Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرار دادبرائے دہشت گردی /لاپتہ افراد کی بازیابی اور مدارس دینیہ کے خلاف مہم


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس وطن عزیز پاکستان میں آئے روز دہشت گردی کی ہونے والی وارداتوں پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے۔ بلوچستان ، فاٹا ،کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کے واقعات نے پوری قوم کو تشویش میں مبتلا کردیاہے۔ 9/11کے واقعات کے بعد دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ۔ 60ہزارپاکستانی شہری اور 6ہزار فوجی شہید ہوئے۔ مقتدرقوتوں   کے انسداد دہشت گردی کے لیے کیے گئے اقدامات اور دہشت گردی ختم ہونے کے اعلانات کے باوجود قوم ابھی تک اس ناسور سے چھٹکارا حاصل نہ کرسکی۔ ساہیوال اور ملک کے دیگر علاقوں میں ریاستی اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے باعث عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب کی لہریں موجود ہیں اور خوف کے مہیب سائے عوام کے سروں پر منڈلا رہے ہیں ۔ مزیدافسوسناک امر یہ ہے کہ ریاستی اداروں کی طرف سے دہشت گردانہ کاروائیوں کو دینی مدارس سے جوڑ کر مدارس دینیہ کے خلاف مذموم پراپیگنڈہ کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیاجاتا اور پھر مفروضوں کی بنیادپر کریک ڈائون اور بے گناہ معصوم ، یتیم و نادار طلبہ کو گرفتار کرکے یا تو سنگین جھوٹے مقدمات قائم کردیئے جاتے ہیں یا پھر انہیں گم کردیاجاتاہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس عدالت عظمیٰ کی واضح ہدایات اور آئین میں بیان کیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف ایجنسیوں کے ہاتھوں ہزاروں افراد کو لا پتہ کرنے پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے۔ جیتے جاگتے انسانوں کو وجہ بتائے بغیر اٹھانا اور انسانیت سوز سلوک ، عقوبت خانوں میں ان کی بندش اور اہل خانہ کے بارے میں لاعلم رکھنا ایسا افسوسناک عمل ہے کہ انسانیت سرپیٹ کر رہ جاتی ہے ۔ تشدد کے بعد قتل اور پھر مسخ شدہ لاشوں کا ملنا قوم میں نفرت ، غصے اور بغاوت کے جذبات پروان چڑھانے کاذریعہ بن رہاہے۔ عوام اور اداروںمیں خلیج بڑھ رہی ہے۔ لہٰذا مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ :

٭           تمام لاپتہ افراد کو واگزار کیا جائے اور انہیں رہا کرکے آئین کے مطابق باعزت اور با وقار زندگی گزارنے کاموقع دیاجائے۔

٭           لاپتہ افراد میں اگر کوئی دہشت گرد انہ سرگرمیوں میں ملوث ہے تو ان پرکھلی عدالت میں مقدمہ چلایاجائے۔

٭           کوئی بھی با عزت پاکستانی شہری بغیر کسی جرم کے جیل یا عقوبت خانوں میں نہیں رہنا چاہیے۔

٭           حکومت پاکستان اور 26سراغ رساں ایجنسیاں اپنی ادارتی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں تاکہ انڈیا اور افغانستان کی مداخلت کے نیٹ ورک کا قلع قمع کیاجاسکے اور مظلوم عوام کے جان و مال کی حفاظت ہوسکے۔

٭           مدارس دینیہ قرآن و سنت کی تعلیم اور نسل نو کی تربیت کے ادارے ہیں ۔ لہٰذامدارس دینیہ کے خلاف مذموم پراپیگنڈہ بند کیاجائے۔

٭           CTDکی ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں کا فوری نوٹس لیاجائے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے اور مظلوم خاندانوں کی داد رسی کی جائے۔

٭           پولیس ، رینجرز اور سیکورٹی فورسز کے ذمہ داران اور اہل کاروں کو آئین ، قانون کے مطابق ہیومن رائٹس کے تحفظ کا پابند بنایاجائے۔

٭…٭…٭

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس