Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عوام کی پیٹھ پر مہنگائی کے کوڑے مارنے والے بے رحم اور بے حس حکمرانوں کے خلاف ہم میدان میں آگئے ہیں ۔سینیٹر سراج الحق


لاہور 22جنوری 2020ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ عوام کی پیٹھ پر مہنگائی کے کوڑے مارنے والے بے رحم اور بے حس حکمرانوں کے خلاف میدان میں آگئے ہیں ۔ اب مہنگائی یا حکمرانوں کو بھگا کر دم لیں گے ۔ جمعہ 24جنوری کو کراچی سے چترال تک مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کریں گے ۔ جو لوگ گھر نہیں چلاسکتے تھے انہیں ملک پر مسلط کر دیا گیاہے ۔ وزیراعظم کو جہاز میں گھما نے اور ان کا کچن چلانے والے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ۔ گندم اور چینی پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک آٹے اور چینی کے بحران سے دوچار ہے ۔ حکومت نے لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا اور شوگر مافیا کو تمام اختیارات دے کر بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھا دیا ہے ۔اگر وزیراعظم اور ان کی بیوی کا گزارہ دو لاکھ میں نہیں ہورہا تو پندرہ بیس ہزار کمانے والوں کا گزارا کیسے ہوسکتا ہے ۔مدینہ کی ریاست کو بدنام کرنے اور عوام کا خون نچوڑنے والوں کو قبر میں بھی سکون نہیں ملے گا ۔ مدینہ کی ریاست کے حکمران، انسان تو انسان ،جانوروں کے بھوکا رہنے کے خیال سے بھی تڑپ جاتے تھے اور اس وقت تک خود نوالہ نہیں لیتے تھے جب تک ریاست کے غریب غربا بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا لیتے تھے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے راولپنڈی میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلا ف بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ احتجاجی مظاہرے سے نائب امیر جماعت اسلامی سابق ممبر قومی اسمبلی میاں محمد اسلم اور امیر جماعت اسلامی صوبہ شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے بھی خطاب کیا ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ شوگر اور آٹا ملزمالکان اور آٹا و چینی چور حکومت میں بیٹھے ہوں تو عوام کو سستا آٹا اور چینی کیسے مل سکتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ خود حکومتی ارکان اور وزیر اعتراف کرتے ہیں کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں ، سرکاری گوداموں میں وافر مقدار میں گندم موجود ہے مگر پھر بھی غریب کو آٹا نہیں مل رہا ۔ ڈاکٹر عشرت حسین کہتے ہیں کہ ملک میں گڈ گورننس نہیں اور ایف بی آر کے چیئرمین کہتے ہیں کہ کوئی ٹیکس دینے کو تیار نہیں اس لیے سونامی کو ملک پر مسلط کرنے والوں کو بھی سوچنا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں 65 لاکھ ٹن چینی پید ا ہوتی ہے اور ہماری ضرورت 55 لاکھ ٹن ہے مگر اس کے باوجود مارکیٹ سے چینی غائب کر کے راتوں رات عوام کی جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکہ ڈالا جاتاہے اور ان ڈاکوﺅں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اب اس حکومت کو آکسیجن لگا کر بھی زندہ نہیں رکھا جاسکے گا ۔ عوام جھوٹے حکمرانوں کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں ۔ ہم غریب کو حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے ۔ ہم بھوکے بچوں ، ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں کا سہارا بنیں گے اور ان کے غم بانٹیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ حکمرانوں نے مہنگائی کم کر کے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش نہ کی تو جھونپڑیوں سے نکل کر لوگ جب حکمرانوں کے محلوں کا گھیراﺅ کریں گے تو انہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی ۔ پی ٹی آئی حکومت نے پندرہ ماہ میں ایک بھی ایسا کام نہیں کیا جس پر انہیں شاباش دی جاسکے ۔ حکمرانو ںنے عوام سے روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا ہے ۔ کل بھی پاکستان پر جاگیرداروں کی حکومت تھی اور آج بھی ملک پر لینڈ مافیا شوگر اور ڈرگ مافیا کا راج ہے ۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سابق ممبر قومی اسمبلی، نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم نے کہاکہ حکومت نے اپنے لوگوں کو نوازنے کے لیے آٹے کا بحران پیدا کیا اور غریب کے منہ سے نوالا چھینا ۔ عوام بھوک سے مر رہے ہیں اور وزیراعظم کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ۔ آٹا 70 ، چینی 80-85 روپے فی کلو مل رہی ہے ۔ عوام آٹے کے لیے قطاروں میں لگنے پر مجبور ہیں ۔ چینی آٹا مہنگا کر کے عوام کی جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا ۔ حکمرانوں نے عوام کی نیندیں اڑا دی ہیں ۔ دو لاکھ چوراسی ہزار اعلیٰ ڈگری ہولڈرز نوجوان پاکستان چھوڑ گئے ہیں ۔ عوام وزیراعظم سے پوچھتے ہیں کہ گھبرائیں نہ تو کیا خود کشی کر لیں ، بھوکے رہیں یا چرس پی کر سوئیں۔

امیر جماعت اسلامی صوبہ شمالی پنجاب ڈاکٹر سلیم نے کہاکہ حکمرانوں نے غریب کا چولہا بجھا دیا ہے زرعی ملک میں آٹے کا بحران ہے ۔ وزراءاس گھمبیر مسئلے کا کوئی حل نکالنے کی بجائے عوام کی بے بسی کا تمسخر اڑا رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ حکمرانو ں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے ۔ ایک وفاقی وزیر کہتا ہے کہ آٹے کا بحران ہے اور دوسرا وزیر کہتاہے کہ کوئی بحران نہیں ۔ حکمرانوں کے پاﺅں کے نیچے سے زمین سرک رہی ہے اور حکمرانوں کو اقتدار میں لانے والے بھی پریشان ہیں ۔ 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس