عنوان: حافظ نعیم الرحمٰن کی لاہور میں پریس کانفرنس | پٹرولیم لیوی پر اسلام آباد مارچ کا انتباہ

امیر جماعت اسلامی کا عوام کو ریلیف دینے، پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کا مطالبہ

2 منٹ

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک کو درپیش معاشی مسائل، مہنگائی اور عوامی مشکلات پر اظہار خیال کیا اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے پٹرولیم لیوی اور اضافی ٹیکسوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف لیویز اور اضافی اخراجات عوام پر مالی بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اضافی ٹیکسوں اور لیویز کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر عوام کو مؤثر ریلیف نہ دیا گیا اور پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب بھرپور مارچ کر سکتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومتی ریلیف اقدامات کو بھی ناکافی قرار دیا اور کہا کہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومت کو اپنے غیر ضروری اخراجات اور مراعات میں کمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے آئی ایم ایف سے متعلق پالیسیوں، سودی معاشی نظام، سرکاری اداروں کی نجکاری، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور منڈیوں میں کارٹیلز کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

فلسطین کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے غزہ میں تباہی اور انسانی بحران جبکہ مغربی کنارے میں بے دخلی اور تباہ کاریوں پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے عالمی برادری اور مسلم قیادت کے ردعمل پر تنقید کرتے ہوئے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں پر زور دیا۔

انہوں نے کسانوں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کھاد اور زرعی پیداوار کی بڑھتی لاگت، گندم، آٹے، کپاس اور چینی کی صنعت سے متعلق مشکلات کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق کسانوں کو ریلیف دینے اور عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے قانون کی حکمرانی، احتساب اور انصاف کی فراہمی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور ماورائے عدالت قتل اور فوجداری مقدمات سے متعلق معاملات پر تحفظات ظاہر کیے۔

پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کی جانب سے معاشی ریلیف، پٹرولیم لیوی کے خاتمے، کسانوں کے مسائل کے حل، فلسطین کی حمایت اور حکومتی معاملات میں جواب دہی کے مطالبات نمایاں رہے۔