حافظ نعیم الرحمٰن کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

جماعت اسلامی کی وزیراعظم کو متبادل تجاویز پیش، پٹرول سستا کرنے کا مطالبہ اور اسلام آباد مارچ کی تیاریوں کا اعلان۔

2 منٹ

تفصیل:

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کو متبادل تجاویز پیش کی ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عوام کو نجات دلانے کے لیے تفصیلی ورکنگ اور دستاویز بھی تیار کی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومتیں اپنی معاشی پالیسیوں کے دفاع میں اکثر آئی ایم ایف پروگرام کا حوالہ دیتی ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے سے پہلے بیرونی قرضوں سے نجات کے دعوے کرتی ہیں، لیکن حکومت میں آنے کے بعد آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کر لیتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی ناکامیوں اور نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں ریلیف فراہم کرے۔

امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے حکومت اور آئل ریفائنریز کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود ریفائنریز کے مارجن میں اضافے کے بجائے کمی ہونی چاہیے تھی تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور خطے کی جنگی صورتحال کے اثرات موجود ہیں، تاہم ان حالات میں بھی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر سکتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے پر پٹرول کی قیمت 200 سے 225 روپے فی لیٹر تک لانا جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ ہے۔ ان کے بقول جماعت اسلامی کے احتجاج، دھرنوں اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو پٹرولیم لیوی میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگی صورتحال کے دوران پٹرولیم لیوی 80 روپے سے بڑھا کر 160 روپے کر دی گئی تھی، جبکہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران ڈیزل کی قیمت میں بھی 32 روپے کا ریلیف ملا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے حکومت سے مذاکرات بھی کر رہی ہے اور پرامن احتجاج بھی جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو عوامی مسائل پر اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے گندم کے بحران، کپاس کی فصل میں کمی، کسانوں کی مشکلات، ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گیس کی لوڈشیڈنگ کو بھی عوام کے اہم مسائل قرار دیا۔

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے انتخابی قانون پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قانونی ڈھانچے میں ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی حمایت کی خرید و فروخت کے خدشات موجود ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ بلدیاتی انتخابات کرانے کے ساتھ انتخابی قانون میں بھی ضروری اصلاحات کی جائیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی نے اسلام آباد مارچ کی تیاریاں برقرار رکھی ہیں اور حکومت کو عوامی ریلیف کے لیے اقدامات کرنے کی غرض سے سات سے دس دن کی مہلت دی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی ضرورت پڑنے پر جلسوں، کارنر میٹنگز، مذاکرات اور پرامن احتجاج کے ذریعے اپنی تحریک کو مزید آگے بڑھائے گی۔