Jamaat-e-Islami Pakistan |

دفعہ۔۔۔89 تا 93 ۔۔جماعتی مناصب سے معزولی


حصہ نہم

                                     جماعتی مناصب سے معزولی
 

۱-مجالس شوریٰ کے ارکان کی معزولی
دفعہ ۸۹: مجلس ِ شوریٰ (خواہ مرکزی ہو یا ماتحت) کا جو رکن:
(ا) جماعت اسلامی پاکستان کا رکن نہ رہے ، یا
(ب) اپنی مجلس کے مسلسل دو اجلاسوں سے بلا کسی معقول وجہ کے غیر حاضر رہے، یا
(ج) مجلس کی رکنیت سے مستعفی ہو جائے اور اس کا امیر اس کے استعفیٰ کو منظور کرلے، یا
(د) اس کے حلقۂ انتخاب کے اجتماع میں کم از کم دو تہائی اکثریت اس کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کردے، اسے اس مجلس ِ شوریٰ کی رکنیت سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔
۲- جماعت سے اخراج یا تادیبی مُعطلی
دفعہ ۹۰: (۱)کسی رکن جماعت کارکنیت سے اخراج یا تادیبی معطلی کی کاروائی صرف اس صورت میں ہوسکے گی  جب کہ:
(ا) وہ اپنے عہدِ رکنیت سے قولاً یا عملاً انحراف کرے، یا
(ب) نظم جماعت کی خلاف ورزی کرے، یا
(ج) جماعت کی اعلان کردہ پالیسی کے خلاف کوئی کام کرے، یا
(د) کوئی ایسا فعل کرے جو جماعت کی اخلاقی و دینی حیثیت کو نقصان پہنچانے والا ہو، یا
(ہ) اس کے طرز عمل سے یہ ظاہر ہو کہ اسے جماعت سے مخلصانہ تعلق نہیں ہے، یا
(و) جماعت کے کام میں دلچسپی لینا چھوڑ دے۔
(۲)اگر کوئی امیرضلع از خود یا کسی ماتحت امیر کی رپورٹ پر محسوس کرے کہ اس کے ضلع کاکوئی رکن جماعت اس دفعہ شق نمبر1کی کسی ضمن کا اس حد تک مرتکب ہواہے کہ اسے جماعت کی رکنیت سے خارج یا بطور تادیب کسی متعین مدت کے لیے معطل کردینا چاہیے تواس کی رپورٹ امرائے بالا کے توسط سے امیرجماعت کے پاس بھیج دے گا۔
(۳)اخراج یا تادیبی معطلی کاآخری فیصلہ امیرجماعت کی صوابدید پر ہوگا ۔ تادیبی معطلی کی مدت زیادہ سے زیادہ ایک سال ہوگی البتہ امیرضلع ، امیرحلقہ یا امیرصوبہ اگر ضرورت محسوس کرے تو امیرجماعت کے فیصلے تک رکنیت عارضی طور پر معطل کرسکتا ہے۔ ۱؎
۳- جماعتوں کوتوڑنا اور معطل کرنا
دفعہ۹۱: اگر جماعتی ضروریات اور مصالح مقتضی ہوں تو امیر جماعت کسی ماتحت جماعت کو معطل کرنے اور اپنی مجلس عاملہ کے مشورے سے توڑ دینے کا مجاز ہوگا۔
دفعہ ۹۲: مجلسِ شوریٰ کے ہر اجلاس میں وہ سارے معاملات پیش کر دیے جائیں گے۔ جو پچھلے اجلاس سے اس وقت تک ماتحت جماعتوں کو معطل کرنے، توڑنے یا ارکان کے اخراج سے متعلق ہوئے ہوں۔
۴- جماعت اسلامی پاکستان میں اختلاف کے حدود
دفعہ ۹۳: جو ارکان جماعت دستور جماعت کی پابندی کے عہد پر قائم ہوں، مگر نصب العین کے حصول کے عملی طریقوں میں جن کا نقطۂ نظر جماعتی فیصلوں سے مختلف ہو، انھیں جماعت کے اندر حسب ذیل حدود کو ملحوظ رکھنا ہوگا:
(۱)    انھیں ارکانِ جماعت کے اجتماعات میں اختلاف خیال کے اظہار کا پورا حق حاصل ہوگا، مگر اس غرض کے لیے پریس اور پبلک پلیٹ فارم کو ذریعہ بنانے کا حق نہ ہوگا اور یہ حق بھی نہ ہوگا کہ وہ فرداً فرداً ارکان جماعت میں نجویٰ کرتے پھریں۔
(۲)جماعت میں کثرتِ رائے سے جو فیصلے ہو جائیں، ان کو وہ جماعتی فیصلوں کی حیثیت سے تسلیم کریں گے اور ا ن کے پابند ہوں گے۔ البتہ انھیں یہ حق حاصل ہوگا کہ مقررہ حدود کے اندر وہ ان فیصلوں کو متعلقہ اجتماعات میں بدلوانے کی کوشش کریں۔
(۳)اگر کوئی رکن جماعت، جماعت کی طے کردہ پالیسی سے اختلاف کا اظہار کر دے تو وہ جماعت میں کسی ایسے منصب پر نہ رہ سکے گا جس کا فریضہ جماعتی پالیسی کو نافذ یا اس کی ترجمانی کرنا ہو۔
٭…٭…٭

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس