پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس، ہماری تجاویز نہ مانی گئیں تو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دیں گے، حکمران نوشتہ دیوار پڑھ لیں، لیوی بھتہ ٹیکس ختم کریں، عوام کو ریلیف دیں،

پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی،آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہاؤس پر جاری دھرنے کے 24ویں روز عظیم الشان جلسہ عام منعقد کیا گیا، امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے رات گئے دھرنا گاہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف عوامی جدو جہد، احتجاج اور ملک بھر میں دھرنے جاری رہیں گے، عوام کو لے کر ڈی چوک اسلام آباد بھی جائیں گے، ہماری تجاویز ہوائی باتیں نہیں حقیقت پر مبنی ہیں، جمعرات 10ستمبر کو مذاکراتی ٹیم آئے گی، اس سے پوچھیں گے کہ ہمارے مطالبات اور تجاویز کا کیا ہوا اگر حکومت نے تجاویز اور مطالبات مان لیے تو ان پر عمل درآمد تک دھرنے جاری رکھیں گے اور اگر ہماری تجاویز نہ مانی گئیں تو 10ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کریں گے، جب اسلام آباد کی کال دی جائے گی تو ملک کے ہر حصے سے اور چاروں طرف سے عوام ڈی چوک پہنچیں گے، حکمران نوشتہ دیوار پڑھ لیں، لیوی بھتہ ٹیکس ختم کریں، عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دیں، 09ستمبر کو گورنر ہاؤس سندھ پر اور 11سمتبر کو گوجرانوالہ میں خواتین کے عظیم الشان جلسے ہوں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج ہمارے درمیان صومالیہ قزاقوں میں 5 ماہ سے اغواء کیے گئے پاکستانیوں کے اہل خانہ بھی موجود ہیں، جماعت اسلامی بھرپور طریقے سے ان کے ساتھ ہے، ہم نے وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں سے بھی بات کی ہے،میں مطالبہ کرتاہوں کہ انہیں فوری طور پر بازیاب کروایا جائے،ہم سندھ حکومت کی جانب سے ان کے اہل خانہ پر تشدد کرنے پر شدید مذمت کرتے ہیں، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اچھا نہیں کیا وہ اس کا ازالہ کریں اور وفاقی حکومت سے بات کریں اور ان پاکستانیوں کو واپس لائیں۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان بھی موجود تھے، جبکہ جلسہ سے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، ڈپٹی سیکریٹری کراچی عبد الرزاق خان،ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی سمیع الحق نے بھی خطاب کیا۔نائب امیرجماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر واسع شاکر نے درس قرآن پیش کیا۔ جبکہ سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی نے نظامت کے فرائض انجام دیے عظیم الشان جلسہ عام میں صومالیہ قزقوں کے ہاتھوں یرغمال کراچی کے رہایشی افراد کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کے چیئرمین سے بات کی ہے انہوں نے دھرنے کی حمایت کی ہے اور شرکت کی یقین دہانی کروائی ہے،جماعت اسلامی کا پلیٹ فارم موجود ہے، جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔حکومت نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13 روپے فی لیٹر پیٹرول میں اضافہ کیا ہے،ہم ا س کی شدید مذمت کرتے ہیں،عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اپنی جگہ ٹھیک لیکن لیوی بھتہ ٹیکس کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہو ں نے کہا کہ پاکستان کے 32 شہروں میں اس وقت دھرنے دیے جارہے ہیں، منعم ظفر خان اور ان کی ٹیم اور کراچی کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ جو 24 دنوں سے جذبے اور حوصلے کے ساتھ موجود ہیں، جماعت اسلامی پورے پاکستان میں ظلم و ناانصافی کے خلاف عوام کو منظم کررہی ہے، عظیم ہیں وہ لوگ جو مجبوروں اور غریبوں کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں، موجودہ حکومت ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہی ہے، ہم بھی ڈٹے ہوئے ہیں، حکمران سمجھتے ہیں کہ دھرنوں سے تھکادیں گے، جماعت اسلامی دھرنوں، ہڑتالوں سے تھکنے والی نہیں بلکہ جدو جہد مزید تیز ہوگی، مسلم لیگ، پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم نے عمران خان کی حکومت گرائی تھی، موجودہ حکومت میں بھی یہ تینوں شامل ہیں لیکن ان تینوں جماعتوں نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف پارلیمنٹ میں کوئی بات نہیں کی، جماعت اسلامی نے عوامی پارلیمنٹ لگالی ہے، حکمران طبقے کو تکلیف ہونا شروع ہوگیا ہے،بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہر فرد پریشان ہے، گھروں کا کرایہ ا داکیا جائے یا بچوں کی اسکول کی فیس،حکومت نے تاجروں کو بھی نہیں چھوڑا انہیں بھی تباہ کردیا ہے، پیٹرول کی قیمت سے اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، اگر مہنگائی ہوتی ہے تو کسی ایک پارٹی کے ورکر کے لیے نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کے لیے ہوتی ہے، ہر حکومت کہتی ہے کہ آئی ایم ایف نے بردباد کردیا ہم کشکول توڑ دیں گے لیکن اقتدار میں آتے ہیں ہی آئی ایم ایف سے رابطے شروع ہوجاتے ہیں اور ہم آئی ایم ایف کے 24 ویں پروگرام میں داخل ہوگئے ہیں،آئی ایم ایف بتاتا ہے کہ کس سے ٹیکس لینا ہے اور کس سے نہیں لینا۔ جن کی سینکڑوں مربع زمینیں ہیں یہ معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن غریب طبقہ موبائل کے کارڈ، پیٹرولیم لیوی، کھانے پینے کی چیزوں پر بھی ٹیکس ادا کرتا ہے، ہرطالب علم بھی ایک لیٹر پیٹرول میں 85 روپے لیوی اور بقیہ دیگر ٹیکسز لگاکر 130 روپے کا ٹیکس ادا کرتا ہے۔ یہ وہ طالب علم اور بائیکیا والا ہوتا ہے جو ٹیکس دہندہ بھی نہیں ہوتا، بائیکیا چلانے والا دن بھر کام کرنے کے بعد روزانہ 700 اور ماہانہ 2300 ہزار روپے بھتہ دے رہا ہے، قومی کانفرنس کے لیے بڑی بڑی گاڑیاں خریدنے کی پلاننگ کی جارہی ہے،1974 کی قومی کانفرنس کے لیے صنعت کاروں سے رابطہ کیا گیا تھا جس پر لوگوں نے تعاون کیا تھا۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ ملک میں حکمرانوں کے درمیان چوری کا مقابلہ ہے، صوبائی حکومت زیادہ چور ہے یا قابض میئر زیادہ بڑا چور ہے، اس وقت چوری کا مقابلہ صرف صوبوں کے درمیان نہیں بلکہ اداروں کے درمیان بھی ہے، کراچی شہر بدترین شہروں میں 173 نمبر میں آتا ہے، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اقتدار کی میوزیکل چیئر میں مصروف ہیں، پورے پاکستان میں مافیا راج ہے، گھٹا ٹوپ اندھیروں میں حافظ نعیم الرحمن اُجالے کی امید ہے۔ محمد فاروق نے کہا کہ صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغواء کاروں کے خاندان سے معذرت کرتا ہوں،ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے جو کچھ بھی کیا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، پیٹرولیم لیوی بھٹہ ٹیکس کے خلاف قرارداد منظور کر کے سندھ اسمبلی میں عوام کی جدوجہد کو تسلیم کر لیا گیا ہے، اراکین اسمبلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد اور تحریک میں شامل ہوکر قرارداد منظور کی۔