Jamaat-e-Islami Pakistan |

مقبوضہ کشمیر پر,5اگست2019سے جاری لاک ڈاؤن اور مظالم کے خلاف پورے ملک میں یومِ سیاہ منایاگیا


 

لاہور 5اگست2020 ء:امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق کی اپیل پر 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدام اور بھارتی غاصب فوج کے مظلوم کشمیریوں کے استحصال کے خلاف آزاد و مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت پورے ملک میں یوم سیاہ منایا گیا ۔ چاروں صوبائی ہیڈکوارٹرز ، لاہور ، کراچی ، کوئٹہ اور پشاوراور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بڑی بڑی ریلیاں اور جلسے جلوس منعقد کیے گئے جن میں عوام کی بڑی اکثریت نے شرکت کی ۔ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے بھی بھارت مخالف اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ریلیوں میں شرکت کی ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر ڈی چوک میں ہونے والے مظاہرے کی قیادت امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق ، سیکرٹری جنرل امیر العظیم ، نائب امیر میاں محمد اسلم ، شمالی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم اور اسلام آباد کے امیرنصر اللہ رندھا وا، تنظیم تاجران کے صدر کاشف چوہدری نے خطاب اور این ایل ایف کے صدر شمس الرحمن سواتی ، راجہ جواد ، مولانا عارف شیرازی اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل راجہ فاضل نے بھی شرکت کی ۔

سینیٹر سراج الحق نے مظاہرے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سال کشمیر کے یک نکاتی ایجنڈے پر اوآئی سی کا اجلاس اسلام آباد میں بلایا جائے ۔ ایک منٹ کی خاموشی نہیں ، خاموشی کو توڑادو اور دنیا کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا جائے ۔ جب تک آپ دشمن کو دوست سمجھتے رہیں گے ، نقصان اٹھائیں گے ۔ حکومت جہاد کا اعلان کرے ۔ قرار دادیں کوئی راستہ نہیں ۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سینکڑوں قرار دادیں پاس کر چکی ہے ۔ کشمیر ہائی وے کے نام کو بحال کیا جائے ۔ سری نگر ہائی وے نام رکھنا ہے تو کسی دوسری سڑک کا رکھ لیں کشمیریوں نے اس کو مسترد کردیاہے ۔ حکومت نے بہت وقت ضائع کردیا اب اسے مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے پاس اب زیادہ وقت نہیں رہا ۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک جاری رہے گی ۔ 5 اگست2019 ءکے بعد بارہ ماہ سے کشمیر میں ڈبل لاک ڈاﺅن اور نسل کشی ہورہی ہے ۔ 30 ہزارسے زائد کشمیری نوجوان جیلوں میں ہیں ،کشمیر اس وقت چاروں طرف سے محاصرے اور دنیا کی بڑی جیل کا منظر پیش کر رہاہے ۔ کشمیر کو جیل خانہ بنانے میں پاکستان کے حکمرانوں کا بھی ہاتھ ہے ۔ بھارت کو ایل او سی پر باڑ لگانے کی اجازت پرویز مشرف نے دی ۔ امریکہ میں ایک سیاہ فام پولیس کے ہاتھوں قتل ہوتاہے تو پورا امریکہ اٹھ کھڑا ہوتاہے مگر کشمیر میں ہرروز قتل عام کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ اسلام آباد سنگ مرمر کا قبرستان بن چکاہے یہاں بڑے بڑے لوگ رہتے ہیں مگر یہ انتہائی چھوٹے اور غیر سنجیدہ لوگ ہیں ۔ آٹھ ماہ تک کشمیر کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں تھا ۔ پہلے فخر امام کو کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور جب انہوںنے کام شروع کیا تو ان کو بدل دیا ۔ آج تک پاکستانی حکمرانوں کی ایک ہی پالیسی رہی ہے یہ بڑے بڑے نعرے لگاتے ہیں اور پھر ہر بات اور وعدے کو بھول جاتے ہیں ۔ عمران خان نے اقوام متحدہ میں تقریر کرنے کے بعد واپس آ کر جنرل گریسی کی پالیسی پر چلتے ہوئے اعلان کیا کہ جو کشمیر کی طرف جائے گا وہ پاکستان کا غدار ہوگا ۔ حکومت جو اچھل کود کر رہی ہے یہ کشمیر کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ قوم کو دھوکہ دینے کے لیے ہے ۔ ان حکمرانوں کے آنے کے بعد معیشت تباہ اور معاشی نظام درہم برہم ہوگیاہے یہ کہتے ہیں کہ معیشت مضبوط ہوگی تو کشمیر آزاد ہوگا ۔ افغان قوم نے چالیس ممالک کی افواج نیٹو اور امریکی فوج کو شکست دی اور آخر امریکہ کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا ۔ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے بھارت سلامتی کونسل کا رکن بنا اور سعودی عرب اور امارات نریندر مودی کو ہا ر پہناتے ہیں ۔ ان حکمرانوں کی صفوں میں کوئی محمود غزنوی ، سلطان ٹیپو اور محمد بن قاسم نہیں آرہا۔ کشمیر کی آزادی کے لیے غیرت مند قیادت کی ضرورت ہے یہ حکومت گالی گلوچ کی سیاست لے کر آئی ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم آزاد کشمیر آج وزیراعظم پاکستان کے سامنے رو پڑے کہ ہم کب تک اپنے معصوم بچوں کی لاشوں کا تماشا دیکھتے رہیں گے اور اپنے جوانوں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے ۔ صدر آزاد کشمیر پاکستانی حکمرانوں کے رویے سے مایوس ہیں ۔ اسلام آباد کے ٹھنڈے دفاتر اور بنگلوں میں بیٹھ کر حکمرانی کرنے والوں کے لیے چار سالہ معصوم بچے اور اس کے نانا کی تصویر کافی تھی اگر ان کے دل میں کشمیریوں کا درد ہوتا تو حکمرانوں کی غیرت اور ایمان کو جگانے کے لیے کافی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیری پاکستان کی محبت اور آزادی کے لیے اپنی جانیں اور عصمتیں قربان کر رہے ہیں ۔ ماﺅں کے سامنے ان کے جگر گوشوں اور نوجوان بیٹوں اور بھائیوں کے سامنے ان کی ماﺅں اور بہنوں کی عصمت دری کی گئی ۔ معصوم بچے دودھ نہ ملنے کی وجہ سے روتے اور بلکتے ہیں ۔ مودی نے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا مودی نے بابری مسجد کو رام مندر تعمیر کرنے اور کشمیر کو بھارت کاحصہ بنانے کے دو وعدے پورے کردیے اور اب وہ آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کی باتیں کر رہاہے۔

کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے کہاکہ چار نسلوں سے کشمیریوں کا استحصال ہورہاہے ۔ ایسا استحصال کہ چار سال کے بچے کے سامنے اس کے نانا کو ، دادا کو اور باپ کو شہید کردیا جاتاہے جبکہ ہمارے حکمران بھارت کو سلامتی کونسل کا ممبر بنانے کے لیے ووٹ دے کر ہندوستان کے مسلمانوں کا استحصال کر رہے ہیں ۔ ہمارے حکمران قدم بقدم پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔ ہمارے حکمران کوئی اقدام کرنے کے بجائے تقریریں کر رہے ہیں اگر یہی صورتحال رہی تو اگلے پانچ سال میں مودی عمران خان کو دہلی میں تقریر کرنے کی دعوت دے گا کہ اپنا تقریر کا شوق پورا کر لو ۔ ہم جنگ نہیں چاہتے مگر کشمیر میں اور ایل او سی پر جنگ ہورہی ہے بھارت یہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ بھارت نے جنگ مسلط کی ہے ، حکمران دنیا کو بتانے کی بجائے بزدلوں کی طرح اسے چھپا رہے ہیں ۔ممبر قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ جہاد اللہ تعالیٰ نے ہم پر فرض کیا ہے جس قوم نے جہاد سے پہلو تہی کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و خوار کردیا ۔کشمیر جہاد سے آزاد ہوگا ۔ میں حکومت سے کہتاہوں کہ جہادکا اعلان کرے پوری قوم اس کی آواز پر لبیک کہے گی ۔سابق ممبر قومی اسمبلی نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم نے کہاکہ عمران خان کوتو سچ بولنے کی توفیق نہیں ۔ سچ یہ ہے کہ بائیس کروڑ پاکستانی عوام اور ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اب وقت آگیاہے کہ یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہو گی ۔ وزیراعظم نے مودی کی جیت کی دعا کی اور آج وہی مودی کشمیریوں پر ظلم و جبر اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کر رہاہے ۔ 35-A اور 370 کے نفاذ کے بعد مسلمانوں کا قتل عام اور نسل کشی جاری ہے اور ہمارے حکمران چپ سادھے بیٹھے ہیں ۔ 

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے چکوال میں کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 5 اگست 2019 ءانسانی ،جمہوری ، عالمی اقدار کی تاریخ میں بھارتی فاشسٹ مودی کے ریاست جموں و کشمیر کے مقبوضہ علاقہ میں اقدامات کی وجہ سے سیاہ ترین دن ہے ۔کشمیر یوں نے جرا ¿ت اور بہادری سے مقبوضہ ریاست کی متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کے بھارتی ناجائز اقدام کو مسترد کردیا ۔ ایک سال سے جاری مسلسل لاک ڈاﺅن ، سرچ آپریشن کے نام پر نوجوانوں کی گرفتاریاں ، حراستی قتل ، املاک ، اسباب ، زراعت ، باغات ، کاروبار کی بندش پر کشمیریوں کا دو ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوچکاہے ۔ عالمی قوانین کی خلاف ورزی بھارت کی سنگین دہشتگردی ہے ۔ عالمی برادری اور عالم اسلام کی بے حسی ، جانبداری تو المیہ ہے ہی لیکن سب سے بڑا حادثہ عمران خان حکومت کے مسئلہ کشمیر پر تقریری اور نمائشی اقدامات ہیں ۔ وقت کا تقاضا تھاکہ حکومت غفلت اور مجرمانہ بزدلی ترک کرتی اور پانچ اگست کو متفقہ قومی پالیسی دیتی ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے شاہراہ کشمیر کا نام تبدیل کر کے اور پاکستان کے نقشے میں ریاست جموں و کشمیر کو پاکستان میں بارڈر کی لکیر کھینچ کر اور بھارت کی جانب سے تمام راستے کھلے رکھ کر عملاً پس پردہ سازشوں کو از خود بے نقاب کردیاہے ۔ کشمیر شاہراہ کا نام بحال کیا جائے او ر نئے نقشہ پاکستان کی اصلاح کی جائے ۔ 

امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے کہاکہ ہم کشمیریوں کی قربانیوں اور جذبہ جہاد کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوںنے اپنے شہداءکا مقدس خون دے کر اپنی آزادی کی تحریک کو زندہ رکھاہے ۔ پاکستان اور عالم اسلام کے بے حس حکمرانوں اور اقوام متحدہ سمیت وہ عالمی ادارے جو گونگے شیطان کا کردار ادا کر رہے ہیں ، ان سے کسی خیر کی توقع نہیں ۔ میں سینیٹر سراج الحق کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے پاکستانی قوم کو کشمیریوں کی پشت پر لاکھڑا کیاہے ۔ 

امیرجماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب و صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے گوجرانوالہ میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو پاکستانی نقشہ میں شامل کرنا خوش آئند اقدام ہے مگر حکومت پاکستان کو اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔بھارتی سرکار کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے مگر آج بھی ہندوستان کو اتنی جرا ¿ت نہیں ہوسکی کہ وہ کرفیو کو اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کشمیر پالیسی سست روی کا شکار ہے۔ اس حوالے سے سیاسی و سفارتی اقدامات کو تیز کرنا ہوگا۔ ہندوستان لاتوں کا بھوت ہے باتوں سے نہیں مانے گا۔ ہندو تواسوچ، فاشسٹ بھارتی حکمرانوں اور قابض ہندوستانی فوج کے ظلم وستم کے شکار 80لاکھ نہتے کشمیری مسلمانوں کو ایک سال سے فوجی محاصرے میں رکھا ہوا ہے۔ اگر ان کی مدد نہ کی گئی تو بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ گزشہ ایک سال کے دوران بھارتی فوجیوں نے 217کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 4خواتین اور 10معصوم بچے بھی شامل ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مقبوضہ کشمیر کی اکثریتی آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی خاطر بھارتی حکومت نے 25ہزار سے زائد غیر کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل جاری کردیا ہے اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ آر ایس ایس کے ایجنڈے پر چلنے بھارتی حکومت نے ہندوستان میں اقلیتوں پر تاریخ کے بد ترین مظالم ڈھائے ہیں۔ کشمیر صرف صرف جہاد سے آزاد ہوگا۔ 1989سے لے کر اب تک 11ہزار 214کشمیری خواتین بھارتی افواج کے ہاتھوں درندگی اور عصمت دری کا شکار ہوچکی ہیں۔ 27ہزار917بیوہ اور ہزاروں خواتین کے شوہروں کا کچھ اتا پتہ نہیں۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کردیے گئے ہیں۔ مگر بھارتی حکومت کشمیریوں کی پاکستان سے محبت کم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ کشمیریوں کی تیسری نسل بھی الحاق پاکستان کی خاطر قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر رہی ہے۔منصورہ کے باہر ملتان روڈ پر ہونے والے احتجاجی مظاہرہ سے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، حافظ محمد ادریس ، امان اللہ خان نے خطاب کیا ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کراچی میں کشمیر ریلی میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ کام بھارتی تخریب کاروں کا ہی ہوسکتاہے ۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس