Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

عورت کے حقوق کا سب سے بڑا ضامن اور محافظ اسلام ہے،ڈاکٹر ذکراللہ مجاہد



8مارچ 2020ء
لاہور( ) امیر جماعت اسلامی لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہدنے کہا ہے کہ عورت کے حقوق کا سب سے بڑا ضامن اور محافظ اسلام ہے ۔ پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کے کلچر کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔ عورت کو وراثت ،تعلیم ،صحت جیسے بنیادی حقوق کے لیے جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ۔ عورت کی نام نہاد آزادی کا نعرہ لگانے والے عورت کے حقوق کی بجائے اس کو مادر پدر آزاد کرنا چاہتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار نے تکریم نسواں واک سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم ، نائب امیر جماعت اسلامی لاہور ملک شاہد اسلم ، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی لاہور چوہدری محمود الاحد ، عمر شہباز، صدر جے آئی یوتھ لاہور صہیب شریف ،عمر شہباز ، صدر رابطہ امور شعبہ حلقہ خواتین وسیم اسلم قریشی ، رہنما رابطہ امور خواتین عتیق الرحمن ، ڈپٹی سکرٹری حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق ،ڈپٹی سکرٹری حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان سمینہ سعید ،ڈائر یکٹر امور خارجہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر سمعیہ راحیل قاضی ، ناظمہ صوبہ وسطی پنجاب جماعت اسلامی حلقہ پنجاب ربیعہ طارق ،ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی لاہور ڈاکٹر زبیدہ جبہ سمیت بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں نے شرکت کی ۔ ڈاکٹر ذکراللہ مجاہد نے مزید کہا کہ عورتوں کے حقوق کی باتیں کرنے والوں کو فلسطین ،عراق ،افغانستان ،شام اور کشمیر کی مظلوم عورت نظر کیوں نہیں آتی اوران کے منہ سے کرڑو ں مظلوم قوانین کے لیے ایک لفظ بھی نہیں نکلتا ۔ انہویں نے کہا کہ لبرل اور سیکولر قوانین کو عافیہ صدیقی کیوں نظر نہیں آرہی ہے ۔ عورت کی آزادی کا نعرہ لگانے والے لبرل عورت کی آزادی نہیں اس تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں ۔ پاکستان کی خواتین ،فوج ،پولیس ،میڈیکل ،انجینئر نگ ،تعلیم غرض ہر شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہی ہیں جو ہمارے لیے قابل فخر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ استحصال کرنے والا طبقہ خواتین اور مرد سب کا استحصال کررہا ہے ۔ اس نظام کے خلاف ہم سب کو جدوجہد وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے ۔ ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عورتوں کو وراثت میں حق کیلئے قانون سازی کی جائے ، عورت کیلئے ٹرانسپورٹ کا باعزت اور محفوظ انتظام کیا جائے ، انڈسٹریز سے ٹھیکداری نظام ختم کرکے ملازمین خواتین کو مستقل کیا جائے ، قرآن سے شادی ، کاروبار جیسی ظالمانہ رسوما کا خاتمہ کیا جائے ، ذراءع ابلاغ کو عورت کی عزت اور تکریم کا پابند بنا جائے ، دفاتر میں
صنعتی اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو مردوں کے مساوی تنخواہ دی جائے اور خواتین یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لائے جائے ۔
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس