چوروں اور ڈاکوؤں کو مسلط کرکے کراچی کے ساتھ ظلم کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمٰن

نیو کراچی میں گل لالہ پارک کا افتتاح، نعمت اللہ خان کو خراج عقیدت

2 منٹ

 امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کیخلاف جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے اور اس کا تیسرا مرحلہ جمعہ سے شروع کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے مسلسل احتجاج کے نتیجے میں ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا، لیکن یہ پیکیج بہت محدود ہے اور عوام کو اس سے کوئی بڑا فائدہ نہیں ہو رہا۔ ہم انتشار اور فساد نہیں پھیلانا چاہتے، تاہم اپنی تمام حجت پوری کرلی ہے۔ اگر وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو ہر صورت اسلام آباد جائیں گے۔ ملک بھر کے ڈیڑھ سو شہروں میں بیک وقت مظاہرے اور دھرنے دیے جائیں گے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ٹی ایم سی نیو کراچی کے تحت گل لالہ پارک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر ضلع شمالی طارق مجتبیٰ، ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی محمد یوسف، وائس ٹاؤنز چیئرمین شعیب بن ظہیر اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی میں پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے، جس کی بنیادی وجہ حکومتوں کی نااہلی ہے۔ شہریوں کو 21 دن بعد پانی فراہم کیا جاتا ہے، حالانکہ کراچی پورے پاکستان کی معیشت چلاتا ہے، لیکن یہاں کے عوام کو پانی جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں۔ شہر میں صفائی ستھرائی کا نظام ٹاؤنز اور یونین کونسلز کے پاس ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے منتخب ٹاؤن اور یوسی چیئرمینوں نے اختیارات نہ ہونے کے باوجود بلا تفریق کام شروع کیا، جبکہ نیو کراچی کے ٹاؤن چیئرمین کو پیپلز پارٹی نے نشانہ بنایا اور ایسے افسران تعینات کیے جو کام کرنے سے روکتے تھے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود کراچی میں تعمیر و ترقی کے کام جاری ہیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ کراچی کے سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان شہر کی تعمیر و ترقی کا استعارہ ہیں، ان کے دور میں کراچی کو بہترین انداز میں ترقی دی گئی، تاہم ان کے بعد چائنا کٹنگ نے شہر کو تباہ کردیا۔ کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ ووٹ دیے اور جماعت اسلامی کا میئر بنانا چاہا، لیکن پیپلز پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے جماعت اسلامی کی میئر شپ پر قبضہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے منتخب ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن میں پانچ ہزار تعلیمی کارڈ فراہم کریں گے۔ کراچی کے عوام جماعت اسلامی کو بھرپور ووٹ دیتے اور اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ آئندہ انتخابات، خواہ بلدیاتی ہوں یا قومی، عوام اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں کہ دھاندلی کرنے والوں کو موقع نہ مل سکے۔ ووٹ ڈالنے کے بعد اپنے ووٹ کی حفاظت بھی کرنا ہوگی، اس مقصد کے لیے اے سی اور ڈی سی دفاتر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ وڈیروں، جاگیرداروں اور ان کے سرپرستوں کو عوامی مینڈیٹ پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ عجیب تماشا ہے کہ اداروں کو ڈاکو اور چور ہی پسند آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چوروں اور ڈاکوؤں کو مسلط کرکے کراچی کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے۔