Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

بھارتی فوج ہر نوع کا ظلم ڈھانے کے باوجود کشمیری عوام کے عزم آزادی کو شکست نہیں دے سکی


فیصل آباد23ستمبر2019ء:کشمیریوںسے اظہاریکجہتی کے لئے 29ستمبرکو چنیوٹ بازارسے چوک گھنٹہ تک حلقہ خواتین کے زیراہتمام آزادی کشمیرریلی کاانعقادکیاجائے جس میں شہربھرسے ہزاروں خواتین کا شریک ہوں گی۔اس امر کااعلان شعبہ تعلقات عامہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں ہونے والے مشاورتی فورم میں کیاگیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی حلقہ خواتین پنجاب کی صوبائی نائب ناظمہ بشریٰ صادقہ،ضلعی نائب ناظمہ ڈاکٹرفہمیدہ چوہدری،معروف سکالرریحانہ قریشی،ڈاکٹرعائشہ آصف،نائب ناظمہ حرم فورم رخشندہ شائستہ،ڈائریکٹرتعلقات عامہ صباحنیف،آمنہ مقدس سمیت دیگرخواتین رہنماشریک تھی۔رہنمائوں نے کہاکہ بھارت نے جنت نظیر کشمیر گزشتہ ستر سالوں سے بھارتی درندگی کا شکار ہے۔ جبر و تشدد کے ذریعے کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کچل دینے کے زعم میںمبتلا بھارتی حکومت مسلسل اٹوٹ انگ کی مالا جپ رہی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر نوع کا ظلم ڈھائے کے باوجود کشمیری عوام کے عزم آزادی کو شکست نہیں دے سکی۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان  کی شہ رگ قرار دیا،مقبوضہ وادی کشمیر تحریک پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔کوئی بھی آذاد اور خود مختار حکومت اپنی شہ رگ کو دشمن کے حوالے نہیں کر سکتی۔ جموں وکشمیر کے عوام کے اپنے حق کے آزادی کے حصول کے لئے پرامن راستہ اختیار کرنے کے باوجود بھارت نے ظلم و ستم کی انتہا کردی اور جدوجہد کے ان ستر سالوں میں ایک اندازے کے مطابق تقریبا ایک لاکھ سے زائد افراد شہید،50 لاکھ زخمی، سات ہزار سے زائد حراستی قتل، گیارہ ہزار سے زائد خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کے واقعات اور ڈیڑھ لاکھ مکانات تباہ کر دیے گئے۔ تاریخ شاہد ہے کہ بھارت کبھی بھی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں رہا پاکستان کے عوام ایسے جامع اور بامقصد مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں جس کے ایجنڈے پر سرفہرست مسئلہ کشمیر ہو مگر مذاکرات کی آڑ میں اشیائے صرف کی تجارت، کلچر کے نام پر ثقافتی طائفوں کی آمدورفت، بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے،غلامانہ رویے اور بھارت کو ناجائز مراعات دینے کو ہر گز پسند نہیں کرتے۔ کشمیریوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لئے بھارتی حکومت بد ترین ریاستی دہشت گردی کامظاہرہ کر رہی ہے۔ ایسے میں عالمی ادارے اور حکومتیں ان مظالم پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس وقت کشمیریوں کو پاکستان کی طرف سے اخلاقی سفارتی اور عملی امداد کی کمک درکار ہے۔پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہے حکومت پاکستان کی طرف سے اس موقع پر کشمیریوں کو محض بیانات سے نہیں بہلایا جاسکتا، کشمیر ایشو پر حکومت پاکستان کی خاموشی مجرمانہ غفلت کا ثبوت ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد کے نتیجے میں وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان کھل کر بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرے، اس حوالے سے امریکا یا بھارت کے دباؤ میں آئے بغیر کشمیریوں کی حمایت اور بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے میدان عمل میں اترے۔ پاکستان کی شہ رگ کو پنجہ ہنود سے آزاد کروانے کے لیے یو این او کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے ہی مسئلے کا اصل حل ہے جس کے لئے عوام نے کل بھی جدوجہد کی، آج بھی جاری ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک جاری رہے گی۔ یہاں ضرورت ہے کہ پاکستانی میڈیا بھی بھارت کے ظلم و ستم کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کرے ۔صوبائی نائب ناظمہ بشریٰ صادقہ نے کہا کہ ہم کچھ مطالبات پیش کرتے ہیں حکومت وقت کو چاہئے کہ ان عملدرآمد کروائے تحریک آزادی کشمیر، پاکستان کی بقا اور استحکام کی تحریک ہے لہذا حکومت پاکستان حالات کے دباؤ سے نکل کر اپنی ترجیحات کا تعین کرے اور اعلی ترین سطح پر بھارت کے مظالم کی بھرپور مذمت کی جائے اور دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتخانوں کو متحرک کیا جائے۔بھارت سے مذاکرات صرف اس صورت میں کیے جائیں جب بھارت کشمیر میں مظالم بند کرکے فوجی انخلا اور مسئلہ کو متنازعہ تسلیم کرلے۔عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کا قتل عام بند کروائے اور انہیں حق خود ارادیت کے ذریعے خود اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔حکومت کشمیر کے مسئلے کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کیلئے ایک نائب وزیر خارجہ کا تقرر کرے زارت خارجہ اور دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں میں الگ ڈیسک قائم کیے جائیں تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیر کی آزادی کے لئے موثر انداز میں آواز بلند ہو۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس