Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

شوگر ملیں بند کرنے میں حکومتی اور اپوزیشن مالکان نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کر کے کسانوں کو لوٹنے کیلیے ایکا کر لیا۔چوہدری نثار


لاہور10جنوری 2020ء:وہدری نثار احمد صدر کسان بورڈ پاکستان نے لاہور میں کسان  بورڈ کے دفتر میں کسان بورڈ کے اعلی سطحیہنگامی اجلاس سے خطاب کیا۔اجلاس میں سیکرٹری جنرل چوہدری شوکت چدھڑ،صدر صوبہ پنچاب  شمالی صوفی ریاض وڑائچ،جنرل سیکرٹری  صوبہ پنجاب  شمالی صالح رانجھا۔صدر صوبہ پنجاب جنوبی حافظ حسین احمد،میڈیا سیکرٹری حاجی محمد رمضان اور دیگر نے شرکت کی۔صدر چوہدری نثار نے  کہا کہشوگر ملیں بند کرنے میں حکومتی اور اپوزیشن مالکان نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کر کے کسانوں کو لوٹنے کیلیے ایکا کر لیا۔حکومت گنے کے کروڑوں کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔چیف جسٹس شوگر ملوں کی سب سڈی اور لوٹ مار کے احتساب کیلیے کمیشن بنائیں۔ کسان بھی متحد ہو کر لوٹ مار کے خلاف آواز اٹھائیں۔ حکومت کروڑوں گنے کے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ سابقہ اربوں کے واجبات نہ ملنے اور شوگر ملیں نہ چلنے سے کروڑوں ایکڑ رقبہ پر گندم کا شت نہیں ہو سکی۔شوگر ملوں کی سب سڈی اور لوٹ مار کے احتساب کیلیے چیف جسٹس کمیشن بنائیں۔حکومت  اب تک کروڑوں کسانوں کیلیے کچھ نہیں کر سکی۔انہوں نے کہا۔ حکومتی دعوؤں اور اعلانات کے باوجود ابھی تک تمام شوگر ملیں نہیں چل سکیں جس سے کسان برادری میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں شوگر مل مافیا کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں۔ گزشتہ سیزن میں بھی حکومت کے اعلان کردہ ریٹ 190روپے فی من کی بجائے aاپنی من مانی قیمتوں پر گنا خریدنا چاہتی ہیں ہیں اورحکومتی مشینری، سیکرٹری فوڈ،کین کمشنر اس حوالے سے بے بس نظر آتے ہیں۔شوگر مل مافیا نقصان کاجھوٹا ڈھنڈورہ پیٹ کر اس دفعہ بھی کرشنگ لیٹ کر رہا ہے تا کہ کسانوں کو مجبور کر کے دوبارہ اسی طریقہ سے ان کو لوٹ سکیں۔چینی مہنگی کرکے عوام الناس کی جیبوں پر بھی ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں زرعی مداخل کھاد، بیج، زرعی ادویات کی قیمتوں میں سوگنا اضافہ ہو چکا ہے اور حکومتی مشینری اس مافیا کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے۔ کسان بورڈ پاکستان جو کہ ملک بھر کے کسانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے حکومت وقت کی موجود ہ زراعت دشمن پالیسیوں کو یکسر نامنظور کرتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ حکومت نے اگر اپنی موجودہ روش تبدیل نہ کی اور شوگر ملوں کی لوٹ مار بند نہ کی تومجبوراََ کسانوں کو احتجاج کرتے ہوئے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کرنا پڑیگی۔ کرشنگ سیزن میں تاخیر سے کروڑوں ایکڑ رقبہ پر گندم کاشت نہ ہونے سے ملک میں غذائی قلت پیدا  ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔کسان بورڈ پاکستان سمیت جگہ جگہ کسان سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو ئی۔ انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ فی الفور کرشنگ سیزن کا آغاز کیا جائے اور گورنمنٹ کے مقرر کردہ ریٹ 190روپے فی من پر گنے کی خریداری کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر کے کسان پہیہ جام ہڑتال کرنے پر مجبورہونگے

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس