Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

ٓ ئی ایم ایف کے سامنے حکومت نے سرتسلم خم کردیا،بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ قابل مذمت ہے ۔رانا طٰہٰ خاں


فیصل آبادیکم جنوری 2020ء:جماعت اسلامی حلقہ پی پی113کے امیرراناطٰہٰ خاں ،جنرل سیکرٹری ڈاکٹرمحمدانور نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں ایک روپے 56 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دینے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آ ئی ایم ایف کی جانب سے بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے لیے مسلسل دباؤ ہے جس کے سامنے حکومت نے سرتسلم خم کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں بجلی کی اوسطاً قیمت 13 روپے 77 پیسے فی یونٹ تک جاپہنچی ہے، جس میں جنرل سیلز ٹیکس، ایندھن کی قیمت کی ایڈجسٹمنٹ اور دیگر ٹیکس اور ڈیوٹیاں شامل نہیں ہیں ۔ اب یہ نیپرا کے معمولات میں شامل ہوچکا ہے کہ وہ بجلی کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر اضافہ کرتا ہے جبکہ ہر کچھ عرصہ کے بعد گیس کی قیمتوں میں بھی بھاری بھرکم اضافہ کرنے کی خوشخبری سنائی جاتی ہے ۔ جنوری سے گیس کی قیمت میں مزید ڈھائی سو فیصد اضافے کا بم پہلے سے گرایا جاچکا ہے ۔ اور گیس مل بھی نہیں رہی ۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور برآمدات بری طرح متاثرہیں ۔ ایسے میں وزیر اعظم عمران خان نیازی اور ان کی ٹیم کس طرح سے معیشت کی بہتری کے دعوے جھوٹ کے سواکچھ نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ معاشی ترقی کا ہر اشاریہ تیزی سے نیچے جارہا ہے، ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سستی بجلی کے ذرائع اختیار کرے ۔ فرنیس آئل سے بجلی کی پیداوار دنیا میں بجلی پیدا کرنے کا مہنگا ترین طریقہ ہے جس سے پاکستان میں بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔ پاکستان میں ابھی تک بجلی کی تقسیم میں ہونے والے نقصانا ت کو کم نہیں کیا جاسکا ہے جس کی واحد وجہ یہ ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ہی بجلی کی چوری میں ملوث ہیں ۔ بجلی کی پیداواری لاگت کیا ہے اور نجی بجلی گھروں کو کیوں اضافی ادائیگی کی جارہی ہے، اس بارے میں جاننا صارفین کے بنیادی حقوق میں شامل ہے مگر اس کی معلومات نہ تو کہیں پر دستیاب ہیں اور نہ ہی سرکاری ادارے اس بارے میں لب کشائی کے لیے تیار ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سرکاری ادارے ہی ملک کو لوٹنے والوں کی سرپرستی کررہے ہیں ۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے سے سرکاری خزانے میں اتنی رقم نہیں جاتی، جتنا نجی کمپنیوں کے کھاتے میں جمع ہوجاتی ہے ۔ بہتر ہوگا کہ حکومت نیپرا کو پابند کرے کہ وہ بجلی اور گیس کی قیمتوں کو حقیقی سطح پر رکھیں اور سرکاری آمدنی میں اضافے کے لیے دیگر راستے اختیار کیے جائیں ۔

ملک میں اس وقت جنگل اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے ۔میاں اجمل حسین بدر،رانام محمد عمرفاروق

 


فیصل آبادیکم جنوری 2020ء: جماعت اسلامی حلقہ پی پی 115کے امیر میاں اجمل حسین بدرایڈووکیٹ،جنرل سیکرٹری رانامحمدعمرفاروق نے کہاہے کہ ملک میں اس وقت جنگل اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے ۔ ملک میں ہر جگہ وی وی آئی پیز کا راج ہے اسپتالوں ،تھانہ کچہری اور عدالتوں میں وی آئی پیز کو پروٹوکول اور غریب کو دھکے دیے جاتے ہیں حالانکہ غریب بھی وہی ٹیکس دیتا ہے جو ارب پتی دیتے ہیں ۔ ملک میں مہنگائی،بے روزگاری اور بدامنی کا ڈیرہ ہے ۔ گزشتہ 15ماہ میں مزید80 لاکھ شہری خط غربت سے نیچے گرگئے ہیں ۔ 34لاکھ برسر روز گار اپنے روزگار سے محروم ہوئے،قرضوں میں مجموعی طور پر 35فیصد اضافہ ہوا ۔ مہنگائی اور بے روز گاری کے ستائے ہوئے عوام سخت پریشان ہیں ۔ دنیا میں ترقی و خوشحالی اور عروج صرف ان قوموں نے حاصل کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاں قانون کی حاکمیت کو یقینی بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے شریعت کے نظام کی بات کرتے ہیں تاکہ پسے ہوئے طبقے کو انصاف مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ گمبھیر صورتحال سے صرف جماعت اسلامی نکال سکتی ہے ۔ اب قوم کے پاس جماعت اسلامی کے سوا دوسرا کوئی آپشن نہیں رہا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم دنیا پر مسلط حکمرانوں کی نا اہلی اور استعماری قوتوں کی غلامی کی وجہ سے پوری دنیا میں مسلمان تنہا ہیں ۔ بھارت میں لاکھوں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کردی گئی ہے ۔ ہندو راج اور ہندوتوا کے خلاف مسلمانوں سمیت تمام اقلیتیں سراپا احتجاج ہیں لیکن دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بدترین کرفیو اور فوجی محاصرے کو 145 دن گزر گئے ہیں مگرکشمیریوں کی چیخ و پکار کاحکمرانوں پر کوئی اثر نہیں ہورہا ۔ حکمرانوں کے بیانات اور پالیسیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ کشمیر کے صرف اسی حصے کی حفاظت چاہتے ہیں جو پاکستان کے ساتھ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حکمرانوں نے بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس