مسجداقصیٰ کی آزادی مکہ دفاعی معاہد کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی کا طوفان الاقصیٰ کے دن کی مناسبت سے غزہ یکجہتی مارچ سے خطاب ، چارسدہ جلسہ کا اعلان

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدہ کی اولین ترجیح مسجد اقصیٰ کی آزادی ہونی چاہیے۔ اسلام آباد فلسطین کے حوالے سے واضح موقف اپنائے اور اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس بلا کر اسرائیل کو اہل غزہ کے خلاف سفاکیت ختم کرنے کا دوٹوک پیغام دیا جائے۔ حکمرانوں نے کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کا ڈھونگ رچایا ، ثالثی کہاں گئی ؟ ہمیں معلوم ہے مقبوضہ کشمیر کسی کی ثالثی سے نہیں زور بازو سے آزاد ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں غزہ یکجہتی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مارچ سے نائب امیر میاں محمد اسلم ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا ، سیکرٹری جنرل اسلام آباد زبیر صفدر، رہنما فرینڈز آف فلسطین ڈاکٹر بلال اور ناظم صوبہ اسلامی جمعیت طلبہ احمد عبداللہ نے بھی خطاب کیا۔

امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر سات اکتوبر طوفان الاقصیٰ کے دن کی مناسبت سے ملک بھر میں ریلیاں اور مظاہرے ہوئے جن میں ہزاروں افراد نے فلسطینی پرچم اٹھا کر شرکت کی اور اہل غزہ کے حق میں نعرے بازی کی۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے غزہ مارچ منعقد کرنے پر جماعت اسلامی اسلام آباد اور خصوصی طور پر خواتین ، بزرگوں کو سلام پیش کیا اور کہا کہ پاکستان کے مسائل اور دیگر جاری سرگرمیوں کے باوجود اہل غزہ کو یاد رکھنے پر شرکاء مارچ تحسین کے مستحق ہیں۔ تاہم انہوں نے حکمرانوں پر یہ بھی واضح کیا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی اور عوام کے حقوق کے حوالے سے جاری جدوجہد میں مزید تیزی لائے گی، جمعہ کو چارسدہ میں جلسہ عام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے لیے شیڈول کی تیاری کا پیغام بھیجا ہے ، ان سے ملاقات بھی کرلیں گے تاہم وہ اپنے وعدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے لیوی پر عوام کو ریلیف دیں،بصورت دیگر ملتان سے اسلام آباد مارچ کا آغاز ہوجائے گا  اور ملک بھر سے قافلے وفاقی دارلحکومت پہنچ کر دھرنا دیں گے ، اہل اسلام آباد میزبانی کی تیاری کرلیں۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ملک پر فارم سنتالیس سے آئے ہوئے لوگ مسلط ہیں ، ہائبرڈ نظام ہے ، آزاد کشمیر کے حالات ٹھیک نہیں ، کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی جاری ہے، حکومت ان حالات میں عوام کو مزید تقسیم نہ کرے اور لوگوں سے ان کا جمہوری حق نہ چھینے، حکمران اپنی عیاشیاں ترک کریں، وزیراعلیٰ پنجاب گیارہ ارب کے جہاز میں گھومتی ہیں، مافیائی نظام ہے ، مسلط اشرافیہ کو قوم کو حقوق دینا پڑیں گے ،جماعت اسلامی مظلوم عوام کو اس مافیائی نظام کے مقابلے میں لاکر کھڑا کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ فلسطین کے حوالے سے جدوجہد جاری رہے گی، پاکستان کے عوام اہل فلسطین کے ساتھ ہیں ، حکمران اپنا حق ادا نہیں کررہے۔ حکمران زبانی جمع خرچ نہ کریں ، عملی اقدامات اٹھائیں۔ حکومت مسئلہ فلسطین کے دو نہیں ایک ریاستی حل کی بات کرے۔

انہوں نے کہا کہ سات اکتوبر کو دنیا میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ، کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ امریکہ و اسرائیل کو شکست نہیں دی جاسکتی ،لیکن مجاہدین و محافظین اقصیٰ نے وہ طوفان برپا کیا کہ دنیا کو حیران اور اسرائیل کو بے نقاب کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمان حکمران اس لمحے یکجا ہوجاتے اور اسرائیلی سفاکیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیتے لیکن یہ خاموش رہے اور اسرائیل نے اپنی شکست کا بدلہ نہتے فلسطینیوں سے لیا، بچوں ، خواتین سمیت ہزاروں شہید کردیے گئے ، آج بھی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔  نام نہاد جنگ بندی کے بعد بھی چودہ سو فلسطینی شہید ہوئے اور پانچ ہزار زخمی ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی سفاکیت نے مغربی جمہوریت کا چہرہ فاش کردیا، امریکہ کا دہشت گرد روپ مزید واضح ہوگیا۔ پوری دنیا میں اسرائیلی سفاکیت کے خلاف عوام اٹھ کھڑی ہوئی ہے ، تاہم حکمران طبقہ ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کردیتے ہیں۔اس وقت بھی اسرائیل کی جیلوں میں نو ہزار فلسطینی قید ہیں جو بدترین تشدد کا شکار ہیں، تین سو کو شہید کردیا گیا۔

 امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جنگ سے پہلے اسرائیلی و امریکی پروپیگنڈہ سے لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتے تھے ، یہ طاقت اللہ تعالی نے حماس کو دی ہے کہ اس نے مغرب کے پروپیگنڈہ کو بے نقاب کردیا ہے ہے، اہل غزہ نے پوری دنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں ، اہل غزہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، جذبوں سے معمور ہیں ، وہ میدان عمل میں موجود ہیں ، وہ علم و اخلاق سے لبریز ہیں اور سفارت کاری میں بھی سب سے آگے ہیں ، اہل غزہ امت کی ترجماتی کررہے ہیں اور امت کو جوڑنے والے ہیں۔ حماس دنیا میں تحریک اسلامی کی بہترین مثال ہے۔ حماس نے ثابت کردیا کہ حقیقی اسلامی تحریکیں نچلی سطح تک عوام سے حڑی ہوتی ہیں۔ حماس نے سوشل میڈیا کی طاقت کا بہترین استعمال کیا ہے۔