Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

الخدمت وجماعت اسلامی کے کارکن قوم کو مشکل کی اس گھڑی میں ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے،محمد حسین محنتی



کراچی (اسٹاف رپورٹر) یکم مئی 2020 جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ کوروناوائرس قدرتی آفت اور وارننگ ہے،لاک ڈاﺅن سے کاروبار زندگی معطل اور معاشی طور پر ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے، سندھ حکومت مذہب کی بجائے کورونا کا مقابلہ کرے،کہنے کو تو سندھ باب الاسلام ہے مگر پوری سندھ حکومت کا رویہ مذہب بیزاری پر مبنی ہے،الخدمت سستے تندور سے لیکر رمضان راشن مراکز اہل خیر حضرات کا الخدمت پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے،جماعت اسلامی اور الخمدت کے کارکن مشکل کی اس گھڑی میں قوم کی ہرممکن مدد جاری رکھیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جماعت اسلامی میٹروپول کلفٹن میں قائم ”الخدمت قاضی حسین احمد راشن مرکز“کے دورے پر رضاکاروں اور میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کیا۔اس موقع پر ناظم علاقہ اویس جامعی،یوسی چیئرمین حنیف میمن،طارق الرحمن،آصف عبداللہ،کوآرڈینیٹر معاذ لیاقت بھی اس موقع پر موجود تھے۔محمد حسین محنتی نے مزید کہا کہ جمعہ کی نماز پر پابندی کے نوٹیفکیشن تک سندھ حکومت کے تمام اقدامات سے مذہب بیزاری کی جھلک نظرآرہی ہے جس سے پوری قوم کو تشویش ہے، احتیاطی تدابیر کے اعتبارسے کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی کا نوٹیفکیشن ہونا چاہئے نہ کہ مذہبی لفظ کا استعمال کیا جانا چاہئے،ایک جانب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک صوبہ میں یہ روش ہے تو دوسری جانب جرمنی میں مساجد کھولی جارہی ہیں،ساری دنیا میں لاک ڈاﺅن نرم کیا جارہا ہے،حرمین شریفین تمام نمازیوں کیلئے کھولی جارہی ہیں تو سندھ میں آخر کیا خاص بات ہے، حکومت چالیس دن لاک ڈاﺅن کے باوجود بیماری پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، ہسپتالوں میں ادویات ،وینٹی لیٹر نہیں تو دوسری جانب ڈاکٹرزوپیرامیڈیکل اسٹاف حفاظتی سامان محروم ہے، اسلئے مذہب پر الزام لگانے کی بجائے حکومت سندھ دینی ناکامی کا اعتراف کرلے۔
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس