حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو وزیراعظم شہباز شریف کو براہ راست مذاکراتی عمل میں شامل ہونا ہوگا۔ نائب امیر جماعت اسلامی

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی زیر صدارت منصورہ میں سپر لانگ مارچ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد لیاقت بلوچ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار ہوچکے ہیں، تاہم حکومتی کمیٹی ان مذاکرات میں کوئی ٹھوس تجویز پیش نہیں کرسکی۔

انہوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران حکومت کو پٹرولیم لیوی کے خاتمہ کے لیے جامع اور ٹھوس تجاویز دی گئیں ، تاہم حکومت کی جانب سے تجاویز پر عمل کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔ 

لیاقت بلوچ  نے کہا کہ مکمل ریلیف پیکج کے بغیر حکومت کے ساتھ مزید مذاکرات بے معنی اور وقت کا ضیاع ہیں۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو وزیراعظم شہباز شریف کو براہ راست مذاکراتی عمل میں شامل ہونا ہوگا۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی ’’لالی پاپ‘‘ میں نہیں آئے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے وزیراعظم ایک بڑا اور جامع ریلیف پیکج کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے مطالبات پر واضح اور عملی اقدامات چاہتی ہے، محض یقین دہانیوں یا عارضی ریلیف سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔