Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

کشمیر کو پاکستان سے جدا نہیں کیاجاسکتا، کشمیر پاکستان کی بقا اور ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔سینیٹر سراج الحق


لاہور 7اگست 2019ء:امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکہاہے کہ کشمیر پاکستان کی بقا اور ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔کشمیر کے لئے لڑنا اور مرنا پاکستان کے لئے ہی لڑنا مرنا ہے ۔کشمیر کو پاکستان سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ بھارت کا اگلا ہدف گلگت اور آزاد کشمیر ہے ، اگر آج کشمیر پرفیصلہ نہ کیا گیا تو پاکستان مستقبل میں پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔امریکہ قابل اعتماد نہیں ،ماضی میں وہ کئی بار ہمیں دھوکہ دے چکا ہے ۔ثالثی کی بات امریکہ کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا ،امریکہ اور بھارت سٹریٹجک پارٹنر ہیں ،بظاہر یہی لگتا ہے کہ ٹرمپ نے مودی کے منصوبے کے مطابق بات کی ۔امریکہ پاکستان کو کسی صورت بھی بھارت پر ترجیح نہیں دے گا۔امریکہ نے اگر واقعی ثالثی کرنا ہوتی تو اگلے ہی دن کشمیرکو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار نہ دیتا۔حکومت اس مسئلہ پر اسلام آباد میں فوری طور پر بین الاقوامی کانفرنس بلائے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمیں جو کچھ کرنا ہے اپنی قوت بازوپر کرنا ہے ۔امریکہ سمیت عالمی طاقتوں نے پہلے کبھی ہمارا ساتھ دیا ہے نہ آئندہ دےں گی۔دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ ایک امتیازی اور متعصبانہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے ۔مسلم ممالک سے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو مختصر مدت میںکاٹ کرالگ کر دیا گیا مگرفلسطین اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر ستر سال سے موجود ہے اور سینکڑوں قرار دادوں کے باوجود اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مسئلہ کے حل کیلئے عالمی برادری سے رجوع ضرور کرنا چاہئے ۔دنیابھر میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کو مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت کی جائے اور سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کئے جائیں ۔انہو ںنے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن پارلیمنٹیرین پر مشتمل پارلیمانی وفود مختلف ممالک میں بھجوائے جائیں اور عالمی برادری کو ہندوستان کے مظالم اور مسئلہ کشمیر کی صورتحال پر اعتماد میں لیا جائے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمیں امریکہ کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں ۔ہمیں جو بھی فیصلہ کرنا ہے جلد ازجلد کرگزرنا چاہئے۔اگر ہم نے اس موقع کو ضائع کردیا تو پھر شاید یہ موقع دوبارہ کبھی نہ ملے ۔انہو ںنے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں پوری تیاری کے ساتھ آنا اور ایک واضح لائحہ عمل دینا چاہئے تھا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بھارت کو جواب دینے کیلئے پوری قوم حکومت کے ساتھ ہے اور اپوزیشن بھی کہتی ہے کہ وزیر اعظم قدم بڑھاﺅ ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر اب قدم تو حکومت نے اٹھانا ہے اور قدم اٹھانے کے لیے اسے اب مزید وقت ضائع نہیں کرناچاہیے ۔ 

سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ کشمیر پاکستان ،بھارت، چین اور روس چار ایٹمی طاقتوں کے درمیان گھرا ہواہے ۔ اگر کشمیر میں جنگ چھڑتی ہے تو پورا خطہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا ۔ ایک چنگاری سے بھڑکنے والی آگ پورے خطے اور پھر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔ کشمیر کے امن سے خطے کا امن وابستہ ہے اس لیے عالمی برادری کو کشمیر میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں کشمیریوں کا ساتھ اس لیے نہیں دینا کہ کشمیر کا پاکستا ن سے الحاق ہو جائے بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور ہمیں اللہ کا حکم بجا لانا ہے ۔ کشمیری پاکستان کی سا لمیت اور بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ کشمیر کا ہر باشندہ خود کو پاکستانی کہتاہے ۔ کشمیری شہداءکی قبروں پر پاکستا ن کے پرچم لہرا رہے ہیں اور ہر شہید وصیت کرتاہے کہ اسے پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جائے ۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ان مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دیا جائے ۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس