Jamaat-e-Islami Pakistan |

لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہ ہونا بہت بڑا المیہ ہے،لیاقت بلوچ



لاہور 12اگست 2020ئ
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے سماجی تنظیموں کے رہنماﺅں اور بلوچستان ، گوادر ، پنجگور سے علماءکے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امت کے زوال کا علاج اتحاد امت ہے ۔ دشمنوں کی قوت مسلمانوں کے خلاف اور مسلم امہ دشمنوں سے مقابلہ کم اور باہم جنگ و جدل میں مصروف ہے ۔ اتفاق اور اختلاف انسانی فطرت ہے اگر ہم اندرونی دشمنی سے چھٹکارا پالیں تو اختلافات ، شدت اور مزاحمت کے اندھے جنوں سے نجات پاسکتے ہیں ۔ بلوچستان میں پاکستان دشمن بھارتی دہشتگر دی کا نیٹ ورک فعال ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کے عوام کو تعلیم ، انصاف ، ر وزگار ، اقتصادی ترقی میں احساس شرکت نہیں دے رہیں ۔ طویل مدت سے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہ ہونا بھی دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈ کے لیے سہولت کاری ہے ۔ بلوچستان کی مساجد ، مدارس ، منبر و محراب ، طلبہ اور علماءپاکستان کی بااعتماد دفاعی طاقت ہیں ۔ علمائے کرام سماج میں یہ ماحول عام کریں کہ صداقت اور باہمی انصاف ، اختلافات میں رواداری ، منفی کی بجائے مثبت و تعمیری ذہن ، جبر و تشدد کی بجائے دلائل ، ڈائیلاگ ، انفرادی اور گروہی عصبیت کی بجائے اتحاد امت و قومی سلامتی اور پاکستان کے اسلامی اور خوشحالی کے ایجنڈے کو ترجیح دی جائے ۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ نئے شہر اور بڑے منصوبوں کی تعمیر پر کسی کو کیا اختلاف ہوسکتاہے ۔ راوی سٹی پراجیکٹ عملاً پی ٹی آئی کے اپنے منشور اور عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد کی نفی ہے ۔ انہوںنے وعدہ کیا تھاکہ بر سر اقتدار آنے کے بعد اینٹوں ، سیمنٹ اور سریا کے منصوبوں کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر پیسہ خرچ کریں گے ۔ ماہرین نے راوی سٹی پراجیکٹ پر تحفظات اور اعتراضات کا اظہار کردیاہے کہ منصوبہ کے لیے مخصوص علاقہ ہمیشہ بڑے سیلابوں کی زد میں ہوتاہے ۔ اربوں کھربوں روپے کا انتظام ہو بھی جائے لیکن اس کے غرق ہونے کی تلوار لٹکتی رہے گی ۔ تمام بڑے شہروں سے سماجی فاصلہ پر منظم ، کمیونیکشن کے مضبوط نیٹ ورک کے ساتھ چھوٹے ٹاﺅن شپ آباد کیے جائیں وگرنہ بڑے شہرمزید مسائل ، ماحولیات اور ٹریفک کے اژدھام کاشکار ہو جائیں گے ۔
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس