کیا جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے؟
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا جواب
ویب ڈیسک
ابتدائیہ: جماعت اسلامی پر سیاسی مخالفین اور مخصوص عناصر کی جانب سے کیے جانے والے اعتراض "جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے" کا جواب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی زبانی
"دیکھیں یہ جو بات کرتے ہیں نا آپ لوگ، جب یہ ٹائٹل لگاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ کہتے ہیں کہ عوام آپ کو یہ بات کہیں، اسے کہتے ہیں نیم کالنگ۔
اسٹیبلشمنٹ کی اے ٹیم، اے پلس ٹیم، بی ٹیم، اس میں صحافی بھی شامل ہیں بہت سارے جو یہ سارے نیریٹو بنا رہے ہوتے ہیں اور اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جماعت اسلامی سے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ کرپشن روک دے گی، کھائے گی نہیں، نہ کھانے دے گی۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے بہت مزے کیے ہیں ان سب حکومتوں میں۔ ایسا تو نہیں ہے نا یہ سسٹم ایسے تھوڑی ہی بگڑا ہے۔ تو وہ اس لیے ہمیں یہ الزام لگا کر مزے کر رہے ہوتے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کی اگر کوئی ٹیم ہوتی ہے تو وہ اس کا میئر جیتا ہوا ہار جائے، جیتی ہوئی سیٹیں ہار جائے وہ بی ٹیم ہے اور جو 5000 پولنگ اسٹیشن ہارنے کے بعد 15 سیٹیں لے لیں، ان کے بارے میں آپ کچھ نہ کہیں۔ ان سے کہیں ان کا مینڈیٹ ہے، تو یہ بھی تو آپ کو بھی تو سوچنا چاہیے یا آپ جیسے لوگوں کو سوچنا چاہیے۔ اس لیے ایم کیو ایم تو کمپلیٹلی ہار گئی ہے۔
دیکھیں یہی پرابلم ہے آپ لوگوں کا۔ میری ساری تقریریں اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ جتنی بات ہے اتنی کروں گا۔ میں گالی نہیں دے سکتا۔ میرا پرابلم یہ ہے کہ میں گالی کسی کو بھی نہیں دے سکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ کبھی بھی پی ٹی آئی کے بارے میں یہ بات نہیں بتائیں گے کہ اس کا ایمرجنس کیسے ہوا، آپ نہیں بتائیں گے کہ بھٹو ایوب خان کو ڈیڈی کہتا تھا، یحییٰ خان کے ساتھ مل کر ملک توڑا، 77 مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا، مارشل لا لگ گیا۔ بے نظیر صاحبہ کے زمانے میں این آر او کر کے مشرف سے اقتدار میں دوبارہ آئے۔ تاریخ کا حصہ ہے۔
آپ کہیں نا وہ اے پلس ٹیم میں ہے۔ آپ فرمائیں نا کہ وہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم ہے۔ اس کے ساتھ نون لیگ ہے۔ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے آگے آئی۔ ایم کیو ایم کو تو یہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تو ہے ہی۔ یہ بات نہیں کہتے آپ۔ آپ سوال مجھ سے کر رہے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ جس کا راستہ روک رہی ہے۔ طلبہ یونین کے انتخابات جو اس وقت ملک میں نہیں ہو رہے، کیوں نہیں ہو رہا ہے؟
ایم کیو ایم کو کس نے لانچ کیا تھا جماعت اسلامی کے خلاف؟
پرسیپشن آپ بناتے ہیں تو بنتا ہے نا، آپ حقائق بیان کریں یہ میں عرض کر رہا ہوں۔
آپ خود مخالف بن جائیں گے سوال کرتے ہوئے۔
تو پھر مخالفین تو آپ ہی ہو جائیں گے نا، حقائق بیان کریں نا۔ صحافت کا کام ہوتا ہے حقائق کو بیان کرنا، فیکٹس پہ بات کرنا۔ پرسیپشن پہ بات کرنا، یہ کہیں کہ یہ پرسیپشن اتنے لوگوں کا ہے ٹھیک ہے نا تو پھر تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ اس لیے یہ سوال بہت ہو گیا۔
دیکھیں جماعت اسلامی اگر اس کی ایک بھی سیٹ نہیں ہے اور فارم 47 پہ حکومتیں بنی ہوئی ہیں، تو اسٹیبلشمنٹ کی ٹیم کون ہے؟
بتائیے، کہیں نا کہ آپ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں اس لیے آپ کی سیٹ نہیں ہے۔ یا یہ کہ کم سے کم آپ اسٹیبلشمنٹ کی عملداری کے قائل نہیں ہیں۔
فوجی عدالتوں کے خلاف کس نے ووٹ ڈالا تھا؟ جماعت اسلامی نے۔
ان سب پارٹیوں نے مل کر فوجی عدالتیں بنائی تھیں۔ آپ کہیں نا، آپ نے کبھی سوال نہیں کیا ان سے۔
آپ نے نہیں سوال کیا کہ باجوہ کو سب نے مل کر ووٹ کیوں ڈالا تھا، ایکسٹینشن کا۔
جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کس نے کی تھی؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن پی ٹی آئی کے زمانے میں ہوئی، بالکل ہوئی، پیپلز پارٹی شامل تھی، نون لیگ تھی، ایم کیو ایم تھی وغیرہ وغیرہ تھی۔ صرف جماعت اسلامی نہیں تھی۔ فوجی عدالتوں میں صرف جماعت اسلامی نے ووٹ نہیں ڈالا۔ ٹھیک ہے۔
میں نے اس وقت اپنی سیٹ واپس کی کہ مجھے اب نہیں چاہیے۔تو یہ سارے کام کیا ہیں؟ لیکن میں کبھی بھی یہ نہیں کروں گا کہ جب جنگ لگے گی، جنگ شروع ہو جائے گی انڈیا کے ساتھ، تو میں فوج کے خلاف بات کرنا شروع کر دوں۔ یہ میں کبھی بھی نہیں کروں گا۔ میں انڈیا کے خلاف بات کروں گا۔ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کی چیزوں میں لوگ وقتی طور پر کلٹ پولیٹکس میں ملک کے مفاد کے خلاف چلے جائیں۔ میں جب پاکستان کے اوپر حملہ ہوگا تو پوری قوم کو جوڑنے کی بات کروں گ۔
فلسطین کا مسئلہ ہوگا تو میں اسی فارم 47 والے وزیر اعظم کے پاس بھی جاؤں گا، بلاول کے پاس بھی جاؤں گا، پی ٹی آئی کے پاس بھی جاؤں گا اور گیا اور میں نے گورنمنٹ سے آل پارٹیز کانفرنس کروائی۔ اگر آپ اس کو کہتے ہیں کہ یہ سیاست صحیح نہیں ہے تو بھائی تمہیں تمہاری سیاست مبارک ہو۔ جس طرح سے پارٹیاں اسٹینڈ لیے ہوئے ہوتی ہیں بظاہر، کبھی کبھی اندر سے جس طرح کمپرومائز ہوتی ہیں ہم سب کو جانتے ہیں۔