرینہ اور دوٹوک مطالبہ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے، وزیراعظم سے بات چیت کے بعد عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو قافلے وفاقی دارلحکومت کی طرف روانہ ہوں گے، خواتین بھی ساتھ ہوں گی، کنٹینر لگانے سے عوامی سیلاب نہیں رکے گا، حکمران ہتھکنڈوں سے باز آئیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خلاف نکلی ہے اور اس کی جدوجہد نے ملکی سیاست کا رخ تبدیل کردیا ہے ، جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو عوامی مسائل پر جدوجہد کرتی ہے ، ہماری سیاست نے ملکی تاریخ میں ایک نیا عنوان متعارف کرایا ہے، آج ہر کوئی پٹرولیم لیوی کو بھتہ قرار دے رہا ہے ، حکمرانوں کو بھتہ نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے نفاذ اور آئی پی پیز کے ساتھ سیاسی جماعتیں بھی شریک ہیں۔ سب سیاسی جماعتیں ملی ہوئی ہیں ،ان کے مفادات مافیاز کے ساتھ وابستہ ہیں ، قوم طویل عرصے تک جبر برداشت کر رہی ہے جبکہ سیاسی جماعتیں کلٹ کی سیاست (Cult Politics ) کررہی ہیں۔ حکومت آئی پی پیز کو ایسی بجلی کے بھی پیسے ادا کرتی ہے جو بنتی ہی نہیں۔ سود ختم کریں اور آئی پی پیز کو ادائیگیاں بند کی جائیں۔
امیر جماعت اسلامی نے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی عیاشیاں بند کریں۔ حکمران پرتعیش گاڑیاں اور طیارے نہیں چھوڑتے اور عوام سے قربانی مانگتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے رکاوٹوں کے باوجود بڑی تعداد میں جلسہ میں کارکنان ، عوام اور خصوصی طور پر خواتین کی شرکت کی تحسین کی اور فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے عہد کا اعادہ کیا۔