Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

دفعہ۔۔۔56 تا 60 ۔۔حلقے کی مجلسِ شوریٰ،افتتاحی اجلاس،امیر حلقہ اور اس کی مجلس ِ شوریٰ کا باہمی تعلق



دفعہ 56 فرائض و اختیارات:- امیر حلقہ کے فرائض حسب ذیل ہوں گے:
(۱)جماعت کی دعوت‘ نصب العین اور پروگرام کی اپنے حلقے میں اشاعت اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا۔
(۲)حلقے میں نظم بالا کے احکام کی تعمیل اور ان کے واجبات کی بروقت ادائیگی کا انتظام کرنا۔
(۳) حلقے کے حالات اور جماعت کے کام سے نظم بالا کوباخبر رکھنا۔
(۴)حلقے میں ماتحت جماعتوں‘ شعبوں اور اداروں اور ان کے عملے اور کارکنوں کی نگرانی و رہنمائی اور محاسبہ کرنا۔
(۵)حلقے میں جماعت کے نصب العین اور مقاصد سے تعلق رکھنے یا ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل کا بروقت نوٹس لینا اور ان کے بارے میں ضروری اقدام کرنا۔
(۶)مزید جو فرائض اور ذمہ داریاں نظم بالا کی طرف سے عائد کر دی جائیں۔
دفعہ ۵۷: امیر حلقہ کے اختیارات یہ ہوں گے:
(۱)    حلقے کی مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے قیّم حلقہ کا تقرر اور برطرفی۔
(۲)حلقے کے شعبوں میں عملے کا تقرر اور برطرفی۔
(۳)حلقےکی مجلسِ شوریٰ اور اجتماعات طلب کرنا۔
(۴)حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے طے کردہ بجٹ کے مطابق حلقے کے بیت المال میں تصرف اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں دستور کے مطابق مناسب اور ضروری اقدام کرنا۔
(۵)مزیدجو اختیارات امرائے بالا سپرد کریں۔

۳۔ حلقے کی مجلسِ شوریٰ
(Divisional Council)

دفعہ ۵۸: (۱) ہر حلقے کی مجلس ِ شوریٰ ارکانِ حلقہ کی براہ راست منتخب کردہ ہوگی۔
(۲)ارکانِ مجلس کی تعداد امیر حلقہ مقرر کرے گا۔
(۳)ارکان مجلس کا انتخاب دو سال کے لیے ہوگا۔
(۴)امیر حلقہ اپنے حلقے کی مجلسِ شوریٰ کا صدر اور قیّم ِ حلقہ بربنائے عہدہ اس کا رکن اور معتمد ہوگا۔ ۱؎

دفعہ ۵۹:افتتاحی اجلاس:- حلقے کی مجلس ِ شوریٰ کا انتخاب مکمل ہو جانے کے بعد امیر حلقہ ایک مہینے کے اندر اندر مجلس کا افتتاحی اجلاس بلائے گا جس میں تمام ارکانِ شوریٰ فرداً فرداً امیر ِ حلقہ کے روبرو رکنیتِ شوریٰ کا حلف اٹھائیں گے جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۲ میں درج ہے۔ اس کے بعد امیر حلقہ انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں سے اور حلقے میں جماعت کے موجودالوقت حالات سے آگاہ کرے گا۔
 امیر حلقہ اور اس کی مجلس ِ شوریٰ کا باہمی تعلق
دفعہ 60: ( ۱) امیر حلقہ روز مرہ کے معاملات کے سوا تمام اہم معاملات حلقے کی مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے طے کرے گا۔
(۲)امیر حلقہ اور اس کی مجلسِ شوریٰ میں نزاع پیدا ہو جانے کی صورت میں امرائے بالا کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس