Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

جماعت اسلامی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال کے بارے میں قرار داد منظور کی گئی


لاہور7جولائی 2020ء
امیر جماعت اسلامی پاکستا ن سینیٹر سراج الحق کی زیر صدارت منصورہ میں ہونے والے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال بارے قرار داد منظور کی گئی۔ اجلاس میں شریک ملک بھر سے ارکانِ مجلس عاملہ نے ملکی معاملات،اقتصادی حالات اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم ، کرونا وباءاور جماعت کی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ،نیزدینی مدارس اور ملک بھر میں تعلیمی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کے خاتمہ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ :۔
فوجی آمریتوں ، شریف خاندان اور بھٹو زرداری خاندان کی سیاسی ، قومی محاذ پر ناکامیوں کے بعد 2018ءکے انتخابات پر عوام کے تحفظات کے باوجود عمران خان برسرِ اقتدارآگئے اور یہ تاثر دیا گیا کہ حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہیں لیکن یہ امر پوری قوم کے لیے بہت تکلیف دہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سیاسی ، اقتصادی، کشمیر ،کرونا وبا پر کنٹرول، احتساب اور اسلامی نظریاتی شعائراسلام بالخصوص تحفظ ختمِ نبوت ،تحفظِ مساجد و مدارس کے محاذ پر مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے قوم کو مایوس کیا ہے۔ عوامی جذبات کو نظر انداز کرکے سستی شہرت کے لیے تعمیر ہونے والی دیگر مذاہب کی عبادتگاہوں کے معاملات میں حکومتی اقدامات اسلامیانِ پاکستان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ مرکزی ،صوبائی اور بلدیاتی حکومتیں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہیں۔ اسٹیٹس کو پہلے سے بدتر اورحکمرانی کا نظام عوام سے چھین کر اسٹیبلشمنٹ کی دہلیز پر ڈھیرکردیاگیاہے۔ لاقانونیت ، بے روزگاری اور کرپشن کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ حکومتی نااہلی اور ناتجربہ کاری نے قومی اداروں اور نظام کو تباہ کردیاہے ، ہر آنے والا دن یہ ثابت کررہا ہے کہ حکومت خود اپنی اصلاح اور اصلاحِ احوال کے لیے سنجیدہ نہیں۔ سیاست میں ڈائیلاگ کے دروازے بند کرلئے جائیں تو جمہوریت اور پارلیمانی نظام اور آئین کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ قومی ترجیحات پر قومی قیادت متحد ہو اور اتفاقِ رائے سے قومی حکمتِ عملی بنائی جائے وگرنہ جمہوری، پارلیمانی نظام کو حقیقی خطرات لاحق ہوجائیں گے۔اس کے ذمہ دار عمران خان ہی ہوں گے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا فاشزم انسانیت کی توہین ہے، جموں و کشمیر کے عوام پر ظلم و ستم بڑھتا جارہاہے ، کم و بیش ایک سال سے 80لاکھ کشمیری لاک ڈاو ¿ن کی قید میں ہیں ، روزانہ انسانی المیے رونما ہورہے ہیں حال ہی میں ایک معصوم نواسے کے سامنے نانا کو بے دردی سے شہید کردیاگیا جو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ، عالم اسلام اور عالمی برادری کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے، یہ بڑا المیہ ہے کہ اِس صورتحال میں حکومتِ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل ، نریندر مودی کے کے فاشزم کو دنیا بھر میں بے نقاب کرنے کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی اختیار نہیں کی ۔اِسی وجہ سے جموں و کشمیر کی قیادت اور عوام کو مایوس کیاجارہاہے۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے لیے انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیاگیا ہے۔پاکستان کی بقاءکا تقاضا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل پر حکومت مجرمانہ غفلت ترک کرے، قومی مسلمہ متفقہ پالیسی بنائی جائے۔ مجلسِ عاملہ کا اجلاس تحریک حریت کشمیر اور آزادی کشمیر کے عظیم رہنما سید علی گیلانی کی جانب سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت سے دستبرداری پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اوراُس کو آزادیِ کشمیر کے کاز کے لیے الارمنگ سمجھتا ہے۔ آرپار کی کشمیری قیادت اختلاف کی بجائے اِس صورتحال کو سنبھالے ، جماعت اسلامی قابلِ احترام اور استقامت کے کوہِ گراں سید علی گیلانی سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلہ پر نظرثانی فرمائیں۔ عالم اسلام اور عالمی ادارے جموںو کشمیر کے انسانوں کا احساس کریں، بھارتی مظالم کو روکیں اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلایاجائے۔
ملک کا اقتصادی نظام پہلے ہی تباہی سے دوچار تھا، قرضوں ، سود،کرپشن کی لعنت نے 22کروڑ عوام کو بے بس بنادیا ہے۔ تبدیلی کی دعویدار حکومت نے 73سال کی تاریخ میں دوسال کے مدتِ اقتدار میں ریکارڈ قرضے حاصل کئے ہیں، ایک کروڑ نوکریاں دینے کی بجائے لاکھوں لوگوں کوبے روزگار کر دیا ہے ، بے روزگاروں کا لشکر بڑھتا جارہاہے۔زراعت ،صنعت اور تجارت کو ناقابل تلافی نقصان، پہنچا ہے۔ نوجوان اور خواتین تحریکِ انصاف کی فرنٹ لائن ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ بھی حکومت کی ناکامیوں سے مایوس ہوگئی ہے۔ آئی ایم ایف کی ہدایت پر قومی بجٹ زبردستی قومی اسمبلی سے منظورکرالیاگیا۔ پاکستان سٹیل کی نجکاری کا اعلان اور پی آئی اے کو حکومتی حماقت اور جانے بوجھے منصوبہ کے تحت نجکاری کے لیے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا ہے۔ روپے کی قدر میں گراوٹ ، کساد بازاری، افراطِ زر کا مسلسل بڑھنا ، پیداواری لاگت میں اضافہ کی وجہ سے برآمدات گراوٹ اور جی ڈی پی بھی منفی ہوگیاہے۔ اِس حکومت کے ہاتھوں اب اقتصادی نظام سنبھلنا ناممکن ہوگیا ہے۔ غربت ، بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ عوام کا سیلاب حکومت کو بہا کر لے جائے گا۔
کرونا وبا نے پوری دنیا اور انسانوں کو متاثر کیا ہے، صحت،تعلیم،سماجی تحفظ، فوڈ سیکیورٹی کانظام عملاً ناکام اور بے نقاب ہوگیا ہے۔ حکومت نے اپنے تذبذب ، فیصلے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے سماج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان چپقلش اورفسادنے نظامِ تعلیم، صنعت کے نظام کو بہت بری طرح متاثر کیاہے۔ مجلسِ عاملہ کا اجلاس اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ کرونا لاک ڈاو ¿ن متاثرین کی مدد کے لیے الخدمت فاو ¿نڈیشن اور جماعت اسلامی کے کارکنان ، رضاکار اور قائدین نے عوامی خدمت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔جماعت اسلامی کی ملک گیر منظم سرگرمیوں پر عوام ا ور مخیر حضرات کی پذیرائی پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔کرونا کی تباہ کاریاں جاری ہیں ۔لاک ڈاو ¿ن، سمارٹ لاک ڈاو ¿ن کے منفی اثرات مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔ قومی متفقہ حکمتِ عملی نہ ہونے سے انتشار مشکلات بڑھا رہا ہے۔وفاق، صوبے، ریاست متفقہ ایکشن پلان بنائیں۔حکومت و میڈیا اورقوم کرونا کے خاتمہ کے لیے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ توبہ و استغفار پر خصوصی توجہ دیںتاکہ جلد از جلد اللہ کی رحمت سے کرونا کا خاتمہ ہوسکے۔
اجلاس تعلیمی اداروں کی بندش ، دینی مدارس اور دارالتحفیظ میں تعلیمی بندش بڑے قومی نقصان کا باعث بن گئی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں کاانفراسٹرکچر مشکلات کا شکار ہے۔ حکومت نے علمائ، اساتذہ، مدرسین، حفاظ کرام،کے ریلیف پر کوئی توجہ نہیں دی جو غیر انسانی رویہ ہے۔آن لائن تعلیم کا نظام طلبہ و طالبات کو سہولتیں مہیا نہیں کرسکا ملک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ نظام نہ ہونے یا کمزور ہونے کی وجہ سے مشکلات ہیں۔ اِس لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر منظم پروگرام اور ضابطوں کے مطابق تعلیم پر عائد بندش کا خاتمہ کریں اور تعلیم کاسلسلہ بحال کیاجائے۔
مرکزی مجلس عاملہ نے اعلان کیا ہے کہ عوام کو متحرک کیاجائے گا،حالات کو بدحالی سے خوشحالی میں بدلنے کے لیے ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔ہر شعبہ ہائے زندگی کے محب دین ،محبت وطن ماہرین کو متحد اور متحرک کیاجائے گا۔عوام کو تیار کریں گے کہ جماعت اسلامی ہی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس