Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

دفعہ31تا 40: مجلس شوریٰ کی معزولی،ضلعی جماعتوں کے امراء کی مجلس،امیر صوبہ، عزل و نصب



دفعہ۳۱:مجلس شوریٰ کی معزولی:۔   اگر مجلس ِشوریٰ کی قراردادِ عدم اعتماد سے معزول شدہ امیرجماعت نئے انتخاب میں دوبارہ امیر جماعت منتخب ہو جائے تو یہ جماعت کی طرف سے مجلس ِ شوریٰ پر عدم اعتماد کے ہم معنی ہوگا اور منتخب امیر کے امارت کا حلف اٹھا کر امارت کا چارج لینے کے روز سے مجلسِ شوریٰ معزول ہو جائے گی۔ منتخب امیر نئی مجلسِ شوریٰ کے انتخاب کا انتظام کرے گا اور اس دوران میں امرائے صوبہ پر مشتمل عارضی مجلس ِ عاملہ کی مدد اور مشورے سے کام کرے گا۔
             
دفعہ ۳۲: ضلعی جماعتوں کے امراء کی مجلس :۔   اگر کسی وقت مجلس ِ شوریٰ کے اجلاس کےلیے مقرر نصاب حاضری کی حد تک بھی ارکانِ شوریٰ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل موجود نہ رہیں تو ملک میں تمام ضلعی جماعتوں کے امراء کی ایک مجلس مرکزی مجلس ِ شوریٰ کی قائم مقام قرار پائے گی اور اسے یہ اختیار حاصل ہوگا کہ چاہے تو خود مجلس ِ شوریٰ کی حیثیت سے کام کرے یا دستور کے مطابق نئی مجلس ِ شوریٰ کی تشکیل کا انتظام کرے یا دستور کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے سربراہ جماعت کی مدد اور مشورے کے لیے کوئی اور مناسب اور ممکن العمل صورت تجویز کرے۔
دفعہ ۳۳: امیر جماعت کا منصب خالی ہو جانے کی صورت میں مجلس ِ شوریٰ کا اجلاس‘ یا دفعہ ۳۲ کی رو سے ضلعی امراء کی مجلس کا اجلاس بلانے کا اختیار علی الترتیب قیّم ِ جماعت‘ مرکزی شعبہ تنظیم‘ مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے ہر موجود رکن اور ہر ضلعی جماعت کے امیر کو حاصل ہوگا۔ ۱؎ 

4۔ مجلس عاملہ
(Working Committee)

       
دفعہ۳۴: تشکیل‘ حیثیت اور اختیارات:۔

  (۱)جماعت اسلامی پاکستان کی ایک مجلس عاملہ ہوگی جو سولہ (۱۶) ارکان پر مشتمل ہوگی جن میں سے نصف کا انتخاب مجلس شوریٰ اپنے ارکان میں سے کرے گی بقیہ نصف امیر جماعت مرکزی مجلس شوریٰ کے ارکان میں سے نامزد کرے گا۔ امیر جماعت اس کا صدر ہوگا، قیم جماعت بربنائے عہدہ اس کا رکن اور معتمد ہوگا اور نائب امراء (اگر کوئی ہوں) اور امرائے صوبہ بربنائے عہدہ اس کے رکن ہوں گے۔
(۲)کوئی شخص جس کی مرکزی مجلس ِ شوریٰ کی رکنیت ختم ہو جائے مجلس عاملہ کا رکن نہیں رہ سکے گا۔
(۳)مجلس عاملہ کا اجلاس امیر جماعت جب اور جتنی مرتبہ چاہے طلب کرسکتا ہے۔
(۴)مجلس عاملہ کے اجلاس کے لیے حاضری کا نصاب دس (۱۰) ہوگا جن میں کم از کم پانچ (۵) غیر عہدے دار ارکان شامل ہوں گے۔
(۵)مجلس ِ شوریٰ کے ہر نئے انتخاب کے بعد مجلس عاملہ از سر نو مرتب کی جائے گی۔
(۶)ایسے تمام حالات میں جب کہ مجلس ِ شوریٰ کا اجلاس نہ ہو رہا ہو‘ یا طلب کرنا مشکل ہو‘ مجلس عاملہ‘ مجلس ِ شوریٰ کے جملہ اختیارات (بہ ا ستثنائِ ترمیم دستور و عزلِ امیر) استعمال کر سکے گی۔ البتہ مجلس ِ شوریٰ کو پورا اختیار ہوگا کہ اس کے کسی اقدام یا فیصلے کی توثیق کرے یا اس کو جزوی یا کلی طور پر نامنظور کر دے۔

۵۔ قیّمِ جماعت
(Secretary General)

دفعہ ۳۵:    تقرر‘ برطرفی اور فرائض و اختیارات:۔   (۱)جماعت اسلامی پاکستان کا ایک قیّم ہوگا جسے امیر جماعت مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے منتخب کرے گا۔
(۲)قیّم جماعت اسی وقت تک اپنے منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک کہ امیر جماعت اس کے کام سے مطمئن رہے‘ مگر اس کی برطرفی مجلسِ شوریٰ یا مجلس عاملہ کے مشورے سے ہوگی۔
(۳)مجلس ِ شوریٰ قیّم جماعت کو عدم اعتماد کی قرار داد کے ذریعے معزول کرسکے گی، بشرطیکہ امیر جماعت کے اس سے متفق نہ ہونے کی صورت میں قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ارکان شوریٰ کی تعداد مجلس کے کل ارکان کی تعداد کے نصف سے کم نہ ہو۔
(۴)قیّم جماعت جملہ معاملات میں امیر جماعت کا مددگار اور اس کا نمائندہ ہوگا، وہ تمام فرائض انجام دے گا اور اختیارات استعمال کرے گا جو امیر جماعت اس کے سپرد کرے اور اپنے کام کے لیے امیر جماعت کے سامنے جواب دہ ہوگا۔
(۵)قیّمِ جماعت اپنے عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے امیر جماعت کے روبرو وہ حلف اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۳ میں درج ہے۔

نائب قیم
دفعہ ۳۶: (۱) امیر جماعت کو اختیار ہوگا کہ وہ ایک یا اس سے زیادہ نائب قیّم مقرر کرے اور ان پر قیّم کے فرائض اور اختیارات میں سے جس قدر چاہے تقسیم کر دے۔
(۲)قیّم جماعت کی غیر موجودگی میں جس نائب قیّم کو امیر جماعت قائم مقام قیّم مقرر کرے، اس کی حیثیت وہی ہوگی جو اس دستور میں قیّم جماعت کو دی گئی ہے۔


۶۔ مرکزی شعبوں کے ناظمین

        تقرر‘ برطرفی اور فرائض و اختیارات
دفعہ ۳۷: (۱)ہر مرکزی شعبہ بالعموم ایک الگ ناظم کے ماتحت ہوگا جس کا تقرر امیر جماعت اپنی صوابدید سے کرے گا۔
(۲)ایک ناظم شعبہ اسی وقت تک اپنے منصب پر قائم رہ سکے گا، جب تک امیر جماعت اس کے کام سے مطمئن رہے۔
(۳)ناظمین شعبہ جات کے فرائض و اختیارات کا تعین امیرجماعت کرے گا۔


 ۷۔ الیکشن کمیشن


       
الیکشن کمیشن کی تشکیل

دفعہ ۳۷    ا : (۱)  جماعت اسلامی پاکستان کے امیر، مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ کے انتخاب کے لیے ایک ناظم انتخاب اور ۴ ارکان پر مشتمل ۵ رکنی انتخابی کمیشن ہوگا۔
(۲)کمیشن کی تشکیل مجلس شوریٰ اپنے انتخاب کے بعد پہلے اجلاس میں کرے گی۔ ناظم انتخاب اور کمیشن کے چاروں ارکان ضمیمہ نمبر۲ الف کے مطابق اپنی ذمہ داری کا حلف اٹھائیں گے۔

 ۸۔ الیکشن  ٹریبونل

دفعہ ۳۷   ب:(۱) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر، مرکزی مجلس شوریٰ اور مرکزی مجلس عاملہ کے انتخاب سے متعلق عذرداریوں کے لیے ایک صدر اور ۴ارکان پر مشتمل ایک ۵ رکنی انتخابی ٹریبونل ہوگا۔
(۲)ٹریبونل کی تشکیل مجلس شوریٰ اپنے انتخاب کے بعد پہلے اجلاس میں کرے گی۔ ٹریبونل کا صدر اور چاروں ارکان ضمیمہ ۲ ب کے مطابق اپنی ذمہ داری کا حلف اٹھائیں گے۔
٭…٭…٭

حصہ چہارم۔۔

صوبائی نظم      

۱۔ حدود اور نظام

دفعہ ۳۸:   (۱)پاکستان کو جماعت کی تنظیمی ضروریات کے لیے تنظیمی صوبوں میں تقسیم کیا جاسکے گا۔
(۲)صوبے کا نظام امیر صوبہ‘ صوبے کی مجلس ِ شوریٰ اور قیّم صوبہ پر مشتمل ہوگا۔ الاّیہ کہ حالات عارضی طور پر کسی دوسرے انتظام کے متقاضی ہوں۔
(۳)صوبے کے ارکان جماعت پر نظم صوبہ کی اطاعت لازم ہوگی۔

۲- امیر صوبہ
(Provincial Ameer)

دفعہ ۳۹:  صوبے کے نظم کا ذمہ دار ایک امیر ہوگا جو امیر صوبہ کہلائے گا۔ اس کی حیثیت اپنے صوبے میں امیر جماعت کے نمائندے کی ہوگی اور وہ امیر جماعت کے سامنے جواب دہ ہوگا۔

    عزل و نصب
 دفعہ ۴۰:  (۱) امیر صوبہ کا عزل و نصب امیر جماعت کے اختیار میں ہوگا اور وہ اس میں جماعتی مصالح کے ساتھ ارکانِ صوبہ کی رائے کو زیادہ سے زیادہ ملحوظ رکھے گا۔
(۲)امیر صوبہ کا تقرر ۳ سال کے لیے ہوگا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس