اسلامی تحریک، نظریاتی شناخت اور بدلتے ہوئے عصری تقاضے
سید فراست شاہ
پچھلے چند،دنوں میں ہمارے چند دوستوں کی تحریروں میں اسلامی تحریکوں کے نصب العین، نظریاتی شناخت اور حکمتِ عملی میں تبدیلی کے حوالے سے ایک اہم بحث سامنے آئی ہے۔ ان تحاریر کا بنیادی سوال قابلِ غور ہے: کیا کسی تحریک کی کامیابی کے لیے اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی کہیں اس کے اصل مقصد اور شناخت کو متاثر تو نہیں کرنے لگتی؟ یہ ایسا سوال ہے جسے نظرانداز کرنے کے بجائے سنجیدہ علمی بحث کا موضوع بنانا چاہیے۔
جہاں دوستوں نے جماعتِ اسلامی کے ساتھ اپنی وابستگی کی بنیاد اس کے دستور، نصب العین اور اقامتِ دین کی جدوجہد کو قرار دیا ہے۔ وہاں ان کا یہ اصرار بھی بجا ہے کہ تحریک کو زندہ رکھنے کی کوشش میں اس مقصد کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے جس کے لیے وہ قائم کی گئی تھی۔ اسی طرح یہ تنبیہ بھی قابلِ غور ہے کہ کسی دوسری تحریک کی کامیابی یا اس کے اختیار کردہ سیاسی ماڈل کو اپنے معاشرے میں من و عن نافذ کرنے کے بجائے اپنے سماجی، مذہبی اور تاریخی حالات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
تاہم اس بحث میں ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: نصب العین پر استقامت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے تمام تصورات، ترجیحات اور طریقۂ کار بھی ہمیشہ ایک جیسے رہیں۔
تنظیم اور تحریک کا بنیادی فرق
مرحوم خرم مرادؒ کی فکر سے اس سلسلے میں رہنمائی ملتی ہے۔ ان کے ہاں تنظیم اور تحریک کے فرق کو سمجھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تنظیم کسی مقصد کے لیے قائم کیا جانے والا ڈھانچہ ہے، جب کہ تحریک ایک زندہ دعوت، ایک مسلسل جدوجہد اور معاشرے کو متاثر کرنے والی ایک متحرک قوت کا نام ہے۔ تنظیم اپنی بقا اور نظم کو اہمیت دیتی ہے، لیکن تحریک کو اپنے مقصد کے ساتھ ساتھ معاشرے کے بدلتے ہوئے حالات، لوگوں کی ضروریات اور دعوت کے مؤثر تقاضوں کا بھی ادراک رکھنا پڑتا ہے۔
خرم مرادؒ کی فکر کا حاصل یہ ہے کہ تحریک کو محض ایک قائم شدہ تنظیمی ڈھانچے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اسے اپنی اصل دعوت برقرار رکھتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کو سمجھنا اور اپنے طریقۂ کار کو مؤثر بنانا ہوتا ہے۔ اس لیے وقت کے ساتھ ہم آہنگی بذاتِ خود نظریاتی انحراف نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ تبدیلی کس دائرے میں اور کن اصولوں کے تحت کی جا رہی ہے۔
تبدیلی کا خدشہ بھی حقیقی ہے، اور تبدیلی کی ضرورت بھی
جب کسی تحریک میں حکمتِ عملی، ترجیحات یا عوام سے رابطے کے طریقوں میں تبدیلی آتی ہے تو اس کے بعض پرانے وابستگان کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا یہ تبدیلی ہمیں اپنے فکری اور نظریاتی اصل سے دور تو نہیں لے جا رہی؟ یہ تشویش لازماً تبدیلی کی مخالفت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ اسی مقصد سے گہری وابستگی کا اظہار ہوتی ہے جس کے تحفظ کے لیے تحریک قائم کی گئی تھی۔
اس لیے ایسے سوالات کا جواب محض یہ کہہ کر نہیں دیا جا سکتا کہ زمانہ بدل گیا ہے اور ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔ یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ کیا تبدیل ہو رہا ہے، کیوں تبدیل ہو رہا ہے، اور اس تبدیلی کا بنیادی نصب العین سے کیا تعلق ہے۔ اختلاف اور تنقید کو دبانے کے بجائے دلیل، تحقیق اور مکالمے کے ذریعے ان خدشات کا ازالہ ہونا چاہیے۔ اس سے نہ صرف وابستگان کا اعتماد مضبوط ہوگا بلکہ اس امر کا امکان بھی کم ہوگا کہ جس نظریاتی انحراف کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، وہ عدم توجہی کے باعث حقیقت بن جائے۔
یہاں جماعت کے تحقیقی اداروں کی ذمہ داری غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ ان کا کام صرف موجودہ پالیسیوں کی تائید میں دلائل فراہم کرنا نہیں، بلکہ بنیادی تصورات کی وضاحت، مختلف آرا کا علمی جائزہ، نئی حکمتِ عملیوں کے نتائج کا تجزیہ اور قیادت و کارکنان کے درمیان فکری ابہام کا ازالہ بھی ہے۔ درحقیقت یہی تحقیق اور فکری رہنمائی ان اداروں کے قیام کے اہم مقاصد میں شامل ہونی چاہیے۔
عقیدہ، نظریہ اور حکمتِ عملی: ایک ضروری امتیاز
اس بحث میں عقیدے، نظریے اور حکمتِ عملی کے درمیان فرق کو بھی واضح کرنا ضروری ہے۔
عقائد دین کے بنیادی اور ثابت شدہ حقائق سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں وقتی مصلحت، سیاسی کامیابی یا عوامی مقبولیت کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس، ان اصولوں کی روشنی میں معاشرے کو سمجھنے، مسائل کی ترجیح متعین کرنے، سیاسی و سماجی حالات کا تجزیہ کرنے اور عملی راستہ اختیار کرنے میں اجتہاد اور تنوع کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
نظریے کو اگر عقائد ہی کے مترادف سمجھ لیا جائے تو فکری ارتقا اور اجتہاد کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ نظریے کو بنیادی عقائد و اقدار کی روشنی میں انسانی، سماجی اور سیاسی حقائق کی تعبیر اور ان کے مطابق اجتماعی جدوجہد کی سمت متعین کرنے والا فکری زاویۂ نظر سمجھا جائے۔ اس میں اصولی حدود برقرار رکھتے ہوئے تعبیر، ترجیحات اور عملی حکمتِ عملی پر نظرثانی ممکن ہے۔
یہاں ایک احتیاط بھی ضروری ہے: ہر اختلاف کو محض حکمتِ عملی کا اختلاف قرار دے دینا درست نہیں، لیکن ہر فکری تبدیلی کو عقائد سے انحراف سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ کسی تبدیلی کی نوعیت کا تعین اس کے نام یا ظاہری شکل سے نہیں، بلکہ اس کے اصل مضمون، بنیادوں اور نتائج کے جائزے سے ہونا چاہیے۔
سنتِ نبویؐ سے تدریج اور عوامی قبولیت کا سبق
دعوتِ اسلامی کی تاریخ میں تدریج کی اہمیت نمایاں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں دکھاتی ہے کہ بنیادی عقائد اور دعوت کے مرکزی پیغام پر استقامت کے ساتھ لوگوں کی ذہنی و معاشرتی کیفیت، حالات اور مواقع کو بھی ملحوظ رکھا گیا۔ مکی اور مدنی ادوار کے تقاضوں میں فرق، دعوت کے مختلف مراحل اور معاشرے کی تشکیل کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقے اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ اصولی استقامت اور عملی تدریج ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔
عوامی حمایت کے حصول کے حوالے سے بھی سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ اہم ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت میں حق کی وضاحت کے ساتھ حکمت، صبر، کردار، لوگوں کے مسائل سے تعلق اور تدریجی تربیت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ لوگوں تک پہنچنے، ان کا اعتماد حاصل کرنے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے مؤثر اسلوب اختیار کرنا اصولوں سے دست برداری نہیں، بلکہ دعوت کی کامیابی کا اہم تقاضا ہے۔
البتہ عوامی مقبولیت بذاتِ خود کسی حکمتِ عملی کے درست ہونے کی حتمی دلیل نہیں۔ مقبولیت کو اصولی وفاداری، اخلاقی حدود اور حقیقی اجتماعی نتائج کے ساتھ پرکھنا چاہیے۔ اسی طرح اصولوں پر استقامت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دعوت کے اسلوب اور معاشرے سے تعامل کے طریقوں کو غیر متغیر سمجھ لیا جائے۔ دراصل ایک اعتبار سے تحریک اسلامی کے لیے ( خشیت بھی تنظیم کے لیے نہیں)؛عوامی حمایت میں اضافہ اپنی کارکردگی کو ناپنے کا ایک پیمانہ ہو سکتا ہے۔
آج تبدیلی زیادہ تیز ہے، اس لیے اس کا تاثر بھی مختلف ہے
موجودہ دور میں سماجی، سیاسی، ابلاغی اور معاشی تبدیلیوں کی رفتار غیر معمولی ہو چکی ہے۔ جو تبدیلیاں پہلے کئی دہائیوں میں سامنے آتی تھیں، وہ اب چند برسوں میں معاشرتی رویوں، سیاسی ترجیحات اور عوامی توقعات کو تبدیل کر دیتی ہیں۔ ایسے میں کسی تحریک کی جانب سے اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی نسبتاً زیادہ نمایاں محسوس ہوتی ہے۔
اسی تیز رفتار تبدیلی کے باعث بعض اوقات یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شاید تحریک اپنے اصل راستے سے ہٹ رہی ہے، حالاں کہ ممکن ہے کہ تبدیلی صرف دعوت کے انداز، سیاسی ترجیحات یا عوامی مسائل سے تعامل کے طریقے میں ہو۔ دوسری طرف یہ امکان بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض عملی تبدیلیاں بتدریج بنیادی فکری تصورات پر اثر انداز ہونے لگیں۔ اس لیے نہ ہر تبدیلی کو انحراف سمجھنا چاہیے، نہ ہر تبدیلی کو محض عصری تقاضوں کا نام دے کر تنقید سے بالاتر قرار دینا چاہیے۔
صحیح راستہ مسلسل علمی احتساب، تحقیق، مشاورت اور نتائج کے جائزے کا ہے۔ تعمیری تنقید تحریک کو کمزور نہیں کرتی؛ اگر وہ دلیل، اخلاص اور اصلاح کے جذبے کے ساتھ ہو تو اس کی فکری قوت میں اضافہ کرتی ہے۔
قیادت پر اعتماد اور جواب دہی ساتھ ساتھ
جماعتِ اسلامی کا ایک اہم امتیاز اس کا منظم مشاورتی اور انتخابی نظام ہے، جس کے ذریعے ذمہ داریاں ایسے افراد کو سونپنے کی کوشش کی جاتی ہے جو تحریک کے مقاصد، فکری روایت اور عملی تقاضوں سے واقف ہوں۔ اس نظام اور قیادت پر اعتماد رکھنا ضروری ہے۔ ہر تبدیلی کو بدگمانی کی نظر سے دیکھنا نہ تحریک کے حق میں ہے اور نہ اجتماعی فیصلوں کے لیے مفید۔
لیکن قیادت پر اعتماد کا مطلب سوالات سے دست برداری بھی نہیں۔ اعتماد، مشاورت، تنقید اور جواب دہی ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ مضبوط قیادت وہی ہوتی ہے جو اپنے فیصلوں کی فکری بنیاد واضح کر سکے، اختلاف کو سن سکے اور تحقیق کی روشنی میں اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنے کی صلاحیت رکھے۔ اسی طرح وابستگان کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ قیادت کے فیصلوں کو سمجھنے کی کوشش کریں، اپنے تحفظات کو دلیل کے ساتھ پیش کریں اور محض تاثر یا اندیشے کی بنیاد پر حتمی فیصلے صادر نہ کریں۔
اصل سوال: کیا بدلا ہے اور کیا برقرار ہے؟
دوستوں کی حالیہ تحریر یں جن کے حوالہ سے بات شروع ہوئی، ہمیں ایک اہم سوال کی طرف متوجہ کرتی ہیں: کیا ہم اپنے نصب العین کو واضح رکھتے ہوئے بدلتے ہوئے معاشرے سے مؤثر طور پر تعامل کر رہے ہیں؟ اس سوال سے بچنا نہیں چاہیے۔ لیکن اس کا جواب اخوان المسلمین، ترکیہ، تیونس یا کسی دوسری تحریک کے تجربات کو دیکھ کر براہِ راست اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر تحریک کا تاریخی پس منظر، معاشرتی ماحول، فکری روایت اور عملی تجربہ مختلف ہوتا ہے۔ ان تجربات سے سبق ضرور لیا جا سکتا ہے، لیکن ان پر حکم لگانے اور اپنی حکمتِ عملی متعین کرنے کے لیے الگ الگ شواہد اور سیرت کی روشنی میں تفصیلی علمی مطالعہ درکار ہے۔
جماعتِ اسلامی کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی بنیادی فکری روایت اور دستور کے تقاضوں کو واضح رکھتے ہوئے موجودہ معاشرے کی ضروریات، عوامی توقعات اور بدلتے ہوئے حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے۔ اس عمل میں پرانے وابستگان کے تجربے اور نئے لوگوں کے سوالات، دونوں کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
بالآخر، ہمیں صرف تنظیم کو برقرار رکھنے کی فکر نہیں کرنی، بلکہ اس دعوت، مقصد اور نصب العین کو بھی زندہ رکھنا ہے جس کے لیے تنظیم قائم ہوئی تھی۔ لیکن اس مقصد کی خدمت کے لیے تنظیم کو ایک زندہ تحریک بنائے رکھنا، زمانے کو سمجھنا، حکمتِ عملی میں اجتہاد کرنا اور اپنے فیصلوں کا مسلسل جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
نصب العین پر استقامت اور حکمتِ عملی میں لچک ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنی فکری شناخت برقرار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھیں، عوام کے مسائل سے مؤثر تعلق قائم کریں اور اپنی دعوت کو زیادہ قابلِ فہم، مؤثر اور نتیجہ خیز بنائیں۔ یہی وہ توازن ہے جسے برقرار رکھنے کے لیے قیادت، کارکنان اور تحقیقی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔