پرامن اسلام باد مارچ کے جمہوری حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، لیوی ختم کرنے کی بجائے ن لیگ حکومت عوام کو لائنوں میں کھڑا کرنا چاہتی ہے، 17ستمبر کو دھرنا سے متعلق اہم لائحہ عمل دوں گا

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس اور گورنر ہاؤس سندھ کے سامنے پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنا کے 31ویں روز بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا کہ جماعت اسلامی پرامن اسلام آباد مارچ کے جمہوری و آئینی حق سے دستبردار ہوگی نہ ہی کنٹینر عوام کا راستہ روک سکیں گے۔ پٹرول پر وزیراعظم کا نام نہاد ریلیف قوم سے دھوکہ، ہفتہ وار تقسیم کے لیے عوام کو لائنوں میں لگایا جائے گا، حکومت نے عملدرآمد سے قبل ہی اشتہارات کا آغاز کردیا۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت کو لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنا ہوگا، 17ستمبر کو اسلام آباد مارچ کے حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔40شہروں میں دھرنے جاری ہیں۔  صرف جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو عوام کے حقیقی مسائل کے حوالے سے جدو جہد کر رہی ہے۔ امیر کراچی منعم ظفر اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔  

امیر جماعت اسلامی نے کہا میر رضا کیس نے سندھ حکومت کو ایکسپوز کر دیا ہے، سندھ حکومت کے حالیہ بلدیاتی ترمیمی بل 2026کو مسترد کرتے ہیں، آئین میں بلدیاتی حکومتوں کے نظام کا ایک باب ہونا چاہیے اور وفاق سے بلدیاتی حکومتوں کو براہ راست فنڈز ملنے چاہییں تاکہ بلدیاتی حکومتیں صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر نہ ہوں۔  ہم پی ٹی آئی کے احتجاج کے آئینی و جمہوری حق کی حمایت کرتے ہیں، پی ٹی آئی نے بھی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت کی ہے، ہم نے پی ٹی آئی کے 27ستمبر کے مارچ کے اعلان سے قبل پٹرول پر بھتہ اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف احتجاجی تحریک اور جدو جہد شروع کی تھی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت کے عائد کردہ لیوی بھتہ ٹیکس کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے،80روپے کی لیوی، 5روپے کی کلائیمیٹ سپورٹ لیوی اور دیگر ٹیکسز ہیں، موجودہ حالات میں حکومت کو چاہیے تھاکہ لیوی کم کرکے قیمتیں نہیں بڑھنے دیتی، جس سے عوام کو فائدہ ہوتا،حکومت نے ایک مہینے کا 25ارب کا ریلیف دیاہے۔  پٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ  اس پر عمل کرنا مشکل ہے ان سے کوئی مشورہ ہی نہیں کیا گیا، ،یہ شریف خاندان کا وطیرہ ہے کہ ان کے بیورو کریٹس مشورے دے کر قوم کو بیوقوف بناتے ہیں، کبھی ٹریکٹر اسکیم کبھی لیپ ٹاپ اسکیم شروع کرتے ہیں،ہم کہتے ہیں کہ یہ سب کرنے کے بجائے حکومت  اپنی پالیسی ٹھیک کیوں نہیں کرتی، لیوی کو ختم کیے بغیر اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا، حکومت کے پاس لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، حکومت کہتی تھی کہ ہم لیوی کیسے ختم کریں ہمارے پاس تو پہلے ہی پیسے نہیں ہیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت کے پاس پیسے کیوں نہیں ہوتے،حکومت کا اپنا ادارہ ایف بی آر جس کا کام ہی ٹیکس جمع کر نا ہے،13سو ارب روپے کی کرپشن کررہا ہے،دوسری بات یہ کہ سود میں کمی کیوں نہیں کی جاتی، آئین پاکستان کے مطابق دسمبر 2027تک سود کو100فیصد ختم ہونا ہے لیکن حکومت سود ختم کرنے کے بجائے اسے بڑھا رہی ہے،سٹیٹ بینک کی پالیسی مانیٹرنگ کمیٹی کی حالیہ میٹنگ میں سود کو برقرار رکھا گیا ہے،سود دینی اعتبار سے بھی جرم ہے اور دوسری طرف اس کے نتیجے میں قرضوں اور اس کا بوجھ پاکستانی قوم اٹھا رہی ہے،گزشتہ سال حکومت نے 1567ارب روپے لیوی کی مد میں جمع کیے، 3فیصد سود کم کرنے سے 17سو ارب روپے کا براہ راست فائدہ ہوگا،حکومت کے معاشی ماہرین کے مطابق یہ ریٹ کم ہوتا ہے تو مہنگائی بڑھ جاتی ہے، یہ جھوٹ بولتے ہیں دراصل یہ ان معیشتوں میں ہوتا ہے جہاں پر آپ کے سارے پیسے گردش میں ہوتے ہیں، پاکستان میں ایک متوازی معیشت ہے،جو اصل معیشت سے بھی زیادہ ہے،اگر آپ مکان خریدیں گے تو حکومت کا ریٹ الگ ہوتا ہے اور اصل ریٹ الگ ہوتا ہے اور اس کا تناسب ایک چوتھائی،ایک کی نسبت پانچ اور کبھی اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے، اتنی بڑی خرید وفروخت کہیں حساب میں ہی نہیں آتی، تو جہاں متوازی معیشت چل رہی ہو وہاں یہ قانون لاگو نہیں ہوتے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ خود حکومت بتاتی ہے کہ جب 38فیصد مہنگائی تھی تو سود کا ریٹ تھا 22فیصد تھا، اب سود کا ریٹ11.50 فیصد ہے تو یہ خود کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی تو ہم نے بہت کم کردی ہے، اس کا تو کوئی براہ راست تعلق نہیں ہو ا، اس وقت حکومت کو جو 8ہزار ارب روپے کا سود ادا کرنا ہے وہ زیادہ تر پاکستانی بینکوں کاہے، ان کو جب تین فیصد کم شرح   پر پیسے جمع کرائیں گے تو یہی پیسے کم ہوجائیں گے، جب یہ پیسے کم ہوجائیں گے تو یہ رقم لیوی ختم کرنے میں استعمال کی جائے اور پھر جب عالمی مارکیٹوں میں قیمتیں کم ہوں تو یہ مزید قیمت کم ہوجائے گی۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گیارہ سو ارب روپے کا جہاز لیکر مریم نواز کس کے پیسوں سے گئی تھیں،وہ کہتی ہے کہ یہ صوبائی معاملہ ہے، ہم کہتے ہیں کہ صوبے کو بھی تو مرکز سے ہی پیسے جاتے ہیں، مریم نواز عین اس وقت اپنی بیٹی کی گریجوشن کی تقریب میں گئی تھیں جب ان کے صوبے پنجاب میں 50فیصد سے زائد بچے نویں جماعت میں فیل ہوگئے، قوم کو جاہل بنارہی ہیں اور اپنے بچوں کو لندن میں گریجویشن کروارہی ہیں، ان سے سوال کرو تو ”سوال گندم اور جواب چنا ہوتا ہے“ یہ الیکشن میں اپنے جمع کردہ کھاتے اور ذاتی خرچے پیش کریں، اگر مریم نواز نے ذاتی خرچہ بھی کیا ہے تو جہاز تو سرکار کا استعمال کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پی ٹی سی ایل کے 74فیصد شیئرز پاکستان کے ہیں، اخبارات کے مطابق اس کے چیئر مین آئی ٹی سیکریٹری نے پی ٹی سی ایل کے بورڈ کی میٹنگ کے 8 ہزار ڈالر وصول کیے ہیں، یہ اپنی شاہ خرچیاں ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں، لگژری آئٹم کا امپورٹ اور ایکسپورٹ بل کا خسارہ پاکستان کی معیشت کو تباہ کررہا ہے،لگژری آئٹمز پر ڈیوٹی کیوں نہیں بڑھائی جاتی۔