Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

وزیر اعظم عمران خان خود سیاسی قرنطینہ کا شکار ہیں وہ دیوار سے لگ چکے ہیں اور کام ریاست نے سنبھال لیا ہے،لیاقت بلوچ



لاہور4اپریل 2020ء
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور مجلس قائمہ سیاسی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان خود سیاسی قرنطینہ کا شکار ہیں وہ خود دیوار سے لگ چکے ہیں اور کام ریاست نے سنبھال لیا ہے ملک کا اقتصادی بحران بدترین ہوچکا ہے حکمران نئے عزم کے ساتھ کشکول اٹھانے کو تیار ہیں۔ نادرہ کے ذریعے مستحق لوگوں تک پہنچا مشکل نہیں ہے مگر حکمرانوں نے امدادی پیکیج کے نام پر کرپشن کا راستہ کھول دیا ہے۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فانڈیشن فرقہ واریت، لسانیت، برادری ازم سے بالا تر ہوکر بیروزگاری کے س دور میں خدمت کے جذبے کے تحت کام کررہی ہیں اور لوگوں کے گھروں تک امداد پہنچائی جارہی ہے کیونکہ حکومتی ریلیف پیکیج کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچا۔ بجلی، تیل،گیس پر عائد تمام حکومتی ٹیکس واپس لئے جائیں تاکہ بند صنعتوں کا پہیہ چل سکے اور عوام کو روزگار ملے۔ صنعتیں چلنے سے قومی خزانے میں پیسہ آئے گا اور معیشت بہتر ہوگی۔حکمران اپنی غلطیوں کو چھپانے کیلئے فرقہ پرستی کو ہوا دے رہے ہیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا وہ عوامی سیاست دان تھے مگر ان کے ورثانے بھٹو کی سیاست کو لپیٹ دیا ہے۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے مدرسہ جامع العلوم میں جماعت اسلامی و الخدمت فانڈیشن کے امدادی راشن ڈپو کے معائنے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب را محمد ظفر، صہیب عمار صدیقی، امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی، چودھری اطہر عزیز ایڈووکیٹ،کنور محمد صدیق ہمراہ تھے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہے جماعت اسلامی نے اس موقع پر عوام کو تنہا و لاوارث نہیں چھوڑا اور الخدمت فانڈیشن آگے بڑھ کر عوام کی خدمت جاری رکھی ہوئی ہے۔ ملتان میں ڈاکٹر صفدرا قبال ہاشمی اور ان کی ٹیم پوری طرح متحرک ہے عام آدمیوں میں حفاظتی سامان، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، نرسز اور شعبہ ہیلتھ کے شعبہ سے منسلک لوگوں میں طبی آلات و سامان تقسیم کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی بلا تفریق ہر طبقے کے لوگوں مساجد، مدارس، چرچ، مندر، گوردوارے، خواجہ سراں میں راشن تقسیم کیا جا رہا ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ لوگ اپنے پاں پر کھڑے ہوں۔ صنعتی لاک ڈان نے غریب دیہاڑی دار مزدوروں کی زندگی اجیرن کردی ہے اور سماجی سطح پر بہت سے مسائل سامنے آرہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی خدمت کے ساتھ ساتھ تو بہ و استغفار اور اللہ کو منانے کی طرف توجہ دی جائے، انفرادی و اجتماعی غلطیوں سے توبہ کی جائے۔ قیام پاکستان کے مقاصد سے انحراف، کرپٹ اور نا اہل لوگوں کو ملک پر مسلط کرنے جیسے اجتماعی گناہوں سے بھی توبہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ210دنوں سے لاک ڈان جاری ہے پوری دنیا کو مظلوم کشمیریوں کا احساس کرنا چاہئے اور ان کے حق آزادی اور حق خودارادیت کو تسلیم کیا جائے۔ نریندر مودی کو چاہئے کہ وہ کشمیر میں لاک ڈان ختم کرے اور بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ جو فاشسٹ سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ بند کیا جائے۔ کرونا سے بچا کیلئے پوری قوم متحد ہے علمااور مشائخ نے اس حوالے سے شاندار، مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کی تمام تر تر جیحات ریاست مدینہ کی دعویدار ہیں مگر ذائرین اور تبلیغی جماعت کو تنقید
کا نشانہ بنانا، مساجد کی تالا بندی، نماز جمعہ کی بندش اور علماکی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ حکومتی ریلیف پیکیج سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا حکومت ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو حفاظتی سامان مہیا نہیں کررہی ہے حکومت نے نام نہاد ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان کرکے پہلے سے کام کرنے والے اداروں خاص طور پر لیڈی ہیلتھ، ورکرز، پولیو کے عملے، بلدیاتی و سرکاری اداروں پر بے اعتمادی کا اظہار کرکے نیا بحران کھڑا کردیا ہے۔ عمران خان خود سیاسی قرنطینہ کا شکار ہے ہر کانفرنس اور خطاب میں کنفیوژن کا شکار نظر آتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے کرونا پر ایک واضح روڈ میپ دیا ہے مگر وزیر اعظم اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں عملا ایسا لگتا ہے کہ عمران خان خود دیوار سے لگ چکے ہیں اور باقی جتنا کام ہورہا ہے وہ ریاست نے خود سنبھال لیاہے بدقسمتی یہ ہے کہ بے نظیر دور میں کہا جاتا تھا کہ وہ سنتی نہیں سمجھتی ہیں نواز شریف دور میں کہا جاتا تھا کہ وہ سنتے ہیں سمجھتے نہیں عمران خان نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور نہ ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اقتصادی بحران بدترین شکل اختیار کررہا ہے حکمران نئے عزائم کے ساتھ کشکول لے کر دنیا کے سامنے کھڑے ہیں اور آئی ایم ایف کی بدترین شرائط تسلیم کرنے کو تیا رہیں جو قومی معیشت کیلئے زہر قاتل ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ خود انحصاری، امانت و دیانت پر عمل کیا جائے فرقہ واریت اور سود کی لعنت سے نجات حاصل کی جائے۔ پاکستان اپنے وسائل پر اعتماد بحال کرے ہم اپنے وسائل کو استعمال میں لاکر بدترین بحران سے نجات حاصل کرسکتے ہیں بدقسمتی سے عمران خان دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر وہ اتنے یو ٹرن لے چکے ہیں کہ ماضی کے حکمرانوں جیسا تسلسل بر قرار ہے اور مزیداقتصادی تباہی مسلط کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ تفتان سمیت دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کو ائیر پورٹس پرنہ تو سہولتیں دی گئیں اور نہ ان کے ابتدائی ٹیسٹس کئے گئے۔ ملتان ائیر پورٹ پر 3371 مسافروں کیلئے کوئی حفاظت اقدامات نہیں کئے گئے اور حکمران بلا وجہ ذائرین اور تبلیغی جماعت کے پیچھے پڑ گئے ہیں رائیونڈ کا اجتماع حکومتی اجازت سے ہوا اگر حکمرانوں میں عقل و فہم ہوتی تو اس کی اجازت نہ دی جاتی۔ کرونا کی غلطیوں کو چھپانے کیلئے فرقہ پرستی کوہوا دینا حکمرانوں کی نا اہلی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اپنے تمام مراکز، ہسپتالوں، ایمبولینسز، سکولوں، مساجد، مدارس کو کرونا کیمپس میں تبدیل کردیا ہے جہاں بلا امتیاز لوگوں کی خدمت جاری ہے اور لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔


 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس