معاشی بااختیاری کا فریم ورک

قرض نہیں، ہنر کے ذریعے باوقار زندگی۔

اسلامی معیشت کا مطلب صرف سود پر پابندی نہیں ہے۔ یہ فرد کو بااختیار بنانے کے بارے میں ہے۔ ہم مستقل قرضوں کے آئی ایم ایف کے جال کو مسترد کرتے ہیں اور خود انحصاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

کلیدی اقدامات:

  • بنو قابل: روزگار کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 10 لاکھ سے زائد نوجوانوں کو فری لانسنگ اسکلز، آئی ٹی اور مختلف ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔
  • سود سے پاک مائیکرو فنانس: ربا کے بوجھ کے بغیر چھوٹے کاروباروں کے لیے سرمایہ فراہم کرنا۔
  • مزدور اور کسان کے حقوق:مناسب و  منصفانہ اجرت، زرعی اصلاحات، اور جاگیردارانہ استحصال کے خلاف تحفظ کی وکالت۔
  • وسائل کی قومی خودمختاری: قومی وسائل عوام کے ہیں، غیر ملکی قرض دہندگان کے نہیں۔

ہمارا معاشی وژن:

”اسلام کا مقصد فرد اور معاشرے کے درمیان ایک ایسا توازن قائم کرنا ہے جو فرد کی آزادی کو پروان چڑھائے اور ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنائے کہ یہ آزادی مجموعی طور پر معاشرے کی نشوونما اور امن و سکون کے لیے مثبت ثابت ہو۔“

- سید ابوالاعلیٰ مودودی

ہم ایسی معیشت تعمیر کر رہے ہیں جو محض اعداد و شمار نہ ہو بلکہ انسانوں کی خدمت کرے۔