حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی دھرنے ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی،حکمرانوں کے لیے بہتر ہے دھرنوں کے مزید پھیلنے سے پہلے لیوی ختم کردیں،

امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے تین دن کی مہلت مانگ کر دھرنا ختم کرنے کی درخواست کی ہے، واضح کردینا چاہتا ہوں دھرنے اور پرامن احتجاج جاری رہے گا ، حکمرانوں کے لیے بہتر یہی ہے جلد پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرکے عوام کو سہولت دے ، ٹال مٹول سے کام لیا گیا تو پورے ملک میں پہیہ جام ہو جائے گا اور دھرنے مزید پھیل جائیں گے ۔ وڈیروں ، جاگیرداروں اور افسر شاہی کو ریاستی وسائل پر اپنی عیاشیاں بند کرنا پڑیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے تئیسویں روز مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دھرنا میں فیصل آباد ڈویژن سے آئے ہوئے عوام اور خواتین کی کثیر تعداد بھی شریک تھی۔ دھرنا سے امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین ثمینہ سعید اور معروف تجزیہ نگار حفیظ اللہ نیازی نے بھی خطاب کیا۔ نائب امیر اسامہ رضی، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، امیر جماعت کے مشیر سیاسی امور راجہ محمد عارف اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ لاہور، پشاور اور کراچی میں جاری دھرنوں کے علاوہ کوئٹہ سمیت ملک کے تیس دیگر مقامات پر بھی دھرنے اور مظاہرے جاری ہیں ، اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو تیس دھرنے تین سو مقامات تک بھی پھیل سکتے ہیں ، ٹرین مارچ بھی ہوگا اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی کیا جائے گا، عوام کا غصہ ناقابل برداشت ہوگیا ہے ، ایسا نہ ہو کہ پٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف احتجاج حکومت گراؤ تحریک میں بدل جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے سودی معیشت کو تمام خرابیوں کی جڑ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمہ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک فیصد شرح سود کم کرنے سے قومی خزانہ کو پانچ سو ارب کا فائدہ ہوگا، اگر حکومت پہلے مرحلے میں شرح سود تین فیصد کم کردے تو پندرہ سو ارب بچایا جاسکتا ہے ، آئی پی پیز کو بجلی نہ بنانے پر سترہ سو ارب سالانہ دیے جائے ہیں ، اسے روک کر اور سود کم کرنے معیشت کو بہتر کیا جاسکتا ہے اور پٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج جماعت اسلامی کے وفد نے حکومتی ٹیم سے مذاکرات کیے ، ہمارے وفد نے حکومت کے ساتھ تجاویز شیئر کیں اور انہیں بتایا کہ کس طرح دیگر مد میں پیسے بچا کر عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے ، حکومتی ٹیم نے کہا ہے کہ مشاورت کے بعد جمعرات تک جماعت اسلامی کو جواب دیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جمعرات کو دوبارہ مذاکرات ہوں گے ، حکومت کو سنجیدہ ہونا پڑے گا، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے اپنی مراعات ، بڑی گاڑیاں اور پروٹوکول میں کمی لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد جلسہ کے بعد حکومت بات چیت کے لیے مجبور ہوئی اور ہمیں دھرنے ختم کرنے کا کہا گیا اور مذاکرات کی بات کی گئی ، جماعت اسلامی نے واضح کردیا کہ کہ دھرنے اور مذاکرات ساتھ ساتھ چلیں گے ، جماعت اسلامی کے دھرنوں سے جنہیں تکلیف ہے ہوتی رہے ، حکمرانوں نے عوام کے سارے راستے بند کردیے ہیں، ججز کو بے پناہ مراعات حاصل ہیں ، چوبیس لاکھ کیسز زیرالتوا ہے ، پرامن احتجاج جاری رہے گا، حکمرانوں کے راستے بند رہیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے پنجاب اور سندھ حکومت کی کارکردگی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں صوبوں پر قابض فارم سنتالیس کی ن لیگ اور پی پی حکومت نااہل ترین ہے، پنجاب میں تعلیم اور صحت کا برا ہے، سندھ کرپشن کی آماجگاہ بن گیا ہے ، دونوں پارٹیاں عوام کو تقسیم کرنے کا واویلا کررہی ہیں ، عوام اب بے وقوف نہیں ہے، قوم اور خصوصی طور پر نوجوان جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں ، جماعت اسلامی کے دھرنے کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں ، دھرنوں کے شرکاء کی استقامت کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے ختم نبوت کے دن کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دن کی بے پناہ اہمیت ہے ، جماعت اسلامی نے اس ضمن میں اہم ترین کردار ادا کیا ، ہم امت کو تفریق کرنے والے نہیں بلکہ اتحاد امت کے ذریعے اقامت دین کی جدوجہد کررہے ہیں۔