حکومت نے پٹرول ریلیف کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا، حکمران لیوی بھتہ ختم کریں یا عوام کے غیض وغضب کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائیں

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرول پر ریلیف کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا ، حکمران لیوی بھتہ ختم کریں یا عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائیں، ہوسکتا ہے کہ اسلام آباد کی جانب پیدل مارچ کی صورت میں جائیں، عوام تیار رہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور دھرنا کے مقام پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، امیر لاہور ضیاالدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔
پیر کو لاہور ، پشاور اور کراچی میں پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنوں کو تیس روز گزر چکے ہیں، ان بڑے شہروں کے علاوہ ملک کے دیگر چالیس مقامات پر بھی دھرنے اور مظاہرے جاری ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے جاری رکھنے ، بیس ستمبر کو اسلام آباد مارچ اور کل کراچی ، سترہ ستمبر کو لاہور اور اٹھارہ ستمبر کو مردان اور پشاور میں تاریخی جلسوں کے انعقاد کا اعلان کیا۔ انہوں نے کارکنان جماعت اسلامی اور دھرنوں کے شرکاء کو عوامی جدوجہد جاری رکھنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ کارکنان گلی محلوں میں جائیں اور پوری قوم کو تحریک کی پشت پر کھڑا کردیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی جدوجہد پر اپوزیشن کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور اپوزیشن سے رابطے جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی عیاشیاں جاری ہیں اور یہ واضح ہے کہ عوام بھلے برباد ہوجائیں حکمرانوں کو اس سے کوئی غرض نہیں، تاہم ہم نے اس ظالم نظام کے خلاف تاریخی جدوجہد جاری رکھنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سودی معیشت اور سرمایہ دارانہ نظام نے پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ پاکستان کے حکمرانوں نے آج پھر سود کی شرح کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے ، ان کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سود کی لعنت کے خلاف آواز بلند نہ کرنے والے بھی دراصل حکمرانوں کی خاموش حمایت کررہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کے ڈھائی کروڑ مزدوروں میں سے 84فیصد کو بنیادی حقوق تک حاصل نہیں، حکمران خاندان بتائیں کہ ان کی ملوں میں کام کرنے والوں کو کتنی سہولیات اور تنخواہ ملتی ہے۔ عوام کے لیے چینی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ، چینی مافیا کے لیے درآمد اور برآمد میں منافع ہے، ہر پارٹی میں مافیا موجود ہے ، بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے کبھی کسی مافیا اور آئی پی پیز کے خلاف آواز بلند نہیں کی، دراصل مافیاز ان پارٹیوں کا حصہ ہیں، ملک میں اشرافیہ کے لیے ہر شہر میں کلب بنے ہوئے ہیں ، ان کلبوں کو انگریزوں نے اپنے لیے بنایا تھا ، انگریز چلے گئے اور کلب اس طبقہ کو مل گئے جن کو انگریزوں نے تیار کیا۔ قوم پر مسلط یہ طبقات عوام کے پیسوں سے مراعات اور عیاشیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ، یہ طبقہ عوام کو کسی قسم کی سہولت دینے کو تیار نہیں۔ ان طبقات میں سے ایک شریف خاندان ہے جو پنجاب پر مسلط ہے ، مریم نواز نے تعلیم کو تباہ کردیا، مراکز صحت اور سکولوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔ اس حکمران خاندان نے صوبہ کی زراعت تباہ کردی، کسان سے گندم سستے داموں خرید کر اب مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکمران طبقہ کے اپنے بچے لندن کے سکولوں میں پڑھتے ہیں اور قوم کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند ہیں ۔تمام تر نااہلی اور کرپشن کے باوجود ان حکمران خاندانوں کے سرپر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کا عدالتی نظام تباہ ہے ، چوبیس لاکھ مقدمات زیرالتوا ہیں ، ججز کو بے تحاشا مراعات حاصل ہیں۔ جماعت اسلامی فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کی جدوجہد کررہی ہے۔