محمد مرسی

مصر

سوانح اور ابتدائی زندگی

محمد مرسی عیسیٰ العیاط 8 اگست 1951ء کو گاؤں العدوہ، ضلع شرقیہ، مصر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور 1982ء میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے امریکہ اور بعد میں مصر کی زقازیق یونیورسٹی میں انجینئرنگ پڑھائی۔ بیرونِ ملک آرام دہ تعلیمی کیریئر کے مواقع کے باوجود انہوں نے مصر واپس آنے اور اخوان المسلمون کے کام کے لیے خود کو وقف کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں وہ طالب علمی کے زمانے میں شامل ہو چکے تھے، اور بالآخر اس کے شوریٰ بیورو کے رکن اور سیاسی شعبے کے سربراہ بن گئے۔

سیاسی کیریئر

مرسی 2000ء سے 2005ء تک مصری پارلیمنٹ کے ایک آزاد رکن کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، اس وقت جب اخوان باضابطہ طور پر پابندی کا شکار تھی مگر آزاد امیدواروں کے طور پر برداشت کی جاتی تھی۔ 2011ء کے انقلاب کے بعد، جس نے حسنی مبارک کا تختہ الٹ دیا، اخوان نے فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی قائم کی اور مرسی اس کے چیئرمین بنے۔ وہ جون 2012ء میں مصر کے پہلے آزادانہ صدارتی انتخاب میں، سابق مبارک حکومت سے وابستہ احمد شفیق کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے۔

دینی و سیاسی خدمات

بحیثیت صدر، مرسی نے ایک ایسا پروگرام اپنایا جس کا مقصد تھا:

● عشروں کی فوجی حمایت یافتہ آمریت کے بعد عوامی مرضی پر مبنی آئینی عمل کی بحالی

● خارجہ پالیسی میں مصری خودمختاری کا اظہار، بشمول علاقائی اور مغربی طاقتوں کے حوالے سے زیادہ آزادانہ موقف

● نومبر 2012ء کے غزہ تنازع کے دوران فلسطینیوں کی حمایت کا اظہار، اور ایک جنگ بندی کی ثالثی جسے بڑے پیمانے پر ان کی سفارتی کاوشوں سے منسوب کیا گیا

● آئینی اصلاحات کی کوشش جنہیں ان کے حامیوں نے عوامی زندگی میں اسلامی شناخت کی بحالی قرار دیا، اگرچہ یہ کوششیں ملکی سطح پر شدید متنازع ثابت ہوئیں

ان کی صدارت بمشکل ایک سال چل سکی، اور 3 جولائی 2013ء کو، ان کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں اور اس کے بعد اخوان پر کریک ڈاؤن کے بعد، اس وقت کے وزیرِ دفاع عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں فوج نے انہیں معزول کر دیا۔

نظر بندی اور وفات

معزولی کے بعد، مرسی کو طویل عرصے تک زیرِ سماعت حراست اور بعد ازاں تنہائی قید میں رکھا گیا ۔ ایسے حالات جن پر ان کے اہلِ خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، نے بارہا تنقید کی کہ انہیں ذیابیطس اور دیگر صحت کے مسائل کے باوجود مناسب طبی دیکھ بھال سے محروم رکھا گیا۔ 17 جون 2019ء کو مرسی قاہرہ کی ایک عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران بے ہوش ہوئے اور کچھ ہی دیر بعد انتقال کر گئے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے ایک پینل نے بعد ازاں کہا کہ ان کی وفات کے حالات، طبی امداد سے دستاویزی محرومی کے پیشِ نظر، ریاست کی جانب سے منظم قتل کے مترادف ہو سکتے ہیں۔

امت پر اثرات

مرسی کا اپنی قید کے برسوں کے دوران رویہ اسلامی تحریک کے وسیع حلقوں میں جبر کے سامنے صبر و ثبات کی ایک مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ حراست میں ان کی وفات کو ان قیمتوں کی واضح مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو پرامن، انتخابی ذرائع سے اسلامی سیاسی تبدیلی کی جدوجہد کرنے والوں کو ادا کرنی پڑتی ہیں۔

جماعتِ اسلامی سے تعلق

● مرسی کی 2012ء کی انتخابی فتح کو جماعتِ اسلامی پاکستان نے عالمی اسلامی تحریک کے لیے ایک سنگِ میل کامیابی کے طور پر خوش آمدید کہا، جو یہ ظاہر کرتی تھی کہ ایک منظم اسلامی جماعت ووٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کر سکتی ہے۔

● امیر سید منور حسن نے علی الاعلان مرسی کو مبارکباد دی اور اخوان کے جمہوری مینڈیٹ سے جماعت کی یکجہتی کا اظہار کیا۔

● جماعت کی قیادت نے 2013ء کی بغاوت اور اس کے بعد اخوان کے کارکنوں اور حامیوں پر کریک ڈاؤن کی مذمت کی۔

● جون 2019ء میں ان کی وفات پر جماعتِ اسلامی پاکستان نے ملک بھر کے شہروں میں غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا، اور سینئر رہنماؤں نے انہیں  خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے بیانات جاری کیے۔