Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

دفعہ۔۔۔50تا 55 ۔۔ قیم صوبہ، صوبائی مجلس عاملہ،صوبائی شعبوں کے ناطمین


4۔ قیّم صوبہ
(Provincial Secretary General)

دفعہ ۵۰: قیّم صوبہ کا تقرر امیر صوبہ اپنی مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے کرے گا اور وہ اسی وقت تک اس منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک امیر صوبہ اس کے کام سے مطمئن ہو۔
دفعہ۵۱: (۱)قیّم صوبہ اپنے صوبے کے جملہ معاملات میں امیرصوبہ کا مددگار اور نمائندہ ہوگا اور وہ فرائض انجام دے گا جو امیر صوبہ اس کے سپرد کرے اور اپنے کام کے لیے امیر صوبہ کے سامنے جوابدہ ہو گا۔
(۲)قیّم صوبہ اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے امیر صوبہ کے سامنے وہ حلف اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۳ میں درج ہے۔

۵۔ صوبائی مجلس عاملہ
(Provincial Working Committee)
تقرر، حیثیت اور اختیارات

دفعہ ۵۱   ، ا :(۱)صوبائی جماعت کی ایک مجلس عاملہ ہوگی جو زیادہ سے زیادہ دس ارکان پر مشتمل ہوگی جن کا انتخاب صوبائی امیر‘ صوبائی مجلس ِ شوریٰ کے ارکان میں سے کرے گا۔ صوبائی امیر اس کا صدر ہوگا‘ قیّم صوبہ بربنائے عہدہ اس کارکن اور معتمد ہوگا اور نائب صوبائی امراء (اگر کوئی ہوں) بربنائے عہدہ اس کے رکن ہوں گے۔
(۲)کوئی شخص جس کی صوبائی مجلس ِ شوریٰ کی رکنیت ختم ہو جائے، صوبائی مجلس عاملہ کا رکن نہیں رہ سکے گا۔
(۳)صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس صوبائی امیر جب اور جتنی مرتبہ چاہے طلب کرسکتا ہے۔
(۴)صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے لیے حاضری کا نصاب اس مجلس کے ارکان کی کل تعداد کے نصف پر مشتمل ہوگا۔
(۵)صوبائی مجلس ِ شوریٰ کے ہر نئے انتخاب کے بعد صوبائی مجلس عاملہ از سر نو مرتب کی جائے گی۔
(۶)ایسے تمام حالات میں جب کہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس نہ ہو رہا ہو‘ یا طلب کرنا مشکل ہو‘ صوبائی مجلس عاملہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کے جملہ اختیارات استعمال کرسکے گی البتہ صوبائی مجلس ِ شوریٰ کو پورا اختیار ہوگا کہ اس کے کسی اقدام یا فیصلے کی توثیق کرے یا اس کو جزوی یا کلی طور پر نامنظور کر دے۔

۶۔ صوبائی شعبوں کے ناظمین
    تقرر، حیثیت اور اختیارات

 

دفعہ ۵۱ ب : (۱) ہر صوبائی شعبہ بالعموم ایک الگ ناظم کے ماتحت ہوگا جس کا تقرر امیر صوبہ اپنی صوابدید سے کرے گا۔
(۲)ایک ناظم شعبہ اسی وقت تک اپنے منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک صوبائی امیر اس کے کام سے مطمئن رہے۔
(۳)ناظمین شعبہ جات کے فرائض و اختیارات کا تعین صوبائی امیر کرے گا۔
٭…٭…٭

تنظیمی حلقے
۱۔ حدود اور نظام

دفعہ ۵۲: (۱) جماعتی تنظیم کے لیے تنظیمی حلقوں کے حدود کا تعین اور ان میں تبدیلی متعلقہ صوبائی مجلس ِ شوریٰ کی تجویز پر امیرجماعت کرے گا۔
(۲)ان حلقوں کا نظام امیر حلقہ‘ حلقہ کی مجلس ِ شوریٰ اور قیّم حلقہ پر مشتمل ہوگا۔ الاّیہ کہ مقامی حالات عارضی طور پر کسی دوسرے انتظام کے متقاضی ہوں۔
(۳)ہر حلقے کے ارکانِ جماعت پر نظم حلقہ کی اطاعت لازم ہوگی۔

۲۔ امیر حلقہ
(Divisional Ameer)


دفعہ ۵۳: حیثیت:- ہر تنظیمی حلقے کا ذمہ دار ایک امیر ہوگا جو امیر حلقہ کہلائے گا، اس کی حیثیت اپنے حلقے میں امیر جماعت کے نمائندے کی ہوگی اور وہ اپنے امرائے بالا کے سامنے جوابدہ ہوگا۔

دفعہ 54: عزل و نصب :-امیر حلقہ کا عزل و نصب امیر جماعت‘ امیر صوبہ کے مشورے سے کرے گا۔ اور وہ اس میں جماعتی مصالح کے ساتھ ارکان حلقہ کی رائے کو زیادہ سے زیادہ ملحوظ رکھے گا۔ امیر حلقہ کا تقرر تین سال کے لیے ہوگا۔

 دفعہ ۵۵: حلف:- امیر حلقہ اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے امیرجماعت یا اس کے مقرر کردہ شخص یا اشخاص کے روبرو حلفِ امارت اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۱ میں درج ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس