Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

20 فروری سے مہنگائی اور بےروزگاری کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کررہے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق


لاہور 13فروری 2020ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مہنگائی سے ملک دیوالیہ، تبدیلی کا نعرہ قبر کے سکون پر دفن ہو گیا۔20 فروری سے مہنگائی اور بےروزگاری کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کررہے ہیں۔ حکومت عوام کو سبسڈی نہیں، دھوکہ دے رہی ہے۔ ڈاکٹر، مریض، کسان، مزدور اساتذہ، طلبا، ملازمین سب پریشان ہیں۔موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سانس لینا مشکل ہو گیا ہے۔ پاکستان کے 22کروڑ عوام شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔پاکستانیوں کی لیے اب پانی پینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔حکومت نعروں اور اعلانات تک محدود ہے۔آج پاکستان کی حکومت کاپاﺅں عوام کی گردن اور ہاتھ گریبان پر ہے۔حکومت ہر روز جھوٹے اعلانات کرتی ہے.دن بدن ملک کی معاشی صورتحال بد سے بدتر ہو رہی ہے۔حکومت آئی ایم ایف سے کیے گئے تمام معاہدے فوری منسوخ کرے۔ حکومت ملک کی جمع پونجی آئی ایم ایف کے حوالے کر رہی ہے۔لوگ مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر خودکشیاں کر رہے ہیں۔لوگ گندم، آٹا، چینی اور دال کیلئے لائن میں لگے ہوئے ہیں۔ترک صدر طیب اردگان کا پاکستان آمد پر خیر مقدم کرتے ہیں اور انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔طیب اردگان سے درخواست کروں گا ہمارے وزیراعظم کو بھی سمجھائیں پاکستان کو معاشی مسائل سے کیسے نکالیں۔ترکی نے ہمیشہ کشمیر فلسطین پر دوٹوک موقف اختیار کیا ہے جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ امت کی نمائندگی پر ترک صدر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔اس وقت پاکستان22 کروڑ عوام معاشی حالات سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔طیب اردوان کوئی فارمولا دیں تاکہ ہماری حکومت اعلانات سے آگے بڑھ کر کوئی عملی کام کر سکے۔ہر روز غلط اعداد و شمار سے قوم کو گمراہ کیا جاتا ہے پوری قوم حکومت کے آئی ایم ایف معاہدے کیخلاف ہے ۔انہوں نے آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے زہر کے نوالے ہیں جو عوام ہضم نہیں کر سکتے۔ علاج بہت مہنگا ہونے کیوجہ سے مریض ہسپتالوں میں جا کر موت کی دعا ئیںکرتے ہیں۔زراعت کے ہوتے ہوئے بھی دالیںاورسبزیاںعوام کی پہنچ سے باہر ہیں۔ وزیراعظم کے دائیں بائیں بیٹھے لوگوںنے چینی کی بلیک مارکیٹنگ سے 45ارب روپیہ اور آٹے میں 55 ارب کمایا۔انہوں نے کہا کہ احتساب مذاق بن چکا ہے ۔پورے ملک سے مزدور، تاجر اساتذہ ،وکلا طلبا، ملازمین سب کو شریک کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ قومی اسمبلی کے ہر اجلاس میں آئی ایم ایف سے معاملات پر باتیں ہوتی ہیں۔ورلڈ بینک سے آئے ہوئے لوگ کیسے معاشی بہتری لائیں گے۔8 ماہ گزر گئے لیکن اب تک حکومت کا کوئی قبلہ معلوم نہیں۔تعلیم کو این جی اوز اور صحت کو ٹھیکیداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ قوم20فروری کی مہنگائی اور بے روزگاری کی تحریک میں جماعت اسلامی کا ساتھ دے ۔جماعت اسلامی عوام کی ترجمان ہے ۔غریب عوام کی جیب پر حکومت مسلسل ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ اب یہ تماشا نہیں چلے گا۔اب نوجوان آگے بڑھ کر اپنا حق لیں گے۔
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس