اسلام آباد مارچ، غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے روکا گیا تو حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی، وزیراعظم کا نام نہاد پیکیج ناکافی، پٹرولیم لیوی اور سود کا مکمل خاتمہ کیا جائے

امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حکومت اسلام آباد مارچ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کرے گی ، البتہ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مارچ کی راہ میں غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کیے گئے تو حالات کی ذمہ داری بھی اہل اقتدار پر ہوگی۔
لاہور میں دھرنا کے مقام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم کے پٹرول پر نام نہاد ریلیف پیکج (Relief Package ) کو ایک دفعہ پھر ناکافی قرار دیتے ہوئے پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمہ کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے چالیس مقامات پر دھرنے جاری ہیں ، احتجاج میں مزید وسعت آئے گی اور بیس ستمبر کو ملک بھر سے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، امیر لاہور ضیا الدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سود میں تین فیصد کمی کرکے قومی خزانہ کو سترہ سو ارب روپے کا فائدہ ہوگا ، صرف اس اقدام سے پٹرولیم لیوی جو غریب عوام سے پندرہ سو سڑسٹھ ارب روپے سالانہ سے بھی زائد وصول کی جارہی ہے کا براہ راست خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت بنک مافیا کے منافع میں نقصان نہیں کرنا چاہتی اور بہانہ مہنگائی میں اضافہ کا کیا جاتا ہے ، حالانکہ سود کم کرنے سے مہنگائی میں قطعی اضافہ نہیں ہوگا۔ جماعت اسلامی کی کمیٹی نے حکومت کو جو تجاویز دی ہیں ان پر عملدرآمد کرکے وفاق سینکڑوں ارب بچا سکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت سود کے مسئلہ پر سٹیٹ بنک کے خود مختار ہونے کا جواز بھی فراہم کرتی ہے ، جماعت اسلامی نے سٹیٹ بنک کی خودمختاری کی مخالفت کی تھی ، تاہم اب بھی سٹیٹ بنک میں تقرریوں کا اختیار حکومت کے پاس ہی ہے، حکومت بنک کو سود کی شرح میں کمی کا کہہ سکتی ہے، جماعت اسلامی سود کے مکمل خاتمہ کا مطالبہ کرتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند آئل ریفائینریز (Oil Refineries ) درآمد شدہ اور مقامی ریفائن تیل کی قیمتوں کو یکجا کرکے عوام کو لوٹ رہی ہیں ، اس ڈاکہ کو روکا جائے ، اسی طرح ریفائینریز کی استعداد کار کو بھی بڑھایا جائے ، حکمران اپنی مراعات کم کریں ، آئی پی پیز سے ناجائز معاہدے ختم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ حکومت کے پاس جماعت اسلامی کی تجاویز کا کوئی مدلل جواب نہیں ، حکومت نے مذاکرات کے لیے مزید ایک روز بھی مہلت مانگی ہے، اب مذاکرات کل شروع ہوں گے، ہمیں کوئی جلدی نہیں ، ہم میدان عمل میں موجود ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے لاہور، پشاور اور کراچی کے دھرنوں کو آج تیس دن ہوچکے ہیں، ان شہروں کے علاوہ بھی ملک کے بیسیوں مقامات پر احتجاج اور دھرنے جاری ہیں، دھرنوں کے شرکاء مبارکباد کے مستحق ہیں، دھرنوں میں اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان بھی شرکت کررہے ہیں، جماعت اسلامی نے دھرنوں کے ذریعے عوام کے اہم ترین مسئلہ کو میڈیا کی مرکزی بحث میں تبدیل کردیا ہے ، جماعت اسلامی کا احتجاج عوام کے لیے ہے، اپوزیشن جماعتوں نے ہمارے احتجاج کی مکمل حمایت کی ہے۔ عوام کے حق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی ۔