Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

جمہوری تقاضوں کے مطابق موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا حق حاصل نہیں رہا ،لیاقت بلوچ



لاہور 14فروری 2020

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جمہوری تقاضوں کے مطابق موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا حق حاصل نہیں رہا ۔عوام کو خودنئی نسل کا مستقبل محفوظ کرنا ہوگا۔ مہنگائی ، بیروزگاری اور کرپشن کے خلاف 20فروری سے ملک گیر تحریک چلائی جائے گی ۔انتظامی یونٹس چھوٹے کرنا وقت اور حالات کا تقاضا ہے ۔ کوالالمپور کانفرنس کے بائیکاٹ کا ازالہ کرتے ہوئے پاکستان میں کانفرنس بلائی جائے اور مسئلہ کشمیر پر عالمی دباﺅ کو بڑھا یا جائے۔ملی یکجہتی کونسل نے مدینہ کی ریاست کے قیام کے حوالے سے سفارشات پر مبنی ورکنگ پروگرام تیار کرلیا ہے ۔ سیاست میں ریاست کی مینیجمنٹ کی مداخلت بند ہونی چاہئے۔ انتظامی یونٹس چھوٹے ہونے سے حالات بہتر ہوسکتے ہیں آٹے اور چینی کا بحران پیدا کرنے والی مافیا حکومتی چھتری کے نیچے بیٹھی ہے۔کشمیر میں کرفیو کو195دن گزرگئے ہیں اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی مجرمانہ غفلت سب کے سامنے ہے حکومت اور اپوزیشن کشمیر پر سوتیلا پن ختم کرے۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے ” دارالسلام “ دفتر جماعت اسلامی میں امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب راﺅ محمد ظفر، امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی،خورشید خان کانجو،کنور محمد صدیق،رانا عمر دراز فاروقی،شیخ اسرار حسین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔لیاقت بلوچ نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ طیب اردگان نے پارلیمنٹ میں مجاہدانہ اور عالم اسلام سے گہری وابستگی کے ساتھ مسئلہ کشمیر و فلسطین پر جرات مندانہ اظہار خیال کیا جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے نہ صرف کشمیریوں بلکہ پاکستان کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے جبکہ ترکی، ملائیشیا اور ایران کی لیڈر شپ نے ہمارا ساتھ دیا اور بائیکاٹ پر ناراضگی کا اظہاربھی نہیں کیا ۔ پاکستان اس نا مکمل کانفرنس کی میزبانی کرتے ہوئے اسلام آباد میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرے اور اس کانفرنس میں مسئلہ کشمیر پر بات کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی وفاق اور چاروں صوبے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور عوام کو بلدیاتی اداروں کے ذریعے ان کے حقوق دیئے جائیں ۔ پنجاب میں جو بلدیاتی نظام دیا گیا ہے اس پر بہت سے لوگ عدالتوں میں پہنچ چکے ہیں ۔ عمران خان اپنی ضد چھوڑیں اور ایسا بلدیاتی نظام دیں جو با اختیار ہو جس میں شہروں، گلیوں، محلوں اور ووٹرز کو اہمیت دی جائے۔ بلدیاتی الیکشن کے سلسلے میں ہم حکومت پر عوامی دباﺅ بڑھا ئیں گے اگرہمیں حکومت کی نیت پر کھوٹ کا پختہ یقین ہوگیا تو بلدیاتی نظام کے سلسلے میں ہم بھی اعلیٰ عدالتوں کا رخ کرں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی بحران بدترین شکل اختیار کرچکا ہے مہنگائی، بیروزگاری، اقربا پروری کی چکی میں عوام پس رہے ہیں غریب عوام کی طرح اب اپر مڈل کلاس کی حالت بھی ابتر ہوچکی ہے۔ زراعت معیشت کی مضبوط بنیاد ہے جس پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹس ہیں کہ زراعت وتجارت کے فروغ سے ہی معیشت مستحکم ہوسکتی ہے عمران خان خود تسلیم کرچکے ہیں کہ ملک مہنگائی کی زد میں ہے ان حالات میں عوام کا لاوا کسی بھی وقت پھوٹ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی سستے تندور ، الیکٹرک تندور، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور اب انڈے ، مرغی، کٹوںاور بچھڑوں کی سکیمیں بھی ناکام ہوچکی ہیں افراط زر میں کمی آرہی ہے ۔ یوٹیلٹی سٹورز کی حالت سب کے سامنے ہے ۔ صنعت کا پہیہ بھی صحیح طرح نہیں چل رہا عوام کی قوت خرید ختم ہوتی جارہی ہے ان حالات کے پیش نظر مہنگائی، بیروزگاری ، رشوت ستانی اور کرپشن کیخلاف عوامی دباﺅ بڑھانے کیلئے جماعت اسلامی نے20فروری سے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ عمران خان سے جتنی توقعات تھیں وہ سب بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں ہم تحریک کے دوران گھرگھر جائیں گے اور لوگوں کو قائل کریں گے کہ اسلامی نظام کے بغیر ریاست مدینہ کا تصور مکمل نہیں ہوسکتا جس کیلئے اہل و دیانت دار قیادت کی ضرورت ہے ہم ملکی سطح پر عوام کو متحرک کریں گے اور عوام کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں کارکنوں کو متحرک رہنے کی ہدایات کردی گئی ہیں۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ کشمیر میں195دن سے کرفیو ولاک ڈاﺅن ہے جس سے وہاں کے عوام کی زندگی دو بھر ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ سید علی گیلانی کو صحت عطا کرے ان کی قیادت میں کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کیلئے ڈٹے ہوئے ہیں ۔ مسئلہ کشمیر پرحکومت پاکستان کی مجرما نہ غفلت، غیر سنجیدگی کی وجہ سے کشمیری آج تک محصور ہیں ۔ حکومت و اپوزیشن کو اس سلسلے میں کشمیر پر سوتیلا پن ختم کرنا ہوگا ان حالات میں صرف کشمیری عوام ہی نہیں بلکہ پاکستانی عوام میں بھی شدید غصہ پایا جاتاہے۔ حکومت پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر واضح و دوٹوک موقف اختیارکرناہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل نے تمام جماعتوں کی جانب سے ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت کو ریاست مدینہ کے حوالے سے سفارشات پر مبنی ورکنگ پروگرام تشکیل دیا اس سلسلے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین سے بھی ملاقات ہوئی ہے ورکنگ پروگرام میں عمران خان سے کہا گیا ہے کہ موجودہ مسائل کا حل اسلامی نظام حکومت میں ہے ۔ ریاست مدینہ کے حوالے سے عمران خان اپنے وعدوں سے انحراف نہ کریں ۔ توبہ و رجوع کریں اور اپنی روش بدل کر پاکستان کو اسلامی ، نظریاتی اور تہذیبی بنیادوں پر استوار کریں ۔ ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ جمہوری تقاضوں کے مطابق موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا حق حاصل نہیں ہے امریکی نظام کے تحت صدر ٹرمپ نے ڈھٹائی کے ساتھ اداروں کو ملیا میٹ کرتے ہوئے اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں اور ٹرمپ ہمارے وزیر اعظم کو عزیز جان قرار دیتے ہیں اس لئے از خود اقتدار چھوڑنے کے حوالے سے ان سے نہ تو توقع ہے اور نہ ہی یہ کسی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں گے عوام کو از خود نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہوگا جس کیلئے جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ۔عام طور پر لوگوں میں یہی تصور پایا جاتا تھا کہ حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہیں یہ بھی توقع تھی کی ملک کا نظام ٹھیک ہوگا اور پارلیمنٹ میں استحکام آئے گا مگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا چہرہ مسخ ہوا ہے ان حالات میں بلدیاتی و عام انتخابات غیر جاندرانہ ہونے کی توقع نہیں ہے ۔سیاست میں ریاست کی مینیجمنٹ کی مداخلت بند ہونی چاہئے کیونکہ موجودہ حکمت عملی ملک اور قومی وحدت کو منتشر کررہی ہے ۔ سرائیکی صوبے اور سیکرٹریٹ کے قیام کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ انتظامی یونٹس چھوٹے کرنا وقت اور حالات کا تقاضا ہے اگرحکومت اور ریاست ایک پیج پر ہوں تو انتظامی یونٹس چھوٹے کئے جاسکتے ہیں آٹے اور چینی کے بحران کے نام پر عوام لو ٹا گیا یہ یقیناََ ایک مافیا کی سا زش ہے جوحکومتی چھتری کے نیچے بیٹھے ہیں اس حوالے سے حکومت کے تمام دعوے غلط ثابت ہوگئے ہیں
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس