حافظ نعیم الرحمن کا نوجوانوں کو بااختیار بنانے، اے آئی ٹیکنالوجی اور آئی ٹی برآمدات کے فروغ پر زور

پاکستان کے سب سے بڑے اے آئی ہیکاتھون سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا نوجوانوں کے لیے مواقع، معیاری تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور۔

2 منٹ

 امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، مصنوعی ذہانت کے فروغ اور پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافے پر زور دیا ہے۔

الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان اور علی بابا کلاؤڈ کے اشتراک سے منعقدہ پاکستان کے سب سے بڑے اے آئی ہیکاتھون سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 30 سال تک کی عمر کے تقریباً 15 کروڑ افراد موجود ہیں۔ اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع، جدید مہارتیں اور عملی تربیت فراہم کی جائے تو وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات تقریباً 4.5 ارب ڈالر ہیں، جبکہ ملک میں 30 سے 40 ارب ڈالر کی برآمدات حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مؤثر حکومتی پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن تعلیم، صحت، قدرتی آفات میں امداد اور عوامی فلاح کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ بنو قابل پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارتیں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے علی بابا کلاؤڈ کے تعاون کو سراہتے ہوئے بتایا کہ ہیکاتھون میں نوجوانوں نے 16 ہزار سے زائد منصوبے پیش کیے۔ انہوں نے اسے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اخلاقی اقدار اور انسانی ہمدردی کے بغیر ٹیکنالوجی معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے، خیرات نہیں، اور حکومت کو تمام بچوں کے لیے مفت اور معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔

انہوں نے نوجوان شرکا کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ مقابلے میں حصہ لینے والا ہر نوجوان کامیاب ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کی صلاحیتوں، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔