Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

ملک معاشی زبوں حالی ، غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری کے بدترین حصار میں ہے ،سینیٹر سراج الحق



لاہور 17فروری 2020ئ
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک معاشی زبوں حالی ، غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری کے بدترین حصار میں ہے ۔ بلوچستان میں ہر طرف پسماندگی ، مایوسی اور ناامیدی کے ڈیر ے ہیں۔ ملک جس گھمبیر صورتحال سے دوچار کر دیا گیاہے ان سے نکلنے کے لیے خوف خدا رکھنے والی دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے اور ملک و قوم کی یہ ضرورت صرف جماعت اسلامی پوری کر سکتی ہے ۔ ملک کو مسائل کی دلدل میں دھکیلنے کے ذمہ دار سابقہ اور موجودہ حکمران ہیں ۔70 سال سے قوم کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل جاری ہے ایک جاتاہے تو دوسرا آجاتاہے اور پھر حکمران رہنے والی پارٹیوں سے نکلنے والوں کو جمع کر کے نئی پارٹی بنادی جاتی ہے ۔ اپوزیشن کا ہر لیڈر ہر طرف تباہی و بربادی کا رونا روتاہے ۔ جب وہ خود حکومت میں آتاہے تو اسے ہر طرف ہریالی اور خوشحالی نظر آتی ہے ۔ جماعت اسلامی بغیر کسی اقتدار اور اختیار کے غریب عوام کی مدد سے ہزاروں یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کے پراجیکٹ چلارہی ہے قوم پرست پارٹیاں اور لیڈر ملک کی کیا خدمت کریں گے وہ تو اپنی قوموں کے غریب لوگوں کی بھی پروا نہیں کرتے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے صحبت پور جعفر آباد میں کھوسہ قبیلہ کے سردار میر مہر اللہ خان کھوسہ کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی و سابق رکن اسمبلی اسد اللہ بھٹو اور جماعت اسلامی بلوچستان گاجانی قبیلہ عبدالرشید گاجانی ، جمعہ خان گاجانی ، مولانا عبدالحق ہاشمی اور علاقے کے عمائندین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ روپیہ بے قدری کا شکار اور شرح ترقی رک چکی ہے ۔ لوگ اپنے بچوں کو فروخت اور اپنی موت کی دعائیں کرنے پر مجبور ہیں ۔ پورے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کی سڑکیں خراب ہیں ۔ لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ۔ سکول کالجز اور ہسپتال نہیں ہیں ۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل اور معدنیات کا جو فائدہ یہاں کے عوام کو ملنا چاہیے تھا ، وہ نہیں مل رہا۔ بلوچستان کے حکمرانوں نے بھی عوام کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی ملک کے مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کی آواز ہے ہم نے اقتدار کے ایوانوں کے اندر اور باہر بلوچستان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ مسائل محض موجودہ حکومت کے پیدا کردہ نہیں اور نہ یہ اٹھارہ ماہ کی کہانی ہے ، سالہا سال سے بلوچستان اسی طرح محرومیوں کا شکار چلا آرہاہے ۔ حکمرانوں کا رویہ کبھی بھی بلوچستان کے ساتھ قابل ستائش نہیں رہا ۔چار عشروں سے بلوچستان کی محرومیوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ اقتدار میں آنے والے سب اچھا ہے کا ورد کرتے ہیں اور اقتدار سے جانے والے کچھ بھی اچھا نہیں کا رونا روتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان ترقی کرے گا تو کراچی سے خاران اور بنوں سے کاغان تک پورا ملک ترقی کرے گا۔ انہوںنے کہاکہ مسائل کا حل صرف نظام مصطفی کے نفاذ میں ہے ، قوم اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد کا ساتھ دے ۔
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس