Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کے ساتھ معاہدہ امت مسلمہ کے اتحاد پر کاری ضرب لگانے کے متراف ہے،محمد حسین محنتی


کراچی (اسٹاف رپورٹر) 15اگست2020 جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو امت مسلمہ کے اتحاد ویکجہتی پر کاری ضرب اور فلسطینی مسلمانوں کے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کی سرزمین اور قبلہ اول بیت المقدس مسجد اقصیٰ کسی عرب ملک یا عربوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مسئلہ پوری امت کا مسئلہ ہے، کسی عرب ملک یا ریاست کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ فلسطینی کاز اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ غداری کرتے ہوئے جارح اور قابض ظالم یہودی ریاست کو تسلیم اور ان کے تمام جرائم ومظالم کو قانونی طور پر تسلیم کرے۔انہوںنے آج ایک بیان میں مزید کہا کہ ٹرمپ اپنی دوسری صدارتی مدت کنفرم کرنے کیلئے عرب ممالک خاص طور پر بادشاہی نظام والی ریاستوں کو ایران، ترکی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کا خوف دلاکر،اپنی افواج کے ذریعے سے ان کی حکومتوں کو قائم رکھنے کی ضمانت فراہم کرکے اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کرنے کیلئے بلیک میل کررہا ہے ،عرب امارت کے اس اسلام اور مسلم دشمن فیصلے پر دیگر عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب کی مکمل خاموشی سوالیہ نشان ہے، امریکہ عربوں کے فیصلے کو پاکستان کی موجودہ کمزور حکومت پر بھی ٹھونسنے کی کوشش کرسکتا ہے ،پرویز مشرف کے دور میں خورشید قصوری کی اسرائیلی وزیرخارجہ سے ملاقات اور درپردہ اسرائیلی ناجائز حکومت سے سفارتی تعلقات بھی اس سلسلے کی کڑی ہیں کہ جب عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں تب پاکستان بھی ان کی پالیسیوں کو فالو کرسکتا ہے ،پاکستان پر قرضوں کا بوجھ، معاشی مجبوریاں اور دیگر مسائل کا بہانہ بناکر بڑے مالیاتی پیکیج کے بدلے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسا گھناﺅنا کام کروایا جائے گا اسلئے پاکستان کے غیور اور جرت مند قوم کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ متحدہ امارت کی جانب سے فلسطینی سرزمین پر مزید قبضہ نہ کرنے کی ضمانت کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے زمین سے دستبردار نہ ہونے کا بیان عربوں کے منہ پر طمانچہ ہے، دراصل متحدہ عرب امارات کا اسرائیلی ناجائز حکومت کے ساتھ معاہدہ امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے،کیوں کہ یہودیوں نے کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ کسی معاہدے پر عمل نہیں کیا ہے اسلئے عرب امارات کا یہ فیصلہ امت میں انتشار اور یہودی ظالم ریاست کو تقویت بخشتا ہے۔ جماعت اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ فلسطین کسی عرب ملک کا نہیں بلکہ پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دباﺅ پر کیا گیا یہ معاہدہ لاکھوں فلسطینوں کے خون سے غداری ہے،امت مسلمہ کا معاملہ کسی ایک عرب ریاست کے معاہدے سے ختم نہیں کیا جاسکتا،ہمارے حکمرانوں کی معاشی ،سیاسی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن فلسطین کے اشو پر پاکستان کے 22کروڑ عوام متفق ہیں کہ اسرائیل کی ناپاک وجود سے فلسطین کی زمین واگزار اور فلسطینیوں کو محکومی سے نجات کیلئے فلسطینی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہم ہرگز کسی ایک ملک کو فلسطین کاز کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس