تعلیمی تبدیلی کا منشور
تعلیم قومی تجدید کی بنیاد
پاکستان کی تعمیرِ نو محض نقد امداد کے بل بوتے پر ممکن نہیں۔ اسے تعلیمی معاونت، فنی و پیشہ ورانہ مہارتوں کی فراہمی اور مصنوعی ذہانت کی معاونت درکار ہے۔
تعلیم پر سرکاری اخراجات کو موجودہ قلیل ترین سطح سے بتدریج بڑھا کر جی ڈی پی (GDP) کے 4 سے 5 فیصد تک لایا جائے گا، جبکہ فنڈز کی فراہمی کو حاضری، تعلیمی نتائج، اساتذہ کی دستیابی، بنیادی ڈھانچے اور ضلعی سطح پر شفاف ترسیل سے مشروط کیا جائے گا۔
تعلیم کو آئینی حق اور قومی سلامتی کی ترجیح سمجھا جائے گا۔
ہمہ گیر اور لازمی تعلیم
ہر بچے کو میٹرک تک مفت اور لازمی تعلیم دی جائے گی۔ ایک خصوصی قومی ضمانت کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا کہ ہر بچی کم از کم دسویں جماعت تک مفت تعلیم حاصل کرے اور کالج، یونیورسٹی، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم میں بھی مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
پہلا قومی ہدف ضلعی سطح پر چلائی جانے والی بحالی مہم کے ذریعے اسکولوں سے باہر تمام بچوں (آؤٹ آف اسکول چلڈرن) کا داخلہ یقینی بنانا ہوگا:
بچے کی شناخت ←خاندان کی شمولیت ←اسکول میں جگہ ←ٹرانسپورٹ کی سہولت یا اس کے لیے وظیفے کی فراہمی←حاضری کی نگرانی ←سیکھنے کے مواقع
کسی صوبے کو کمزور اعداد و شمار کے ذریعے اسکول سے باہر بچوں کو چھپانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سرکاری تعلیم کی بحالی
ریاست سرکاری نظامِ تعلیم کو بے یار و مددگار چھوڑنے کے بجائے اسے مستحکم اور بااختیار بنائے گی۔ آؤٹ سورسنگ کو حکومتی دستبرداری، دانستہ غفلت کے ذریعے خاموش نجکاری، یا قیمتی عوامی اثاثوں کی منتقلی کا پردہ نہیں بننے دیا جائے گا۔
جہاں کہیں شراکت داری (پارٹنرشپ) ناگزیر ہوگی، وہ مکمل شفاف، معینہ مدت کے لیے، ٹھوس نتائج سے مشروط اور آزادانہ عوامی آڈٹ کے تابع ہوگی۔
اس مقصد کے لیے ایک "قومی اسکول بحالی پروگرام" شروع کیا جائے گا جو درج ذیل امور انجام دے گا:
- عمارتوں، بیت الخلا، پینے کے صاف پانی، بجلی اور چاردیواریوں کی بحالی و مرمت۔
- اساتذہ کی خالی اسامیوں پر تقرر۔
- اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی اور جدید و پیشہ ورانہ تربیت کا باضابطہ نظام۔
- سائنس، کمپیوٹر اور ووکیشنل (فنی) لیبارٹریوں کا قیام۔
- طالبات اور معذور بچوں کے لیے اسکولوں تک محفوظ اور سہل رسائی کی فراہمی۔
- متروک اور غیر استعمال شدہ سرکاری جائیدادوں کو اسکولوں میں تبدیل کرنا۔
کراچی کے فیڈرل بی ایریا میں ایک متروک شہری عمارت کو تعلیمی سہولت میں تبدیل کرنا ایک عملی نمونہ فراہم کرتا ہے: غیر استعمال شدہ عوامی املاک کو ناجائز تجاوزات، ویرانی یا کمرشل مافیا کے قبضے کی نذر ہونے کے بجائے علم و آگہی کے مراکز میں ڈھالنا چاہیے۔
تعلیم کارڈ
جماعتِ اسلامی کی زیرِ قیادت گلبرگ ٹاؤن (کراچی) کی مقامی حکومت کے ذریعے متعارف کروائے جانے والے "تعلیم کارڈ" کو ایک شفاف، قومی تعلیمی معاونت کے ماڈل کے طور پر وسعت دی جائے گی۔
اس کے ابتدائی ماڈل کے تحت تیسری سے آٹھویں جماعت کے مستحق طلبہ کو یونیفارم، جوتوں، اسٹیشنری اور دیگر ضروری تعلیمی سامان کے لیے 10,000 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ نظام مکمل طور پر کیش لیس (کیش کے بغیر) اور پیپر لیس (کاغذی کارروائی سے پاک) ہے، جو ایک موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور اس میں پہلے ہی سینکڑوں اسکول شامل ہو چکے ہیں۔
اس وسیع نظام کے تحت درج ذیل اقدامات کیے جائیں گے:
- داخلے اور حاضری کی تصدیق۔
- منظور شدہ تعلیمی اخراجات کے لیے براہِ راست امداد کی منتقلی۔
- حقدار کے چناو میں سیاسی انتخاب کو روکنا۔
- کم آمدنی والے خاندانوں، یتیموں اور معذور بچوں کو ترجیح۔
- ذاتی معلومات ظاہر کیے بغیر ضلعی سطح پر مستحقین اور اخراجات کے اعداد و شمار شائع کرنا۔
زبان، نصاب اور قومی شناخت
اردو مؤثر سرکاری زبان اور ابتدائی سطح کا بنیادی ذریعہِ تعلیم بنے گی۔ بچوں کو تصورات پہلے اسی زبان میں سمجھنے چاہئیں جسے وہ سمجھ سکیں۔ انگریزی اور دیگر غیر ملکی و مقامی زبانیں باقاعدگی سے مضامین کے طور پر پڑھائی جائیں گی اور جہاں تعلیمی طور پر مناسب ہو بتدریج استعمال ہوں گی۔
نصاب میں شامل ہوگا:
- قرآنی اخلاق اور سیرت۔
- آئینی شہریت۔
- سائنس اور ریاضی۔
- تاریخ اور سماجی فہم۔
- ڈیجیٹل اور میڈیا کے مثبت استعمال کی تعلیم۔
- ماحولیاتی ذمہ داری۔
- مالیاتی شعور و فہم۔
- تنقیدی اور تجزیاتی سوچ۔
- عملی اور پیشہ ورانہ تعلیم۔
اسلامی تشخص کو محض ایک الگ تھلگ مضمون کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا؛ دیانت داری، پاکیزگی و صفائی، نظم و ضبط، خدمتِ خلق، خواتین کا احترام، رزقِ حلال، سماجی و عوامی ذمہ داری اور حسنِ سلوک کو پورے تعلیمی ماحول اور روزمرہ ماحول کا حصہ بنایا جائے گا۔
اساتذہ اور ادارہ جاتی احتساب
ایک "قومی فریم ورک برائے پیشہ ورانہ ترقیِ اساتذہ" قائم کیا جائے گا، جو مسلسل پیشہ ورانہ اسناد (سرٹیفیکیشن)، مضامین کی خصوصی تربیت اور تدریسی عمل میں عملی معاونت فراہم کرے گا۔
اساتذہ کی حاضری، اسکولوں کے بجٹ، بنیادی ڈھانچے کی صورتِ حال اور بچوں کے تعلیمی نتائج عوامی ڈیش بورڈز کے ذریعے عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔ کمیونٹی اسکول کونسلوں میں والدین، اساتذہ، مقامی منتخب نمائندوں اور تعلیمی ماہرین کو شامل کیا جائے گا۔
تعلیمی بجٹ کا آڈٹ صرف اخراجات پر نہیں بلکہ حاصل شدہ ٹھوس نتائج کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ فعال کلاس رومز، اساتذہ کی موجودگی اور حقیقی تعلیمی پیش رفت کے بغیر محض بجٹ کے اعلانات کو ترقی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور پالیسی سازی کی صلاحیت
یونیورسٹیاں قومی ضروریات سے اس طرح جڑی ہوں گی:
- اطلاقی تحقیق (اپلائیڈ ریسرچ) کے لیے فنڈز۔
- صنعت اور جامعات کے درمیان اشتراکِ عمل۔
- عوامی سطح کی لیبارٹریاں۔
- زراعت اور موسمی تحقیق۔
- طبی اور ادویہ سازی کی جدت طرازی(انوویشن)۔
- دفاعی اور انجینئرنگ کے شعبہ جات میں تحقیق۔
- ڈیٹا سائنس، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے پروگرام۔
- کاروبار اور انکیوبیشن کی سہولتیں۔
ایک پارلیمانی تربیتی اکیڈمی اور آزادانہ طور پر آڈٹ شدہ تھنک ٹینکس شواہد و حقائق پر مبنی قانون سازی کو مستحکم بنائیں گے۔ بیرونی فنڈنگ پر چلنے والے تمام تحقیقی ادارے اپنے مالیاتی ذرائع، شرائط اور مفادات کے تصادم کو مکمل طور پر ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے۔
طلبہ یونینز کو باضابطہ، پرامن اور جمہوری انتخابات کے ذریعے بحال کیا جائے گا۔ تعلیمی اداروں کی حدود کو اسلحے، جبر، منشیات اور سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں ہونے والے تشدد سے ہر قیمت پر پاک اور محفوظ رکھا جائے گا۔
ابتدائی سطح پر نفاذ کا سلسلہ
اسکول سے باہر بچوں کی مردم شماری ←تعلیمی مالیات کی اصلاح ←اسکول کی بحالی ←اساتذہ کی بھرتی اور تربیت ← تعلیم کارڈ کی معاونت ←نصاب کی تجدید ←عوامی تعلیمی ڈیش بورڈ
بنیادی نتائج
- عالمگیر اسکول داخلہ۔
- میٹرک سطح تک مفت تعلیم۔
- بچیوں کے لیے برابر رسائی۔
- گھریلو تعلیمی اخراجات میں کمی۔
- مضبوط سرکاری اسکول۔
- ماہر اور جواب دہ اساتذہ۔
- قومی ترقی سے جڑی یونیورسٹیاں۔