Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ہماری افغان پالیسی کے نتیجے میں افغان عوام ہم سے دور اور ہمارے دشمن بھارت کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔پروفيسرمحمد ابراهيم


کراچی10 جنوری2020    نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان وسابق سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان وافغانستان کا امن وترقی کا عمل ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کے حوالے سے وہاں کے عوام نے جو توقعات وابستہ کی تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں،مسلسل آپریشن اور فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے فاٹا کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، (ن)لیگ کی طرح پی ٹی آئی کی حکومت بھی این ایف سی ایوارڈ جاری کرکے صوبوں کو اپنا جائز حق دینے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے، ہماری افغان پالیسی کے نتیجے میں افغان عوام ہم سے دور اور ہمارے دشمن بھارت کے قریب ہوتے جارہے ہیں، جس پر ہمیں افغان پالیسی پر ازسر نو کام کرنے کی ضرورت ہے،افغانستان مسئلے کا واحد حل مذاکرات کی میز پر تمام دھڑوں کو اکٹھا کرکے بٹھانا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی سندھ کے تحت قباء آڈیٹوریم میں ’’فاٹا،کے پی کے اور افغانستان کی موجودہ صورتحال‘‘ پر منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی امیر محمد حسین محنتی نے بھی خطاب کیا جبکہ صوبائی نائب امیر عبدالغفار عمر، سیکریٹری اطلاعات مجاہد چنا، پروفیسر ڈاکٹر اسحاق منصوری ودیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ پروفیسر محمد ابراہیم نے مزید کہا کہ حکومتی دعووں کے برعکس کے پی کے میں حکومتی کارکردگی سے عوام سخت مایوسی کا شکار اور ان سے وابستہ امیدیں دم توڑ رہی ہیں، مہنگائی وبیروزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جنگ افغانستان کی سرزمین پر لڑکر روس کو آگے بڑھنے سے روکا، امریکہ افغانستان اورروس سے آزاد ہونی والے مسلم ممالک کے معدنی وسائل پر قابض ہونے کیلئے آیا مگر گذشتہ 18سال کی شدید مزاحمت اور افغانستان کے جری مجاہدین نے اسکی تمام بربریت کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کیا اور امریکی عزائم کو خاک میں ملادیا ہے اسلئے اب وہ اپنی گردن چھڑانے کیلئے مذاکرات کے ذریعے افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے،طالبان افغانستان کے بڑے علاقے پر قابض اور بہت اچھی پوزیشن میں ہیں اسلئے وہ کابل کی حکومت اور امریکہ سے اپنی شرائط منوائے بغیر کبھی جنگ بندی پر راضی نہیں ہونگے۔ بھارت نے پاکستان کی سفارتی ناکامیوں کی بدولت افغانستان میں بڑے پیمانے پر اثرونفوذ حاصل کرلیا ہے اور بلوچستان وفاٹا کے حالات کو دوبارہ خراب کرنے کیلئے بڑی محنت کررہا ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں اپنے مفادات کیلئے بہترین سفارتکاری کی ضرورت ہے جو فی الحال دکھائی نہیں دے رہی ، فاٹا کے عوام بھی مرکز اور صوبے سے ترقیاتی فنڈز،آپریشن میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم سے ناراض ہیں اسلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے متاثرہ بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے ان کی داد رسی اور متاثرین کی بھرپور امداد کریں تاکہ دشمن اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس