Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

حکومت فوری طور پرکوروناٹیسٹ مفت کرے تاکہ عام آدمی بھی بیمار ہوتو اپنا ٹیسٹ کرواسکے،سینیٹر سراج الحق


لاہور14مئی 2020ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا ٹیسٹ فوری طور پر مفت کئے جائیں تاکہ عام آدمی بھی بیمار ہو تو اپنا ٹیسٹ کرواسکے۔اوورسیز پاکستانیوں سے وصول کیا گیا ڈبل کرایہ اور قرنطینہ کے بھاری اخراجات واپس کیے جائیں۔پیٹرول کی قیمتوں میں اوگرا کی سفارش کے مطابق 44روپے فی لیٹر کی کمی جائے۔ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی کورونا ٹیسٹ کی لیبارٹریاں قائم کی جائیں تاکہ لوگوں کو اپنے ٹیسٹ کرانے میں آسانی ہو۔ کورونا کے حوالے سے تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور لوگوں میں پائے جانے والے تحفظات دور کئے جائیں۔کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی میتوں کی بے حرمتی بند کی جائے۔اس سے عوام کے اندر خوف پھیل رہا ہے اور لوگ بیماری کو چھپانے پر مجبور ہیں۔ لوگ دریا میں چھلانگ لگانا تو پسند کرتے ہیں مگر خود کو کورونا کا مریض ظاہر کرنے سے ڈرتے ہیں۔اسلام آباد میں مساج سنٹرز تو کھلے ہیں مگر مسجدیں بند ہیں۔ وبائی امراض سے بچنا ہے تو ہمیں توبہ و استغفار اور اللہ سے رجوع کا راستہ اپنانا ہوگا۔مقبوضہ کشمیر میں 9ماہ سے لاک ڈاﺅن ہے مظلوم کشمیریوں کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب اور ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے عالمی معیشت تباہ اور پوری دنیا ایک جیل خانے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ جب انسان اللہ کے عطاکردہ عدل و انصاف کے نظام سے بغاوت کرتا ہے تو اللہ کے غضب کا کوڑا برستا ہے۔نام نہاد مہذب دنیا نے معصوم انسانوں کا خون پانی کی طرح بہایا۔ خاندانی نظام کو ختم کرکے ہم جنس پرستی کا وہ کھیل کھیلاجس سے جانور بھی شرماتے ہیں۔ان حالات میں مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ آخری نبی ﷺ کی امت ہونے کے ناطے اپنا فرض ادا کرتی اور انسانیت کو اللہ کی ناراضگی کے راستے پر چلنے سے روکتی مگر ہم خاموشی سے یہ تماشا دیکھتے اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عالمی وبا سے بچنے کے لیے ضروری کہ ہم توبہ و استغفار کا راستہ اپنائیں اور اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کورونا وباہمارے ملک میں اچانک نہیں بلکہ رینگتی ہوئی آئی ہے اورہم سے پہلے یہ ہمارے اڑوس پڑوس میں پہنچ چکی تھی مگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور اپنے بچاﺅ کے لیے کچھ نہیں کیا۔اس وبا کے دوران بھی ہماری حکومتیں اور سیاسی قیادت ایک پیج پر نہیں آئی اور وفاق اور سندھ عوام کو کورونا سے بچانے کی بجائے ایک دوسرے کو فتح کرنے میں لگے رہے۔آج یہ وبا ملک کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے، ہم اپنے ڈاکٹروں کو بھی حفاظتی سامان نہیں دے سکے بلکہ الٹا ان پڑ ڈنڈے برسائے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا بجٹ زیادہ تر انتظامی امور پر خرچ ہوتا ہے لوگوں کو صحت کی سہولتیں میسر نہیں۔ 22کروڑ آبادی کے لیے ہمارے پاس صرف 13سو وینٹی لیٹر تھے جن میں سے آدھے خراب تھے۔ہمارے پاس اب موقع ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کا ادراک کریں اور ان پر قابو پانے کی کوشش کریں۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ غریب کے بس میں نہیں کہ وہ 9ہزار روپے کا کرونا ٹیسٹ کروائے اور اگر اس کے خاندان کے چند افراد بیمار ہوں تو وہ ٹیسٹ کیسے کرواسکتا ہے۔حکومت نے غریبوں کو 12ہزارروپے کا گزارہ الاﺅنس دیا ہے وہ دو وقت کی روٹی کھائیں یا ٹیسٹ کروائیں۔ اس لیے لوگ اپنے بیماروں کو گھروں میں رکھنے اور بیماری کو چھپانے کی کوشش کرتے رہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو الخدمت فاﺅنڈیشن سے سیکھنے کی ضرورت ہے اگر الخدمت فاﺅنڈیشن تین ہزار روپے میں ٹیسٹ کرسکتی ہے تو حکومت لوگوں کو یہ سہولت مفت کیوں نہیں دے سکتی۔سینیٹر سرا ج الحق نے کرونا کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت پانے والے ڈاکٹروں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداءکو خراج عقیدت اور الخدمت فاﺅنڈیشن ،ایدھی فاﺅنڈیشن اور دیگر فلاحی اداروں کے رضاکاروں کی خدمات پر انہیں سلام پیش کیا۔
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس